فتنہ کا اشتعال
علی محمد الصلابیجھوٹے حاقد و فسادی، حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو کوفہ کی ولایت سے برطرف کرانے میں کامیاب ہو گئے، اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا نیا گورنر مقرر فرما دیا۔ حضرت سعید رضی اللہ عنہ کوفہ پہنچ کر منبر پر تشریف لائے اور خطاب فرمایا: حمد و صلاۃ کے بعد، اللہ کی قسم میں تمہارے پاس گورنر بنا کر بھیجا گیا ہوں حالاں کہ یہ مجھے ناپسند ہے، لیکن جب امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھے حکم دیا تو میرے پاس تسلیم و تنفیذ کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا۔ خبردار! فتنہ و فساد تمہارے درمیان سر اٹھا چکا ہے، اللہ کی قسم میں اس کو ختم کر کے رہوں گا، الا یہ کہ وہ غالب آجائے، آج میں اپنے نفس کا رہنما ہوں۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 280)
حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے حالات کا جائزہ لیا، تفصیلات حاصل کیں، اور لوگوں کی توجہات کو پہچانا، کوفہ کے اندر فتنہ و فساد کے گھر کرنے، مکر و فریب اور جعل سازی میں خوارج، حاقدین، فسادی اور اعدائے اسلام کی قوت اور پھر رائے عامہ پر فسادیوں، رذیلوں اور بدوؤں کے غلبہ کا اندازہ لگایا۔
(الخلفاء الراشدون: الخالدی: صفحہ 122)
حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان غنیؓ کو خط لکھ کر کوفہ کے ناگفتہ بہ حالات سے باخبر کیا، اس خط میں آپؓ نے تحریر کیا: ’’کوفیوں کا معاملہ مضطرب ہے، فضل و سبقت اور شرف والے مغلوب ہیں، اور اس شہر پر رذیلوں اور بدوؤں کا غلبہ ہے۔ شرف و سبقت والوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے، ان کی کوئی حیثیت نہیں…‘‘
اس خط کا عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب تحریر کیا، اور ان سے مطالبہ کیا کہ لوگوں کی پوزیشن کو نئی ترتیب دیں اور سبقت و جہاد کی بنیاد پر ان کی درجہ بندی کریں، علم و صدق اور جہاد والوں کو دوسروں پر مقدم رکھیں۔ اور اس خط کے اندر آپ نے لکھا: سبقت و جہاد کے حاملین کو فضیلت و فوقیت دو، جن ہاتھوں سے اللہ تعالیٰ نے اس ملک پر فتح عطا کی ہے اور فتح کے بعد جو بدو وہاں آ کر آباد ہوئے ہیں، انہیں مجاہدین سابقین کے بعد رکھو، الا یہ کہ سابقین الی الاسلام جہاد و حق سے تھک چکے ہوں اور اسے چھوڑ کر بیٹھ گئے ہوں اور بعد والوں نے اس کو سنبھال لیا ہو۔ ہر انسان کے مقام و مرتبہ کی حفاظت کرو، اور ہر ایک کو ان کا حق دو، لوگوں کی معرفت ہی سے ان کے درمیان حق قائم ہو گا۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 280)
حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے امیر المؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی ان توجیہات و تعلیمات کی تنفیذ کی، اور اپنی کارکردگی سے خلیفہ کو باخبر کیا۔ حضرت عثمان غنیؓ نے مدینہ میں اہل حل و عقد کو جمع کیا اور انہیں کوفہ کی صورت حال اور وہاں فتنہ و فساد کے جڑ پکڑنے اور اس سے مقابلہ کے لیے حضرت سعیدؓ کی کارروائی کی اطلاع دی۔ لوگوں نے آپ کی تائید کرتے ہوئے کہا: آپ نے جو کچھ کیا اچھا کیا، آپ فسادیوں کی کوئی مدد نہ کریں، لوگوں پر انہیں مقدم نہ کریں، اور جس منصب کے وہ اہل نہیں وہ منصب انہیں نہ دیں، کیوں کہ جو شخص جس منصب کا اہل نہیں اگر وہ منصب اسے مل گیا تو وہ اسے قائم نہیں کر سکتا، اسے برباد کر دے گا۔ حضرت عثمان غنیؓ نے ان سے کہا: اے مدینہ والو! لوگ فتنہ و فساد برپا کرنے کے لیے حرکت میں آ چکے ہیں، ان سے مقابلہ کے لیے تیار ہو جاؤ اور حق کو مضبوطی سے تھام لو، میں اس کی خبریں اول بہ اول آپ لوگوں کو دیتا رہوں گا۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 281)