مناقشہ سوم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مناقشہ سوم

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 1 از 3

حدیثِ شریف میں آتا ہے کہ:  

فَإِنَّهُ مَن یَعِش مِنکُم بَعدِی فَسَیَرَی اختِلَافًا کَثِیرًا، فَعَلَیکُم بِسُنَّتِی وَ سُنَّۃِ الخُلَفَاءِ الرَّاشِدِینَ المَھدِیِّینَ، تَمَسَّکُوا بِھا وَعَضُّوا عَلَیھا بِالنَّوَاجِذِ 

(جامع ترمذی: جلد2 صفحہ92 کتاب العلم، باب ما جاء فی الاخذ بالسنۃ الخ، سنن ابی داؤد: جلد 2 صفحہ 279 کتاب السنۃ، باب لزوم السنۃ، مشکوٰۃ المصابیح: صفحہ30 کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، ابنِ ماجہ: صفحہ5 باب اتباع سنۃ الخلفاء الراشدین المہدیین، مستدرک حاکم: جلد 1 صفحہ 95)  

ترجمہ: تم میں سے جو شخص میرے بعد زندہ رہا وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا اس لیے میری سنت اور میرے بعد خلفائے راشدینؓ جو ہدایت یافتہ ہیں، کی سنت کو لازم پکڑو اور اس کو دانتوں سے مضبوط تھام لو۔

مصنفِ نام و نسب مذکورہ بالا حدیثِ مبارکہ نقل کرنے کے بعد ارقام فرماتے ہیں:  

آنحضرتﷺ کے اس ارشادِ گرامی کے مطابق اس کی سنت کا اتباع ضروری ہو گا، جس کے عہدِ اقتدار میں خلفائے راشدینؓ کی معنویت پائی جائے اور جس کے دورِ اقتدار میں خلافتِ راشدہ کا رنگ ڈھنگ نہ ہو، اس کی سنت کا اتباع نہ کیا جائے گا اور پھر یہ حکم دورِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، تابعینؒ اور تبع تابعینؒ تک ہی محدود نہیں، اس کے مخاطبین اول صحابہ کرامؓ اور پھر قیامت تک آنے والی امتِ مسلمہ ہے۔ 

(بالکل یہی بات جناب محمود احمد عباسی بھی فرماتے ہیں اور مصنفِ نام و نسب اس باب میں ضرور جناب عباسی کے ہم نوا و ہم عقیدہ ہیں عباسی صاحب حدیث فَعَلَیکُم بِسُنَّتِی الخ کے تحت ارقام فرماتے ہیں: 

جن لوگوں نے راشدون کی تعداد چار مقرر کر دی ہے وہ بے دلیل ہے، بلکہ اسے بھی چوتھی صدی ہجری کی اختراع کہنا چاہیے، کیونکہ تمام نصوصِ صریحہ و ثابتہ اور تعاملِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف ہے راشدون کی نہ کوئی تعداد معین ہے اور نہ اس سلسلے میں زمانے کی کوئی تحدید ہے، بلکہ اس امر کی صراحت ہے کہ یہ سلسلہ صدیوں تک رہے گا۔

(حقیقتِ خلافت و ملوکیت: صفحہ، 11)

اس تفصیلی جائزے سے ایک منصف مزاج اور ذی عقل انسان بنو امیہ کی دینی حیثیت و مقام کا خود اندازہ کر سکتا ہے۔ اگر آپ بھی کوئی شک و شبہ ذہن کے کسی گوشے میں جاگزین ہو، جبکہ ہم نے اپنی طرف سے کچھ نہیں کہا، تو ایسی صورت میں ان افراد کے لیے ہم بارگاہِ ایزدی میں یہی دعا کر سکتے ہیں:  

بہ ایں بے حاصلان یادانشے یا مرگِ نا گاہے

(نام و نسب: صفحہ555)

الجواب: مصنفِ نام و نسب نے اپنی کمالِ فیاضی اور زورِ اجتہاد سے پوری امتِ مسلمہ کو (سوائے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے) اس حدیثِ مبارکہ کے عموم میں داخل کر دیا ہے حالانکہ کسی آیت یا حدیث کے عموم و خصوص کا فیصلہ اکابرِ علمائے امت، حضراتِ محدثین و فقہائے کرامؒ کا فریضہ ہے خود مصنف نام و نسب بھی اصولی طور پر ہمارے اس بیان کو تسلیم کرتے ہیں چنانچہ فسقِ یزید کے بیان میں حدیث مغفور لھم پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:  

(کسی) حدیث کا مطلب 1400 سال گزرنے کے بعد تبدیل نہیں ہو سکتا شارحینِ حدیث جن کے قلوب مفہومِ حدیث کے امین تھے اور جنہوں نے حدیث کی خدمت و اشاعت میں اپنی پوری زندگیاں گزار دیں، وہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ حدیث کا مفہوم و مطلب بیان کریں۔

(نام و نسب: صفحہ508)

ہمارا بھی مصنفِ نام و نسب کو یہی مشورہ ہے کہ کم از کم اپنی ہی کہی بات پر تو عمل کریں آئیے جمہورِ محدثین کی تشریح و توضیح میں یہ معلوم کریں کہ (موعودہ) خلفائے راشدینؓ کتنے بزرگ ہیں؟ زیرِ بحث حدیث کے سلسلے میں حضراتِ محدثین کی تحقیق کیا ہے؟ اور کون کون سے بزرگ ان کے نزدیک اس حدیث کے عموم میں داخل ہیں؟

حضراتِ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم آنحضرتﷺ کے مسلسل و بلا فصل جانشین ہیں، انہیں ائمہ اربعہ بھی کہا جاتا ہے۔ ان کی حکومت مطلق حکومت نہیں، بلکہ خلافت علیٰ منہاج النبوۃ ہے اور امتِ مسلمہ شروع ہی سے ان چار بزرگوں (یعنی حضراتِ شیخینؓ و حضراتِ ختنینؓ) کو جانشینِ رسولﷺ اور ان کی خلافت کو تتمہِ مصطفویﷺ سمجھتی آئی ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ (متوفی 1176ھ) لکھتے ہیں:  

ایام خلافت بقیہ ایام نبوت بودہ است۔

(ازالۃ الخفاء: جلد 1 صفحہ 100)  

ترجمہ: خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خلافت کا زمانہ بقیہ زمانہِ نبوت تھا۔

سیدنا حسنؓ کا عہدِ خلافت، خلافتِ راشدہ کا تتمہ و تکملہ تھا اس سے مراد یہ نہیں کہ آپؓ کی خلافت، خلفائے اربعہ کی طرح قرآن کی موعودہ خلافتِ راشدہ ہے اس خلافتِ راشدہ کا تتمہ اس لیے کہا گیا کہ خلافتِ راشدہ کے بعض مقاصد کی تکمیل (سیدنا معاویہؓ کے ساتھ مصالحت، جس کی پیش گوئی حدیثِ شریف میں مذکور ہے) آپؓ کے عہدِ خلافت میں ہوئی تھی دوسرا آپ کا عہدِ خلافتِ تامہ بھی نہیں تھا، کیونکہ آپؓ نے قمیصِ خلافت اتار کر سیدنا امیرِ معاویہؓ کے حوالے کر دی خود خلافت سے دستبردار ہو کر ان کے ہاتھ پر بیعت فرمائی۔ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا عہدِ خلافت ایک مثالی عہدِ خلافت تھا جس میں کتاب و سنت کو آئینی بالا دستی حاصل تھی، لیکن آپؓ کا عہدِ خلافت استخلافاً نہیں بلکہ صلحاً وجود میں آیا تھا خلافتِ راشدہ (موعودہ) کے لیے جن اوصاف کا پایا جانا ضروری ہے، وہ سوائے مہاجرین کے اور کسی میں نہیں پائے جاتے اور سوائے خلفائے اربعہ کے کوئی بھی خلیفہ ان صفات سے متصف نہیں ہے اس لیے خلفائے راشدینؓ صرف چار ہیں جو قرآنِ پاک کی آیتِ تمکین و استخلاف کے مصداق ہیں۔

صفحہ 1 از 3