عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں مالی نظام
علی محمد الصلابیاولاً: ذرائع آمدن
1۔ زکوٰۃ
زکوٰۃ اسلام کے مالی نظام کا اہم ترین عنصر ہے، زکوٰۃ کی فرضیت کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں سے ثابت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَـهُ الدِّيۡنَ حُنَفَآءَ وَيُقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوا الزَّكٰوةَ وَذٰلِكَ دِيۡنُ الۡقَيِّمَةِ ۞ (سورۃ البينة آیت 5)
ترجمہ: اور انہیں اس کے سوا کوئی اور حکم نہیں دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت اس طرح کریں کہ بندگی کو بالکل یکسو ہو کر صرف اسی کے لیے خاص رکھیں، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، اور یہی سیدھی سچی امت کا دین ہے۔
زکوٰۃ ارکان اسلام میں سے اہم رکن ہے اور اس کی فرضیت پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مانعین زکوٰۃ کے خلاف قتال کرنے پر اتفاق کیا۔
(المغنی و الشرح الکبیر: جلد 2 صفحہ 434۔ التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 64)
لوگوں سے زکوٰۃ وصول کرنے اور اسے خرچ کرنے کی ذمہ داری سلطان وقت کو تفویض کی گئی ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زکوٰۃ جمع بھی فرمایا کرتے اور پھر اسے تقسیم بھی فرمایا کرتے تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بھی یہ سلسلہ برقرار رکھا، پھر جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں اموال کی کثرت ہو گئی تو انہوں نے اموال باطنہ سے متعلقہ امور کو امام کے وکلاء کے حوالے کر دیا جبکہ اموال ظاہرہ مثلاً کھیتیاں اور مویشی و غیرہا کی زکوٰۃ حکومت وصول کرتی اور وہی اسے خرچ بھی کیا کرتی تھی۔
(بدائع الضائع فی ترتیب الشرائع از کسانی: کتاب الزکوٰۃ: جلد 2 صفحہ 820)
سیدنا ابوبکر اور عثمان رضی اللہ عنہما کے بارے میں وارد ہے کہ وہ خود زکوٰۃ وصول کیا کرتے تھے۔
(کتاب الاموال، از ابو عبید قاسم بن سلام: صفحہ 372، 373)
پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اس بارے میں اختلاف رونما ہوا کہ مقامی ولاۃ کو زکوٰۃ دی جائے یا نہیں؟
(ایضاً: صفحہ 504 تا 511)
یہ اختلاف اموال باطنہ کے بارے میں تھا جہاں تک اموال ظاہرہ کا تعلق ہے تو ان کی زکوٰۃ حکومت ہی وصول کیا کرتی تھی۔ چونکہ اموی دورِ حکومت میں بعض لوگ ولاۃ الامور کو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تھے، لہٰذا اس کے نتیجہ میں زکوٰۃ کی وصولی میں کمی واقع ہو گئی۔ یاد رہے کہ اس سے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا دورِ حکومت مستثنیٰ ہے لوگوں نے جب ان کی ولایت کی خبر سنی تو وہ حکومت کو زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے دوڑتے چلے آئے۔
(عمر بن عبدالعزیز از ابن جوزی: صفحہ 104۔ التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 65)
اسی طرح ان کے عہد حکومت میں سرکاری محاصل میں زکوٰۃ کا کردار پہلے سے کئی گنا بڑھ گیا، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اموی دورِ حکومت کے تمام عرصے میں زکوٰۃ کے اہم کردار سے چشم پوشی کی گئی تھی، اگرچہ اس کی وصولی میں خاصی کمی واقع ہوئی تھی مگر متعدد دلائل اس کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور وہ اس طرح کہ زکوٰۃ اموی اقتصاد کے دو مرکزی ذرائع سے وصول کی جاتی تھی اور وہ تھے زراعت اور تجارت۔
(کتاب الخراج: صفحہ 271، 272)
اس کی اہمیت اس امر سے بھی واضح ہوتی ہے کہ اس کے لیے دیوان صدقات کے نام سے ایک خاص دیوان قائم کیا گیا۔
(النظم الاسلامیۃ: انور الرفاعی: صفحہ 82، 83)
یہ دیوان زکوٰۃ اور صدقات کے امور کی نگرانی کرتا جو مالی طور سے مستحکم لوگوں سے وصول کیے جاتے اور قرآن و سنت کی رو سے اس کے مستحقین پر خرچ کیے جاتے تھے۔
(الدواوین فی العصر الاموی: نجم المسعودی: صفحہ 61)
بتایا جاتا ہے کہ اس کا آغاز ہشام بن عبدالملکؒ کے دورِخلافت میں ہوا، یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس کے دور میں دیوان صدقات و زکوٰۃ کا نگران اسحاق بن قبیصہ بن ذؤیب تھا۔ زکوٰۃ کی مد سے آمدن کی پوری تفصیل فراہم نہ ہو سکنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سرکاری طور سے اس کا اندراج نہیں کیا جاتا تھا بلکہ وہ ساری کی ساری یا اس کا زیادہ حصہ اسی وقت اس کے مستحقین میں تقسیم کر دیا جاتا۔
(التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 66)
عمومی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اموی عہد حکومت میں نظام زکوٰۃ شرعی اصولوں کے تابع تھا۔ زکوٰۃ کی مد میں ہونے والے محاصل حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دورِ خلافت میں اپنی آخری حدود کو چھونے لگے، چونکہ ان کے دور میں حکومت عملی طور پر نفاذ اسلام کے لیے حریص تھی، لہٰذا لوگ اس پر اعتماد کرتے ہوئے اسے زکوٰۃ ادا کرنے میں جلدی دکھانے لگے اور پھر چونکہ لوگ یہ کام اپنی خوشی سے ازخود کیا کرتے تھے، لہٰذا وصولی زکوٰۃ کے اخراجات میں بھی خاصی کمی واقع ہو گئی۔ یوں اخراجات کی کمی اور محاصل کی کثرت نے زکوٰۃ کی آمدن میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا۔
(ایضاً: صفحہ 66)