اصحاب ثلاثہ رضوان اللہ علیہم کی مشترکہ تعریف - ردِ رافضیت |…

اصحاب ثلاثہ رضوان اللہ علیہم کی مشترکہ تعریف

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 3

حضرت امیر المؤمنین علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے جہاں اصحابِ ثلاثہؓ کی فرداً فرداً اپنے اقوال میں تعریف فرمائی ہے وہاں مشترکہ اوصاف کا بیان بھی ان کے خطبات میں پایا جاتا ہے جو ان کے فضائل کا بین ثبوت ہے۔ اس لیے اب ہم ایسی روایات لکھیں گے جو کتبِ شیعہ میں اصحابِ ثلاثہؓ کے اوصاف میں مشترکہ پائی جاتی ہیں۔ اول نہج البلاغت: جلد 1، صفحہ 149 میں ہے:

لَقَدْ عَهِدْتُ أَقْوَامًا فِی عهد خَلِيلِیﷺ مُرة الْعُيُون من البكاء وَ حَمْصَ البُطُونَ مِنَ الصِّيَامِ ذبل الشَّفَاءِ مِنَ الدُّعَاءِ صُفْرَ الَّا لُوَانِ مِنَ الشَّهْرِ عَلَى وُجُوهِهِمْ غَبَرَةُ الْخَاشِعِينَ أُولَئِكَ إِخْوَانِی الذَّاهِبُونَ فَحَقَّ لَنَا أَنْ نَظُمَاَ إِلَيْهَمُ و نَعَضُ الْأَيْدِی عَلَى فِرَاقِهِمْ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَسَنی لَكُمْ طُرُقَهُ وَيُرِيدُ أَنْ يُحِلُّ دِينَكُمْ عُقْدَةً عُقْدَةً وَ يُعْظِيَكُم بِالْجَمَاعَةِ الْفُرقَةَ فَاصْدِقُوا عَنْ نَزْغَاتِهِ وَاقْبِلُو النَّصِيحَةَ مِمَّنْ أَهْدَاهَا إِلَيْكُمْ وَاعْقِلُوهَا عَلَى أَنفُسِكُم۔

ترجمہ: میں نے آنحضرتﷺ کے اصحاب کو دیکھا ہے۔ کثرت گریہ سے ان کی آنکھیں خیرہ ہو گئی تھیں۔ روزہ داری کی وجہ سے ان کے پیٹ خالی ہو گئے تھے۔ دعا کرتے کرتے اُن کے ہونٹ خشک ہو گئے تھے۔ شب بیداری کے سبب ان کے چہرے زرد تھے۔ کثرت سجود کے باعث ان کے چہرے خاک آلود رہتے تھے۔ وہ لوگ میرے بھائی تھے جو گزر گئے کہ ان کی ملاقات کی پیاس رکھیں اور اُن کے فراق میں دانتوں سے ہاتھ کاٹیں، شیطان تمہارے لیے راستہ پیدا کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ دین کی رسی کو پارہ پارہ کر دے اور تمہاری جماعت میں تفرقہ ڈال دے تم اس کے وساوس سے بچو اور اپنے راہنما کی نصیحت مانو اور اپنے دلوں میں گرہ کر لو۔

اس خطبہ میں جناب امیرؓ نے اصحابِ رسولﷺ کی جو فوت ہو گئے ہیں بے حد تعریف فرمائی ہے کہ وہ قائم اللیل، صائم النہار تھے۔ خشیتِ الٰہی ان کے رگ و ریشہ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ گریہ و زاری میں ہمیشہ سر بسجود رہتے تھے۔ وہ میرے بھائی تھے۔ ان کے فراق کا دل میں سخت صدمہ ہے۔ پھر مسلمانوں کو نصیحت فرمائی کہ شیطان تم کو گمراہی میں ڈالنا چاہتا ہے اور جماعت میں تفرقہ ڈالنے کے درپے ہے شیطان کی پیروی مت کرو اور جماعت سے علیحدگی اختیار مت کرو۔

شیعہ حضرات بتائیں کہ کیا اصحابِ ثلاثہؓ ان افراد میں داخل تھے یا نہ؟ اور یہ اوصاف ان میں پائے جاتے ہیں یا نہیں؟ بیشک حضرت امیر رضی اللہ عنہ کے اپنے ان بھائیوں خلفائے ثلاثہؓ کی فرقت کا دل میں رنج تھا ان کے اوصاف یاد کر کے دل کو تسکین دیتے تھے اور مسلمانوں کو ان کے طریقے پر چلنے اور جماعت میں ملے رہنے کی ترغیب دیتے تھے شیعہ کے نزدیک تو صرف معدودے چند، ابوذر، مقداد، سلمان فارسی رضوان اللہ علیہم کے سوائے اصحابِ رسول سے کوئی مسلمان ہی نہ رہا تھا۔ پھر وہ اقوام جن میں یہ اوصاف تھے۔ کہاں تھیں؟ جن کی وفات کا جناب امیر رضی اللہ عنہ کو از حد رنج تھا۔ اس میں کلام نہیں ہے کہ وہ لوگ جن میں یہ اوصاف تھے خلفائے رسول اور ان کے پیروانِ دین تھے۔ جن کو شیعہ معاذ اللہ کافر کہتے ہیں اور ناصح مشفق جناب امیر رضی اللہ عنہ کی نصیحت کی پرواہ نہ کر کے شیطان کے متبع ہو کر سواد اعظم سے علیحدگی کر بیٹھے۔ (خدا ہدایت کرے)

دوم نہج البلاغت جلد 2 صفحہ 8 میں ہے:

وَمِنْ كَلَامٍ لَهُ عَلَيْهِ السَّلَامِ إِلَى مَعَاوِيَةَ أَنَّهُ بَايِعُنِى الْقَوْمَ الَّذِينَ بَايَعُو أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانٌ عَلَى مَا بَايَعُو هُمْ عَلَيْهِ وَلَمْ يَكُنُ لِلشَّاهِدِ أَنْ يَخْتَارَ وَلَا لِلْغَائِبِ أَنْ يُرَدَّ إِنَّمَا الشَّورى لِلْمَهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فَإِنِ اجْتَمَعُوا عَلَى رَجُلٍ وَسَمَّوهُ إِمَامًا كَانَ ذَلِكَ لِلَّهِ رَضِي فَإِنْ خَرَجَ عَنْ أَمْرِ هِمْ خَارِجٌ بِطَعْنِ أَوْ بِدُعَةً رُدُّهُ إِلَى مَا خَرَجَ مِنْهُ فَإِن أَبَى قَاتِلُوهُ عَلَى اتَّبَاعِهِ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ وَوَلَّاهُ اللَّهُ مَا تَوَلَّى۔

ترجمہ: جناب امیر رضی اللہ عنہ کے ان خطوط سے جو امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو آپ نے لکھے، یہ بھی تھا کہ میری بیعت اسی قوم نے اس امر پر کی ہے جس پر انہوں نے ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ سے کی تھی۔ اب کسی حاضر یا غائب کو اس بیعت کے رد کرنے کا اختیار نہیں ہے اور شوریٰ مہاجرین و انصار ہی کا حق ہے کہ جس شخص کی بیعت پر ان کا اتفاق ہو جائے اور اس کو امام بنالیں، خدا کو بھی وہی منظور ہے۔ اس متفقہ خلیفہ کی اطاعت سے کسی طعن یا بدعت کے باعث انحراف کرے اہلِ شوریٰ کا حق ہے کہ اسے اس خلیفہ کی اطاعت پر مجبور کریں اور مسلمانوں کا راستہ چھوڑ دینے پر اس سے لڑیں۔

صفحہ 1 از 3