کیا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا شمار بارہ خلیفوں میں ہوتا ہے؟
علی محمد الصلابیعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ رضی اللّٰه عنہ دَخَلْتُ مَعَ أَبِیْ عَلَی النَّبِیِّ صلي الله عليه وسلم فَسَمِعْتُہٗ یَقُوْلُ: إِنَّ ہٰذَا الْأَمْرُ لَا یَنْقَضِیْ حَتّٰی یَمْضِیَ فِیْہِمْ اِثْنَا عَشَرَ خَلِیْفَۃً، قَالَ: ثُمَّ تَکَلَّمَ بِکَلَامٍ خَفِیٍّ عَلَيَّ، قَالَ: فَقُلْتُ لِأَبِیْ، مَا قَالَ: قَالَ: کُلُّہُمْ مِنْ قُرَیْشٍ۔
(صحیح مسلم مع شرح النووی: جلد 12 صفحہ 202، 203)
و فی روایۃ أخری عن جابر: لَایَزَالُ الْإِسْلَامُ عَزِیْزًا إِلٰی اَثْنٰی عَشَرَۃَ خَلِیْفَۃً… کُلُّہُمْ مِّنْ قُرَیْشٍ۔
(صحیح مسلم مع شرح النووی: جلد 12 صفحہ 202، 203)
و فی روایۃ أخری عنہ: لَا یَزَالُ ہٰذَا الدِّیْنُ عَزِیْزًا مَنِیْعًا إِلٰی اَثْنٰی عَشَرَۃَ خَلِیْفَۃً…کُلُّہُمْ مِنْ قُرَیْشٍ۔
(صحیح مسلم مع شرح النووی: جلد 12 صفحہ 202، 203)
زَادَ أَبُوْداؤد فی سننہ بإسنادہ عَنْ جَابِرٍ رضی اللّٰه عنہ قَالَ: فَلَمَّا رَجَعَ إِلٰی مَنْزِلِہٖ أَتَتْہُ قُرَیْشٌ فَقَالُوْا: ثُمَّ یَکُوْنُ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ یَکُوْنُ الْہَرَجُ۔
(صحیح سنن أبی داود للألبانی: جلد 3 صفحہ 807، سنن أبی داود مع شرحہا عون المعبود: جلد 11 صفحہ 249)
’’جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میں اپنے والد کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو آپﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: بلاشبہ یہ معاملہ (دین کی قوت) ختم نہیں ہوگا تاآنکہ بارہ خلیفہ گزر جائیں۔ کہتے ہیں کہ پھر آپﷺ نے ایک بات فرمائی جو مجھ پر مخفی رہی۔ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے پوچھا: آپﷺ نے کیا فرمایا؟ (جواب دیا) آپﷺ نے فرمایا: سب کے سب قریش سے ہوں گے۔
اور جابر رضی اللہ عنہ کی دوسری روایت میں ہے اسلام بارہ خلفاء تک غالب رہے گا، سب کے سب قریش کے ہوں گے۔
انھیں کی دوسری روایت ہے: بلاشبہ یہ دین غالب و مضبوط رہے گا بارہ خلفاء تک، وہ سب کے سب قریش کے ہوں گے۔
امام ابوداؤدؒ نے اپنی سنن میں اپنی سند سے جابر رضی اللہ عنہ کی روایت کا اضافہ ذکر کیا ہے، راوی کہتے ہیں کہ جب آپ اپنے گھر لوٹے تو آپ کے پاس قریش کے لوگ آئے اور پوچھا: پھر کیا ہو گا؟ آپﷺ نے فرمایا: پھر ہرج یعنی فتنہ و فساد اور قتل و غارت گری ہوگی۔‘‘
ابن کثیر رحمۃاللہ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اس حدیث کا معنیٰ بارہ اچھے خلفاء کے ہونے کی بشارت ہے جو لوگوں میں حق و عدل قائم کریں گے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اور ان کے زمانے مسلسل ہوں گے، بلکہ ان میں سے چار بالترتیب ہوئے اور وہ خلفائے اربعہ ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم ہیں، اور بلاشبہ ائمہ کرام کے نزدیک انھی میں سے عمر بن عبدالعزیز رحمۃاللہ اور بنوعباس کے بعض خلفاء ہیں، ان کی خلافت تک قیامت قائم نہیں ہوگی، ایسا لگتا ہے کہ انھی میں سے مہدی بھی ہیں جن کے آنے کی بشارت حدیثوں میں وارد ہے۔‘‘
ابن کثیر رحمۃاللہ نے جن لوگوں کا ذکر کیا ہے ہم ان میں خامس الخلفاء الراشدین امیر المؤمنین حسن رضی اللہ عنہ کا اضافہ کرتے ہیں اور میں نے اپنی کتاب ’’أسمی المطالب فی سیرۃ أمیرالمومنین علی بن ابی طالب شخصیتہ و عصرہ‘‘ میں مہدی منتظر سے متعلق اہل سنت و شیعہ امامیہ کے عقائد کا تفصیلی جائزہ لیا ہے، جسے تفصیل مطلوب ہو اس کا مراجعہ کرے۔
ابن کثیر رحمۃاللہ نے جو بات ذکر کی ہے اس کی بنیاد پر بارہ خلفاء کے مرحلہ کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس کی مدت دوسرے تمام مراحل کے بیچ بیچ میں آتی رہے گی، اور اس مرحلہ کے خلفاء کا ظہور بالترتیب اور الگ الگ وقتوں میں دونوں طرح ہوگا، یہ اس امت پر اللہ کی رحمت ہے، اور ان کے ظہور کی ابتداء، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سے یعنی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت سے ہوگی اور اس مرحلہ کی انتہا بعد کے زمانہ میں ان میں سے آخری خلیفہ کے ظہور پر ہوگی، جس کی خلافت کے بعد فتنہ و فساد اور قتل و غارت گری کا دور ہوگا۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 165)