مولانا سخاوت علی جونپوری الحنفی رحمۃ اللہ (متوفی 1275ھ) فرماتے ہیں:
بدعت وہ کام خواہ عقیدہ کہ دین کا ہو اور آخرت کا نفع ضرور اس میں سمجھتے ہوں، ثابت نہ ہوا ہو رسولِ مقبولﷺ سے اور آپﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے۔(رسالہ تقویٰ: صفحہ9)
حضرت علامہ تفتازانی رحمۃ اللہ (متوفی 808ھ) فرماتے ہیں:
اِنَّ الْبِدْعَةَ الْمَذْمُومَةَ هُوَ الْمُحْدَثُ فِی الدِّينِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ فِی عَهْدِ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ وَلَا دَلَّ عَلَيْهِ الدَّلِيلُ الشَّرْعِی۔
(شرح المقاصد: جلد2 صفحہ 271 تحت المبحث الثامن حکم المومن والکافر والفاسق)
ترجمہ: مذموم بدعت وہ ہے جو دین کے اندر ایجاد کی جائے اور عہدِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین میں نہ ہو اور نہ ہی اس پر کوئی دلیلِ شرعی دال ہو۔
عبد العزیز فرہاروی رحمۃ اللہ (متوفی 1239ھ) لکھتے ہیں:
هُوَ كُلُّ مَا حَدَثَ فِی الدِّينِ بَعْدَ زَمَنِ الصَّحَابَةِ بِلَا حُجَّةٍ شَرْعِيَّةٍ۔(نبراس: صفحہ 21)
ترجمہ: بدعت ہر وہ چیز ہے جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عہد کے بعد بلا حجتِ شریعہ دین میں نکالی جائے۔
حضرت علامہ ابنِ کثیر رحمۃ اللہ (متوفی 774ھ) فرماتے ہیں:
أَمَّا أَهْلُ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ فَيَقُولُونَ فِی كُلِّ فِعْلٍ وَقَوْلٍ لَمْ يَثْبُتْ عَنِ الصَّحَابَةِ هُوَ بِدْعَةٌ لِأَنَّهُ لَوْ كَانَ خَيْرًا لَسَبَقُونَا إِلَيْهِ لِأَنَّهُمْ لَمْ يَتْرُكُوا خَصْلَةً مِنْ خِصَالِ الْخَيْرِ إِلَّا وَقَدْ بَادَرُوا إِلَيْهَا۔
(تفسیر ابنِ کثیر: جلد 4 صفحہ157 تحت سورۃ فصلت)
ترجمہ: اہلِ سنت والجماعت کا کہنا یہ ہے کہ ہر وہ قول و فعل جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت نہ ہو بدعت ہے، کیونکہ اگر اس کام میں خیر ہوتی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ضرور اس کام میں سبقت لے جاتے، اس لیے کہ انہوں نے نیکی کے کسی پہلو اور عمدہ خصلت کو ترک نہیں کیا، بلکہ وہ ہر کام میں سبقت لے گئے ہیں۔
مفتی اقلیمِ ہند حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمۃ اللہ (متوفی 1376ھ) فرماتے ہیں:
بدعت ان چیزوں کو کہتے ہیں جن کی اصل شریعت میں ثابت نہ ہو، یعنی قرآنِ مجید اور احادیثِ شریفہ میں اس کا ثبوت نہ ملے، اور رسول اللہﷺ اور صحابہ کرامؓ اور تبعِ تابعین کے زمانے میں اس کا وجود نہ ہو۔
(تعلیم الاسلام: حصہ، چہارم صفحہ 24)
حضرت مولانا کریم بخش رحمۃ اللہ (متوفی 1365ھ) فرماتے ہیں:
اصطلاحِ شریعت میں بدعت ہر وہ فعلِ دین ہے جس کو قرونِ ثلاثہ کے اہلِ حق نے اصلاً قبول نہ کیا ہو۔(حقیقۃ الایمان: صفحہ38)
اس لیے سیدنا عبداللہ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ (متوفی 32ھ) کا ارشاد ہے:
اِتَّبِعُوا آثَارَنَا وَلَا تَبْتَدِعُوا فَقَدْ كُفِيتُمْ
(الاعتصام: جلد1 صفحہ59 الباب الثانی فی ذم البدع وسوءمنقلب أصحابہا، تحت الوجہ الثالث من النقل)
ترجمہ: تم ہمارے (یعنی صحابہؓ کے) نشانِ قدم کی اتباع کرو اور بدعات نہ ایجاد کرو، تم جس دین پر ہو وہ تمہیں کافی ہے۔
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ (متوفی 36ھ) فرماتے ہیں:
كُلُّ عِبَادَةٍ لَمْ يَتَعَبَّدْهَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِﷺ فَلَا تَعَبَّدُوهَا۔
(الاعتصام: جلد2 صفحہ366، الباب الثامن فی الفرق بین البدع والمصالح المرسلۃ والاستحسان)
ترجمہ: ہر وہ عبادت جسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نہیں کیا، تم بھی مت کرنا۔
اسی طرح فقہائے کرام رحمہم اللہ علیہم آنحضرتﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عدمِ فعل کو ایک مستقل ضابطہ اور دلیل سمجھتے ہیں اور اس سے استدلال پکڑتے ہیں چند ایک مقامات دیکھیے:
1: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دعا میں سجع کی رعایت کا دھیان نہ کرنا اور اس سے پرہیز کرتے رہنا، کیونکہ آنحضرتﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دعا میں سجع نہیں کرتے تھے۔
(صحیح البخاری: جلد2 صفحہ938 کتاب الدعوات، باب ما یکرہ من السجع فی الدعاء)
2: عالمگیری میں ہے: سورۃ الکافرون کا آخر تک بالجمع پڑھنا مکروہ ہے، اس لیے کہ وہ بدعت ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین سے منقول نہیں ہے۔
(فتاویٰ عالمگیری: جلد4 صفحہ264،
باب الکراہیۃ، بحوالہ المنہاج و الواضح: صفحہ97)
3: محمد بن عیسیٰ رحمۃ اللہ امام مالک رحمۃ اللہ (متوفی 179ھ) کا اصول نقل کرتے ہیں کہ:
كُلُّ حَدِيثٍ جَاءَكَ عَنِ النَّبِیﷺ لَمْ يَبْلُغْكَ أَنَّ أَحَدًا مِنَ الصَّحَابَةِ فَعَلَهُ فَدَعْهُ
(الفقیہ والمتفقہ: جلد1 صفحہ132،باب القول فیما یرد بہ خبر الواحد)
ترجمہ: ہر حدیث جو تمہیں نبی پاکﷺ سے ملے اور اس پر کسی صحابی کا عمل نہ ہو، اسے چھوڑ دو۔
اس تفصیل سے اتنی بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ اقوال و اعمالِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حجت ہیں ہم غیر مقلدین کو روتے تھے کہ وہ اقوالِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حجت نہیں مانتے تھے، لیکن آج جو سُنّیت کے نام پر ایسے مولوی بھی پیدا ہو گئے ہیں جو خود صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی بدعتی کہہ رہے ہیں، نعوذ باللہ! یعنی اب تک تو حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے طرزِ عمل سے بدعت اور سنت کی شناخت ہوتی تھی، لیکن اب لَعَنَ آخِرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلَهَا کے تحت لوگوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی کو بدعتی کہنا شروع کر دیا مزید حیرانی اس بات پر ہوتی ہے کہ اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نعوذ باللہ بدعتی ہیں تو ان کی اقتداء کا حکم چہ معنیٰ دارد؟
پھر سیدنا امیرِ معاویہؓ پر بدعت کی تہمت جو مجتہد صحابی ہونے کے ساتھ اصحابِ فتویٰ اور کئی احادیث کے راوی ہیں سیدنا عبداللہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: لَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا أَعْلَمَ مِنْ مُعَاوِيَةَ۔
(السنن الکبریٰ للبیہقی: جلد3 صفحہ26 باب الوتر)
ترجمہ: ہم (موجود صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) میں حضرت امیرِ معاویہؓ سے بڑا عالم کوئی نہیں ہے۔
ایک مرتبہ وتر کی بحث میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما ہی نے حضرت امیرِ معاویہؓ کی فقاہت کی تعریف إِنَّهُ فَقِيهٌ
(صحیح البخاری: جلد1 صفحہ 531 ذکر معاویۃ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما)
کہہ کر فرمائی۔
مصنف نام و نسب نے حضرت امیرِ معاویہؓ کو نعوذ باللہ بدعتی کہا، لیکن حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: مَا كَانَ مُعَاوِيَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِﷺ مِهْتَمًّا
(مسند احمد: جلد 4 صفحہ95 مسند الشامیین)
ترجمہ: حضرت امیرِ معاویہؓ حضرت محمدﷺ سے روایت کرنے میں کسی کے ہاں مہتمم نہیں تھے۔
پھر سیدنا امیرِ معاویہؓ کا شمار اصحابِ فتویٰ میں ہوتا ہے۔
(اعلام الموقعین: جلد1 صفحہ5 ابتدائی فصول تدریب الراوی: صفحہ 404 بحث: وأکثر ہم فتیا ابنِ عباس، الاصابہ: جلد1 صفحہ166 مقدمۃ الکتاب، الفصل الثالث)
اچھا، سیدنا امیرِ معاویہؓ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حدیث نقل کی ہیں، جن کی تعداد 163 ہے آپ سے روایت کرنے والوں میں حضرت عبداللہ ابنِ عباس، حضرت عبداللہ ابنِ زبیر، حضرت ابو درداء، حضرت ابو سعید خدری اور حضرت عبداللہ ابنِ عمر رضوان اللہ علیہم اجمعین وغیرہ شامل ہیں۔
(الاصابہ: جلد6 صفحہ122 تحت: بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما،
اسد الغابہ: جلد5 صفحہ223، 224 تحت: معاویۃ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما)
اب ایسے جلیل القدر اور مجتہد صحابی کو بدعتی قرار دینا واقعی بڑے حوصلے کی بات ہے اگر میں آج مہر علی شاہ صاحب (متوفی 1356ھ) کا نام لے کر انہیں بھی بدعتی کہہ دوں تو کیا مہر صاحب کا کوئی عقیدت مند اس الزام کو برداشت کرے گا؟ اور کیا یہ جملہ ان کے حلقہ ارادت میں کہرام برپا نہیں کر دے گا؟ اگر بدعتی کہنا مہر علی صاحب کی ذاتِ سیادت مآب کے شایانِ شان نہیں بلکہ صراحتاً تنقیص، سوءِ ادب و گستاخی ہے، تو کیا کسی صحابی کی شان میں ایسے الزامات زیبا ہیں؟
آپ ہی اپنی اداؤں پر ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی
جواب امر دوم:دوسرا الزام مصنف نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے ذمہ یہ عائد کیا ہے: عیدین میں اذان اور اقامت نہ کہنا سنت ہے، مگر سیدنا امیرِ معاویہؓ نے نمازِ عید سے پہلے اذان اور تکبیر شروع کروا دی۔
الجواب: موصوف جب سیدنا امیرِ معاویہؓ پر تہمت دھر رہے ہوں گے تو ان کا ضمیر کسی درجے میں بھی زندہ ہے تو انہیں ضرور ملامت کر رہا ہو گا کیا اس الزام کی نسبت سیدنا امیرِ معاویہؓ کی جانب صحیح ہے؟ اور کیا یہ حدث جو سیدنا امیرِ معاویہؓ پر عائد کیا گیا ہے، واقعات کے اعتبار سے درست ہے؟ کیا مقامِ طعن میں مجروح و مقدوح روایات فائدہ دیتی ہیں؟ حضرت امیرِ معاویہؓ میں اتباعِ سنت اور نہی عن المنکر کا جذبہ کتنا تھا، اس کے لیے درجِ ذیل کتب کی طرف مراجعت فرمائیں:
مجمع الزوائد (جلد9 صفحہ 357)
مشکوٰۃ (جلد2 صفحہ 105)
مسلم (جلد1 صفحہ288)
المصنف لابنِ ابی شیبہ (جلد 2 صفحہ351)
السنن للدارمی (صفحہ 200)
تاریخ المدینۃ المنورہ (جلد1 صفحہ 132)
الادب المفرد للبخاری (صفحہ144)
مسند امام احمد (جلد 4 صفحہ 93)
ترمذی (جلد2 صفحہ 100)
السنن الکبریٰ للبیہقی (جلد4 صفحہ290)
مسند الحمیدی (جلد2 صفحہ273)
ایسے متبعِ سنت، مجتہد رفیقِ صحابی پر بدعت کی تہمت دھرنا انصاف و دانش مندی ہے؟ اور کیا کسی انسان کی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تو کیا بات ہے، ناکردہ جرم کا انتساب صحیح ہے؟ ہم اس سے زیادہ اور کیا کہیں۔ ہم اس طعن کے جواب میں مصنف نام و نسب سے وہی سوالات کرنا چاہتے ہیں جو محقق العصر، وکیلِ صحابہؓ، سفیرِ اہلِ بیت حضرت اقدس مولانا محمد نافع صاحب نفعنا اللہ بعلومہ نے ناقدین و طاعنینِ سیدنا امیرِ معاویہؓ سے اسی طرح کے سلسلے میں کیے ہیں:
1: پیدا کرنے والے احباب کے ذمے ہے کہ یہ بات واضح کریں کہ اذانِ صلاۃ العید کو کس سن اور کس سال میں جاری کیا گیا؟
2: تمام ممالکِ اسلامیہ میں اس کا اجراء کیا گیا یا صرف بلادِ شام میں؟
(جبکہ کتبِ حدیث کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ، جو کوفہ میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کی طرف سے گورنر تھے، بغیر اذان و اقامت کے نمازِ عید پڑھاتے تھے۔ المصنف عبدالرزاق: جلد 3صفحہ 278، تحت باب: الاذان لہما (عیدین) المصنف لابنِ ابی شیبہ: جلد 2صفحہ 168تحت بحث ہٰذا)
3: جس علاقے میں یہ حکم جاری کیا گیا، اس میں کیا ردِ عمل ہوا؟
4: کیا اس دور کے سب اہلِ اسلام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعین وغیرہم نے اس کو قبول کیا؟ یا مخالفت ہوئی؟
5: پھر اس مخالفت کی وضاحت درکار ہو گی کہ کن حضرات نے مخالفت کی اور کن حضرات نے تائید کی؟
6: خصوصاً اہلِ حرمین نے اس حکم پر عمل کیا یا اس کو رد کیا؟
7: ہاشمی اکابر نے اس سے کیا تاثر لیا؟ تعاون کیا یا تخالف کیا؟ ان تمام تفصیلات کو سامنے لا کر پھر اس کا تجزیہ کرنا ہو گا اور مسئلے کے نشیب و فراز کو پیشِ نظر رکھنا ہو گا یہ چیزیں معترض احباب کے ذمے ہیں کہ ان کو صاف کریں اگر حضرت امیرِ معاویہؓ کے دورِ خلافت کو مطعون کرنا مطلوب ہے تو پھر ان کوائف کو واضح کیجیے، اور اگر اس دور کے اکابرِ امت نے مخالفت کی تھی تو وہ حکم نافذ کیسے ہو سکا؟ نیز اس مخالفت کی وضاحت کسی صحیح حوالے کے ساتھ مطلوب ہے مقامِ طعن میں مجروح و مقدوح روایات کام نہیں دے سکتیں، اور اگر اکابر بشمول بنی ہاشم نے موافقت کی تھی تو اس کے نتیجے میں صرف حضرت امیرِ معاویہؓ ہی نہیں بلکہ ان تمام حضرات پر ارتکابِ بدعت کا طعن وارد ہوتا ہے، جنہوں نے تَعَاوَنُوۡا عَلَى الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ کا ارتکاب کیا، حالانکہ یہ حضرات تَعَاوَنُوۡا عَلَى الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ کرنے والے نہیں تھے۔
(سیرتِ امیرِ معاویہؓ: جلد 2 صفحہ 326، 327 تحت: خطبہ و اذان قبل العید)
اس بحث کے آخر میں ہم مصنف نام و نسب سے تین باتیں مزید کہنا چاہتے ہیں:
1: مصنف نام و نسب نے ایک بے سند قول پیش کر کے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو بدعتی کہہ دیا، حالانکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مقام تو اتنا بلند ہے کہ اگر کسی حدیث سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ذواتِ مقدسہ پر حرف آتا ہو تو اس کی تاویل ضروری ہے اس بات کو شروع میں مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی شفیع رحمۃ اللہ (متوفی 1396ھ) کے حوالے سے لکھ چکا ہوں دو حوالہ جات مزید ملاحظہ فرمائیے:
شیخ الاسلام حضرتِ علامہ محی الدین نووی رحمۃ اللہ (متوفی 677ھ) لکھتے ہیں:
قَالَ الْعُلَمَاءُ: الْأَحَادِيثُ الْمُتَأَوَّلَةُ الَّتِی فِی ظَاهِرِهَا دَخْلٌ عَلَى صَحَابِی يَجِبُ تَأْوِيلُهَا قَالُوا: وَلَا يَقَعُ فِی رِوَايَاتِ الثِّقَاتِ إِلَّا مَا يُمْكِنُ تَأْوِيلُهُ
(مسلم مع النووی: جلد2 صفحہ 278 باب: من فضائل علی بن ابی طالب)
ترجمہ: علماء کا قول ہے کہ وہ احادیث جن سے کسی صحابی پر بظاہر حرف آتا ہو، ان کی تاویل واجب ہے علماء یہ کہتے ہیں کہ صحیح روایات میں کوئی ایسی روایت موجود نہیں جس کی تاویل نہ ہو سکے۔
امام راشد، حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی قدس سرہ (متوفی 1377ھ) فرماتے ہیں:
یہ مؤرخین کی روایات تو عموماً بے سروپا ہوتی ہیں، نہ روات کا پتہ ہوتا ہے، نہ ان کی توثیق و تخریج کی خبر ہوتی ہے، نہ اتصال و انقطاع سے بحث ہوتی ہے اور اگر غث و ثمین سے اور ارسال و انقطاع کے ساتھ لیا گیا ہے، خواہ ابنِ اثیر ہو یا ابنِ قتیبہ، ابنِ ابی الحدید ہوں یا ابنِ سعد، ان اخبار کو مستفیض و متواتر قرار دینا بالکل غلط ہے اور بے موقع ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق ان قطعی اور متواتر نصوص اور دلائلِ نقلیہ و عقلیہ کی موجودگی میں اگر روایاتِ صحیحہ احادیث کی بھی موجود ہوتیں تو مردود یا مؤوّل قرار دی جاتیں، چہ جائیکہ روایاتِ تاریخ۔
(مکتوبات شیخ الاسلام: جلد 1 صفحہ 287 مکتوب نمبر 89)
2: مصنف نے صحابیِ رسولﷺ کو بدعتی کہہ کر خود بدعت کا ارتکاب کیا ہے علمِ کلام کے مقتدر عالم علامہ ابو الشکور السالمی رحمۃ اللہ (متوفی 265ھ) فرماتے ہیں:
الْكَلَامُ فِی الْبِدْعَةِ عَلَى خَمْسَةِ أَوْجُهٍ: الْكَلَامُ فِی اللَّهِ، وَالْكَلَامُ فِی كَلَامِ اللَّهِ، وَالْكَلَامُ فِی قَدَرِ اللَّهِ، وَالْكَلَامُ فِی عَبِيدِ اللَّهِ، وَالْكَلَامُ فِی أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِﷺ
(التمہید: صفحہ192 القول الرابع)
ترجمہ: بدعت کے پانچ انداز ہیں: اللہ کی ذات و صفات پر سلفِ صالحین سے ہٹ کر کلام کرنا، قرآن کے بارے میں نیا قول پیش کرنا، اللہ کی قدرت پر بحث کرنا، اللہ کے بندوں پر کلام کرنا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر رائے زنی کرنا۔
3: مصنف نام و نسب نے جو بہتان سیدنا امیرِ معاویہؓ پر باندھا، اول تو اس کی نسبت ہی سیدنا امیرِ معاویہؓ کی طرف مخدوش ہے اگر بالفرض اس کی نسبت سیدنا امیرِ معاویہؓ کی جانب صحیح بھی ہوتی، تب بھی اس کو کسی پہلو سے بھی بدعت نہیں کہا جا سکتا۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی مد ظلہم ارقام فرماتے ہیں:
میرا جواب یہ ہے کہ اگر وہ صحابی، تابع، مجتہد ہے اور اپنے قول کی بنیاد کسی بھی شرعی دلیل پر رکھتا ہے خواہ وہ شرعی دلیل ہمیں کمزور نظر آتی ہو تو بلاشبہ اس سے اجتہاد ہی کیا گیا کہا جائے گا، اسے بدعت یا تحریف نہیں کہہ سکتے ایسی صورت میں عمل تو بلاشبہ قرآن و حدیث اور خلفائے راشدین کی سنت ہی پر کیا جائے گا صحابی کے منفرد مسلک کو کمزور، مرجوح، یہاں تک کہ اجتہادی غلطی بھی کہا جا سکتا ہے، لیکن اسے بدعت قرار دینے کے کوئی معنیٰ نہیں ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا معاملہ تو بہت بلند ہے بعد کے فقہاء و مجتہدین سے ایسے بے شمار اقوال مروی ہیں جو بظاہر قرآن و سنت کے خلاف نظر آتے ہیں، لیکن کیونکہ ان کی کوئی نہ کوئی شرعی بنیاد کمزور یا مضبوط موجود ہے، اس لیے ایسے اقوال کو اجتہادی غلطی تو کہا گیا ہے، لیکن بدعت کسی نے نہیں کہا۔
مثلاً امام شافعی رحمۃ اللہ اس بات کے قائل ہیں کہ اگر کوئی شخص ذبیحہ پر بسم اللہ پڑھنا جان بوجھ کر چھوڑ دے تب بھی ذبیحہ حلال ہوتا ہے ہدایۃ المجتہد، جلد 1صفحہ 446، حالانکہ قرآنِ کریم کی صریح آیت موجود ہے کہ:
وَلَا تَاۡكُلُوۡا مِمَّا لَمۡ يُذۡكَرِ اسۡمُ اللّٰهِ عَلَيۡهِ الخ
(سورۃ الانعام: آیت 121)
ترجمہ: اور ذبیحہ میں سے مت کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔
جمہور فقہاء نے امام شافعی رحمۃ اللہ کے اس مسلک کی تردید کی ہے، اسے کمزور کہا ہے اور اس پر عمل نہیں کیا، لیکن کیا کوئی ایک عالم بھی ایسا بتایا جا سکتا ہے جس نے اس مسلک کی وجہ سے امام شافعیؒ پر بدعت کا الزام عائد کیا ہو؟ وجہ یہی ہے کہ امام شافعیؒ مجتہد ہیں اور اپنے قول کی ایک شرعی بنیاد رکھتے ہیں۔ یہ بنیاد جمہور کے نزدیک کمزور سہی، لیکن ان کو بدعت اور تحریفِ دین کے الزام سے بری کرنے کے لیے کافی ہے ورنہ اگر ملک صاحب کے اصول کے مطابق بدعت کے خطاب میں اتنی فیاضی سے کام لیا جائے تو امت کا شاید کوئی مجتہد بھی اس نشتر کی زد سے نہیں بچ سکے گا، کیونکہ ہر ایک کے ہاں ایک دو اقوال ضرور ایسے ملتے ہیں جو بظاہر قرآن و سنت کے خلاف نظر آتے ہیں اور جمہورِ امت نے اسی لیے ان کو قبول نہیں کیا بلکہ رد کر دیا ہے، مگر ان کے عمل کو بدعت کسی نے نہیں کہا۔ ہاں شرط یہ ہے کہ ایسے قول کا قائل اجتہاد کی اہلیت رکھتا ہو اور اس کے بارے میں یہ ماننا کیا جا سکتا ہو کہ وہ خواہشاتِ نفسانی کی اتباع میں تحریفِ دین کا مرتکب ہو گا۔
امام شاطبی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں:
إِنَّ الرَّأْی الْمَذْمُومَ مَا بُنِی عَلَى الْجَهْلِ وَاتِّبَاعِ الْهَوَى مِنْ غَيْرِ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَصْلٍ شَرْعِی، وَمَا كَانَ مِنْهُ ذَرِيعَةً إِلَيْهِ وَإِنْ كَانَ فِی أَصْلِهِ مَحْمُودًا، وَذَلِكَ رَاجِعٌ إِلَى أَصْلٍ شَرْعِی الْأَوَّلُ دَاخِلٌ تَحْتَ قِدْحِ الْبِدْعَةِ وَتَتَنَزَّلُ عَلَيْهِ أَدِلَّةُ الذَّمِّ، وَالثَّانِی خَارِجٌ عَنْهُ وَلَا يَكُونُ بِدْعَةً أَبَدًا
(الاعتصام: جلد 1صفحہ131)
ترجمہ: قابلِ مذمت رائے وہ ہے جو جہالت و خواہشات کی پیروی پر مبنی ہو اور اس میں کسی اصلِ شرعی کی طرف رجوع نہ کیا گیا ہو اور رائے کی دوسری قسم وہ ہے جو اگرچہ اپنی اصل کے اعتبار سے محمود ہو، لیکن رائے مذموم کا ذریعہ بن سکتی ہے اور اس کی بنیاد کسی شرعی اصل پر ہوتی ہے ان میں سے پہلی قسم تو بدعت کی تعریف میں داخل ہے اور اس پر مذمت کے دلائل کا اطلاق ہوتا ہے، لیکن دوسری قسم کی رائے اس سے خارج ہے اور وہ کبھی بھی بدعت نہیں ہو سکتی۔
(حضرت معاویہؓ اور تاریخی حقائق: صفحہ166، 168 تحت بدعت کا الزام)
4: مصنف نے تو ایک بے سند قول پیش کر کے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو بھی بدعتی کہہ دیا۔ اب ہم ایک باسند قول پیش کر کے ان سے اس کا جواب طلب کرتے ہیں آنحضرتﷺ کے ارشاد کا ایک مفہوم ہے: جس حاملہ عورت کے شوہر کا انتقال ہو جائے تو وضعِ حمل سے اس کی عدت پوری ہو جاتی ہے۔
(بخاری: جلد2 صفحہ802، کتاب الطلاق، باب: وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ،
مسلم: جلد1 صفحہ486 کتاب الطلاق، باب: انقضاء عدۃ المتوفی عنہا وغیرہا بوضع الحمل)
حافظ ابنِ حجر رحمۃ اللہ (متوفی 852ھ) فرماتے ہیں:
وَقَدْ قَالَ جُمْهُورُ الْعُلَمَاءِ مِنَ السَّلَفِ وَأَئِمَّةِ الْفُتْيَا فِی الْأَمْصَارِ: إِنَّ الْحَامِلَ إِذَا مَاتَ عَنْهَا زَوْجُهَا تَحِلُّ بِوَضْعِ الْحَمْلِ وَتَنْقَضِی عِدَّةُ الْوَفَاةِ وَخَالَفَ ذَلِكَ عَلِی فَقَالَ تَعْتَدُّ آخِرَ الْأَجَلَيْنِ، وَمَعْنَاهَا أَنَّهَا إِنْ وَضَعَتْ قَبْلَ مُضِی أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ وَعَشْرٍ تَرَبَّصَتْ إِلَى انْقِضَائِهَا وَلَا تَحِلُّ بِمُجَرَّدِ الْوَضْعِ، وَإِنِ انْقَضَتِ الْمُدَّةُ قَبْلَ الْوَضْعِ تَرَبَّصَتْ الْوَضْعَ أَخْرَجَهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عَلِی بِسَنَدٍ صَحِيحٍ، وَبِهِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَمَا فِی هَذِهِ الْقِصَّةِ، وَيُقَالُ إِنَّهُ رَجَعَ عَنْهُ، وَيُقَوِّيهِ أَنَّ الْمَنْقُولَ عَنْ أَتْبَاعِهِ وِفَاقُ الْجَمَاعَةِ فِی ذَلِكَ۔
(فتح الباری: جلد9 صفحہ 469 کتاب الطلاق باب واللائی یئسن من المحیض من نسائکم ان ارتبتم الخ)
ترجمہ: جمہور علمائے سلف اور ائمہ فتویٰ کا قول یہ ہے کہ حاملہ عورت کا شوہر فوت ہو جائے تو وضعِ حمل کے ساتھ ہی وہ آزاد ہو جائے گی اور اس کے ساتھ اس کی عدت پوری ہو جائے گی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا فتویٰ اس کے خلاف ہے، چنانچہ ان کے نزدیک ایسی عورت دونوں مدتوں میں بعد والی مدت تک عدت گزارے گی، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس کو وضعِ حمل چار ماہ دس دن سے پہلے ہو گیا تو چار ماہ دس دن تک عدت گزارے گی، صرف وضعِ حمل سے آزاد نہ ہو گی، اور اگر مدتِ مذکورہ وضعِ حمل سے پہلے پوری ہو گئی تو وضعِ حمل تک انتظار کرے گی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے یہ فتویٰ سعید بن منصور اور عبد بن حمید نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے، جیسا کہ واقعہ میں مذکور ہے سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کا قول بھی یہی تھا، پھر انہوں نے اس قول سے رجوع کر لیا، اور ان سے اجماعِ امت کے اتباع کا منقول ہونا اس (رجوع) پر قوی دلیل ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہی فتویٰ فروع کافی (جلد2 صفحہ 114)
من لا یحضرہ الفقیہ (جلد3 صفحہ329)
تہذیب الاحکام (جلد8 صفحہ150)
میں بھی موجود ہے۔
بندہ پرور! منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر