بدعت کی تعریف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

بدعت کی تعریف

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 1 از 4

مولانا سخاوت علی جونپوری الحنفی رحمۃ اللہ (متوفی 1275ھ) فرماتے ہیں:

بدعت وہ کام خواہ عقیدہ کہ دین کا ہو اور آخرت کا نفع ضرور اس میں سمجھتے ہوں، ثابت نہ ہوا ہو رسولِ مقبولﷺ سے اور آپﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے۔(رسالہ تقویٰ: صفحہ9)

حضرت علامہ تفتازانی رحمۃ اللہ (متوفی 808ھ) فرماتے ہیں: 

اِنَّ الْبِدْعَةَ الْمَذْمُومَةَ هُوَ الْمُحْدَثُ فِی الدِّينِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ فِی عَهْدِ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ وَلَا دَلَّ عَلَيْهِ الدَّلِيلُ الشَّرْعِی۔ 

(شرح المقاصد: جلد2 صفحہ 271 تحت المبحث الثامن حکم المومن والکافر والفاسق)

ترجمہ: مذموم بدعت وہ ہے جو دین کے اندر ایجاد کی جائے اور عہدِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین میں نہ ہو اور نہ ہی اس پر کوئی دلیلِ شرعی دال ہو۔

عبد العزیز فرہاروی رحمۃ اللہ (متوفی 1239ھ) لکھتے ہیں:  

هُوَ كُلُّ مَا حَدَثَ فِی الدِّينِ بَعْدَ زَمَنِ الصَّحَابَةِ بِلَا حُجَّةٍ شَرْعِيَّةٍ۔(نبراس: صفحہ 21)  

ترجمہ: بدعت ہر وہ چیز ہے جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عہد کے بعد بلا حجتِ شریعہ دین میں نکالی جائے۔

حضرت علامہ ابنِ کثیر رحمۃ اللہ (متوفی 774ھ) فرماتے ہیں: 

أَمَّا أَهْلُ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ فَيَقُولُونَ فِی كُلِّ فِعْلٍ وَقَوْلٍ لَمْ يَثْبُتْ عَنِ الصَّحَابَةِ هُوَ بِدْعَةٌ لِأَنَّهُ لَوْ كَانَ خَيْرًا لَسَبَقُونَا إِلَيْهِ لِأَنَّهُمْ لَمْ يَتْرُكُوا خَصْلَةً مِنْ خِصَالِ الْخَيْرِ إِلَّا وَقَدْ بَادَرُوا إِلَيْهَا۔

(تفسیر ابنِ کثیر: جلد 4 صفحہ157 تحت سورۃ فصلت)  

ترجمہ: اہلِ سنت والجماعت کا کہنا یہ ہے کہ ہر وہ قول و فعل جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت نہ ہو بدعت ہے، کیونکہ اگر اس کام میں خیر ہوتی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ضرور اس کام میں سبقت لے جاتے، اس لیے کہ انہوں نے نیکی کے کسی پہلو اور عمدہ خصلت کو ترک نہیں کیا، بلکہ وہ ہر کام میں سبقت لے گئے ہیں۔

مفتی اقلیمِ ہند حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمۃ اللہ (متوفی 1376ھ) فرماتے ہیں:

بدعت ان چیزوں کو کہتے ہیں جن کی اصل شریعت میں ثابت نہ ہو، یعنی قرآنِ مجید اور احادیثِ شریفہ میں اس کا ثبوت نہ ملے، اور رسول اللہﷺ اور صحابہ کرامؓ اور تبعِ تابعین کے زمانے میں اس کا وجود نہ ہو۔

(تعلیم الاسلام: حصہ، چہارم صفحہ 24)

حضرت مولانا کریم بخش رحمۃ اللہ (متوفی 1365ھ) فرماتے ہیں:

اصطلاحِ شریعت میں بدعت ہر وہ فعلِ دین ہے جس کو قرونِ ثلاثہ کے اہلِ حق نے اصلاً قبول نہ کیا ہو۔(حقیقۃ الایمان: صفحہ38)

اس لیے سیدنا عبداللہ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ (متوفی 32ھ) کا ارشاد ہے:  

اِتَّبِعُوا آثَارَنَا وَلَا تَبْتَدِعُوا فَقَدْ كُفِيتُمْ

(الاعتصام: جلد1 صفحہ59 الباب الثانی فی ذم البدع وسوءمنقلب أصحابہا، تحت الوجہ الثالث من النقل)

ترجمہ: تم ہمارے (یعنی صحابہؓ کے) نشانِ قدم کی اتباع کرو اور بدعات نہ ایجاد کرو، تم جس دین پر ہو وہ تمہیں کافی ہے۔

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ (متوفی 36ھ) فرماتے ہیں:  

كُلُّ عِبَادَةٍ لَمْ يَتَعَبَّدْهَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِﷺ فَلَا تَعَبَّدُوهَا۔

(الاعتصام: جلد2 صفحہ366، الباب الثامن فی الفرق بین البدع والمصالح المرسلۃ والاستحسان)

ترجمہ: ہر وہ عبادت جسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نہیں کیا، تم بھی مت کرنا۔   

اسی طرح فقہائے کرام رحمہم اللہ علیہم آنحضرتﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عدمِ فعل کو ایک مستقل ضابطہ اور دلیل سمجھتے ہیں اور اس سے استدلال پکڑتے ہیں چند ایک مقامات دیکھیے:

1: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دعا میں سجع کی رعایت کا دھیان نہ کرنا اور اس سے پرہیز کرتے رہنا، کیونکہ آنحضرتﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دعا میں سجع نہیں کرتے تھے۔ 

(صحیح البخاری: جلد2 صفحہ938 کتاب الدعوات، باب ما یکرہ من السجع فی الدعاء)

2: عالمگیری میں ہے: سورۃ الکافرون کا آخر تک بالجمع پڑھنا مکروہ ہے، اس لیے کہ وہ بدعت ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین سے منقول نہیں ہے۔ 

(فتاویٰ عالمگیری: جلد4 صفحہ264،

باب الکراہیۃ، بحوالہ المنہاج و الواضح: صفحہ97)

3: محمد بن عیسیٰ رحمۃ اللہ امام مالک رحمۃ اللہ (متوفی 179ھ) کا اصول نقل کرتے ہیں کہ:  

كُلُّ حَدِيثٍ جَاءَكَ عَنِ النَّبِیﷺ لَمْ يَبْلُغْكَ أَنَّ أَحَدًا مِنَ الصَّحَابَةِ فَعَلَهُ فَدَعْهُ

(الفقیہ والمتفقہ: جلد1 صفحہ132،باب القول فیما یرد بہ خبر الواحد)  

ترجمہ: ہر حدیث جو تمہیں نبی پاکﷺ سے ملے اور اس پر کسی صحابی کا عمل نہ ہو، اسے چھوڑ دو۔  

اس تفصیل سے اتنی بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ اقوال و اعمالِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حجت ہیں ہم غیر مقلدین کو روتے تھے کہ وہ اقوالِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حجت نہیں مانتے تھے، لیکن آج جو سُنّیت کے نام پر ایسے مولوی بھی پیدا ہو گئے ہیں جو خود صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی بدعتی کہہ رہے ہیں، نعوذ باللہ! یعنی اب تک تو حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے طرزِ عمل سے بدعت اور سنت کی شناخت ہوتی تھی، لیکن اب لَعَنَ آخِرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلَهَا کے تحت لوگوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی کو بدعتی کہنا شروع کر دیا مزید حیرانی اس بات پر ہوتی ہے کہ اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نعوذ باللہ بدعتی ہیں تو ان کی اقتداء کا حکم چہ معنیٰ دارد؟

پھر سیدنا امیرِ معاویہؓ پر بدعت کی تہمت جو مجتہد صحابی ہونے کے ساتھ اصحابِ فتویٰ اور کئی احادیث کے راوی ہیں سیدنا عبداللہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: لَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا أَعْلَمَ مِنْ مُعَاوِيَةَ۔ 

(السنن الکبریٰ للبیہقی: جلد3 صفحہ26 باب الوتر)  

ترجمہ: ہم (موجود صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) میں حضرت امیرِ معاویہؓ سے بڑا عالم کوئی نہیں ہے۔

ایک مرتبہ وتر کی بحث میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما ہی نے حضرت امیرِ معاویہؓ کی فقاہت کی تعریف إِنَّهُ فَقِيهٌ

صفحہ 1 از 4