بدعت کا الزام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

بدعت کا الزام

  محمد ظفر اقبال

مصنّفِ نام و نسب بعنوان دورِ بنو امیہ کی بدعت رقم طراز ہیں:

بدعت کا سلسلہ اگرچہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے دورِ امارت میں شروع ہو گیا تھا، مگر ان کے اخلاف نے تو انتہا کر دی۔ یہاں اس کی تفصیل میں جانے کا وقت نہیں۔ مختصراً ایک بدعت ہی کا ذکر کیا جاتا ہے۔

محی الدین ابنِ عربیؒ لکھتے ہیں: عیدین میں اذان اور اقامت نہ کہنا سنت ہے، مگر حضرت امیرِ معاویہؓ نے نماز سے پہلے اذان اور تکبیر شروع کرا دی۔ 

(فتوحاتِ المکیہ: جلد 1 صفحہ540) 

چونکہ ایسی تاریخ، حقائق و شواہد کو زیرِ بحث لانا ہمارا موضوع نہیں، ورنہ بے شمار ایسے تاریخی حقائق حوالہ جات کے ساتھ پیش کیے جا سکتے ہیں جن کے مطالعے سے انسان ضرور چونک اٹھتا ہے اور یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر یہ سب کچھ کیوں اور کیسے ہوا اور قرآن و سنت میں اس کا ثبوت کہاں پر موجود ہے۔ (نام و نسب: صفحہ519)

اس بحث میں دو امور لائقِ توجہ ہیں:  

1: بدعات کا سلسلہ اگرچہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ امارت میں شروع ہو گیا تھا، گویا اپنے عہد میں سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ بانیٔ بدعات ہیں۔ (اعاذنا اللہ)   

2: حضرت امیرِ معاویہؓ نے نمازِ عید سے پہلے اذان اور تکبیر شروع کروا کر بدعت کا ارتکاب کیا۔ 

جواب امرِ اول: جہاں تک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور بدعت کا تعلق ہے تو یہ ایک متفقہ امر ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال و اعمال بدعات میں داخل نہیں، بلکہ ان کے اقوال و اعمال تو امت کے لیے حجت ہیں۔ اس کے لیے منہاج السنہ:(جلد1 صفحہ256) اعلام الموقعین (جلد 1 صفحہ67)

بدائع الفوائد (جلد 4 صفحہ 477)

طبقات السبکی (جلد 1 صفحہ262)

عمدۃ القاری: (جلد3 صفحہ 323)

کتاب العلم:(جلد 2 صفحہ83)

احکام (جلد2 صفحہ 140)

إزالۃ الخفاء: (جلد 1 صفحہ 16)

یسر من رأی (جلد2 صفحہ48) کا مطالعہ کیجیے۔

اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کسی کی تعدیل کے محتاج نہیں۔ اس مضمون کو خطیب بغدادی رحمۃ اللہ کے حوالے سے شروع میں ذکر کر چکا ہوں۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیے:

مراقاۃ (جلد5 صفحہ517)،

اسد الغابہ (جلد1 صفحہ2)،

استیعاب (جلد1 صفحہ2)

اصابہ (جلد1 صفحہ 11)،

تقریر الاصول (جلد2 صفحہ260)،

فواتح الرحموت (جلد2 صفحہ156)،

مسامرۃ (جلد1 صفحہ 158) 

جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقوال و اعمال امت کے لیے حجت ہیں اور وہ کسی کی تعدیل کے محتاج بھی نہیں ہیں، تو وہ خود بدعت کا موضوع کیسے بن سکتے ہیں؟ 

آنحضرتﷺ کا ارشاد ہے کہ ناجی فرقہ وہی ہو گا 

ما أنا علیہ وأصحابی

(ترمذی: جلد2 صفحہ89

ابواب الایمان، باب افتراق ھذہ الأمۃ، مستدرک حاکم: جلد1، صفحہ 129

کتاب العلم، مشکوٰۃ: جلد1 صفحہ30 کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ) 

جو میرے اور میرے صحابہؓ کے طریقے پر ہو گا۔ آنحضرتﷺ نے اپنے اس ارشاد میں صاف طور پر بتلا دیا ہے کہ میرا طریقہ اور میرے صحابہ کرامؓ کا طریقہ تمہارے لیے قندیلِ ہدایت ہے۔ بأيهم اقتديتم اهتديتم ان میں سے جس کی بھی پیروی کر لو، ہدایت ہی پر رہو گے۔ اس حدیث سے جہاں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی فضیلت و منقبت ثابت ہوتی ہے، وہیں یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ آنحضرتﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اپنے ساتھ شامل کر کے امت کو حق اور باطل پرکھنے کا میزان و معیار بھی بتلا دیا ہے۔ خود قرآن نے جماعتِ صحابہؓ کو معیارِ حق قرار دیا ہے:

وَمَنۡ يُّشَاقِقِ الرَّسُوۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَـهُ الۡهُدٰى وَ يَـتَّبِعۡ غَيۡرَ سَبِيۡلِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصۡلِهٖ جَهَـنَّمَ‌ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا (سورۃ النساء: آیت 115)

ترجمہ:جو شخص مخالفت کرے رسولﷺ کی، جب اس کے سامنے ہدایت کھل چکی ہے اور چلے مؤمنین کا راستہ چھوڑ کر، ہم اس کو پھیر دیں گے جدھر وہ جاتا ہے اور اس کو دوزخ میں جھونک دیں گے اور وہ ہے بہت برا ٹھکانہ۔

اس آیتِ مبارکہ میں سبیل المؤمنین سے مراد جماعتِ صحابہؓ ہے۔ اسی طرح ایک حدیث میں آنحضرتﷺ کا ارشاد ہے: 

أوصیکم بأصحابی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم، فلیلزم الجماعۃ 

(مستدرک: جلد 1 صفحہ 114 کتاب العلم، مسند ابو داؤد طیالسی: جلد1 صفحہ 7) 

میں تمہیں وصیت کرتا ہوں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں (کہ ان کے نشانِ قدم کی پیروی کرنا) پھر جو ان سے متصل ہیں، پھر جو ان سے متصل ہیں۔ اس جماعت کا ساتھ نہ چھوڑنا۔

اس لیے حدیث میں آنحضرتﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین و تبع تابعین کے زمانے کو خیر القرون کہا ہے۔ 

(بخاری: جلد1 صفحہ515 باب فضل أصحاب النبیﷺ مسلم: جلد2 صفحہ309 کتاب الفضائل، باب فضل الصحابۃ ثم الذین یلونھم الخ)  

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (متوفی 32ھ) کا ارشاد ہے:  

من کان مستناً فلیستن بمن قد مات، فإن الحی لا تؤمن علیہ الفتنۃ۔ أولئک أصحاب محمدﷺ کانوا أفضل ھذہ الأمۃ، أبرھا قلوباً، وأعمقھا علماً، وأقلھا تکلفاً۔ اختارھم اللہ لصحبۃ نبیہ، والإقامۃ دینہ، فاعرفوا لھم فضلھم، واتبعوھم علی أثرھم، وتمسکوا بما استطعتم من أخلاقھم وسیرھم، فإنھم کانوا علی الہدی المستقیم 

(رواہ رزین، مشکوٰۃ: جلد 1 صفحہ 33 باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ)

ترجمہ: جو شخص اقتدا کرنا چاہتا ہے تو ان حضرات کی اقتدا کرے جو فوت ہو چکے ہیں، کیونکہ زندہ شخص فتنے سے مامون نہیں۔ اور یہ (قابلِ اقتدا لوگ) اصحابِ محمدﷺ ہیں جو اس امت میں سب سے افضل، پاکیزہ قلوب کے مالک، عمیق علم والے، سب سے بڑھ کر تکلف سے پرہیز کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے نبی ﷺ کی صحبت و رفاقت اور دین کو قائم کرنے کے لیے چن لیا تھا۔ ان کے فضائل کو پہچانو، ان کے نشانِ قدم کی پیروی کرو اور جہاں تک ممکن ہو ان کی سیرت و اخلاق اختیار کرو، کیونکہ یہ حضرات ہدایتِ مستقیم پر تھے۔

حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ (متوفی 101ھ) ایک شخص کے سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:  

فارض لنفسک ما رضی بہ القوم لأنفسھم، فإنھم علی علم وقفوا، وببصر نافذ کفوا، وھم علی کشف الأمور کانوا أقوی بفضل ما کانوا فیہ أولی فإن کان الھدیٰ فأنتم علیہ سبقتموھم إلیہ 

(ابو داؤد: جلد2 صفحہ 277 کتاب السنۃ، باب فی لزوم السنۃ)  

ترجمہ: تم اپنی ذات کے لیے اس طریقے کو پسند کرو جس کو سلفِ صالحینؒ نے اپنے لیے پسند کیا، کیونکہ یہ حضرات صحیح علم پر مطلع تھے اور گہری بصیرت کی بناء پر ان بدعات سے مجتنب و محترز رہے۔ اور بلا شبہ وہ معاملات کی تہ تک پہنچنے پر زیادہ قدرت رکھتے تھے، اور جس حالت پر تھے وہ افضل تر حالت تھی۔ پس اگر ہدایت کا راستہ وہ ہے جو تم نے سلفِ صالحین کے برخلاف اختیار کیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم ہدایت کی طرف ان حضرات سے (معاذ اللہ) سبقت لے گئے ہو۔

امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ (متوفی 1176 ہجری) لکھتے ہیں:  

أقول: الفرقۃ الناجیۃ ھم الآخذون فی العقیدۃ والعمل جمیعاً بما ظہر من الکتاب والسنۃ وجرىٰ علیہ جمہور الصحابۃ والتابعین إلىٰ أن قال: وغیر ناجیۃ کل فرقۃ انتحلت عقیدۃ خلاف عقیدۃ السلف أو عملاً دون أعمالھم 

(حجۃ اللہ البالغہ: جلد 1 صفحہ170 مبحث: فی الاعتصام بالکتاب والسنۃ)  

ترجمہ:میں کہتا ہوں کہ فرقہ ناجیہ صرف وہی ہے جو عقیدہ اور عمل دونوں میں کتاب و سنت، جس پر جمہورِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین کاربند تھے، کی پیروی کریں۔ اور غیر نجات یافتہ ہر وہ فرقہ ہے جو سلفِ صالحین کے عقیدے کے خلاف کوئی اور عقیدہ یا عمل اختیار کرے۔

سو جن کے اقوال و اعمال امت کے لیے حجت ہوں، وہ خود لائقِ اقتدا ہوں، معیارِ ہدایت ہوں، دائرۂ بدعات میں کیسے داخل ہو سکتے ہیں؟ جو صحابہ کرامؓ پر بھی بدعات کا الزام لگاتا ہے، وہ بدعت کی تعریف، (جو سلفِ صالحین سے منقول ہے) ہی سے ناواقف ہے۔ بلکہ حضراتِ سلفِ صالحین کے نزدیک تو جماعتِ صحابہؓ کا ساتھ چھوڑنے والا تارکِ سنت کہلاتا ہے: 

وأما ترک السنۃ فالخروج من الجماعۃ 

(مستدرک: جلد1 صفحہ 120

کتاب العلم، منہاج السنہ: جلد 4 صفحہ 236

فصل: قال الرافضی ایضاً: الاجماع لیس الصلافی الدلالۃ الخ)

اور سنت کو چھوڑنا جماعت سے خروج ہے۔