اذان میں اشهد ان امير المؤمنين على ولي الله کا اضافہ - ردِ…

اذان میں اشهد ان امير المؤمنين على ولي الله کا اضافہ

  مولانا ابوالحسن مبشر احمد ربانی

صفحہ 1 از 3

اذان میں اشهد ان امير المؤمنين على ولی الله کا اضافہ

سوال: کیا اذان میں شہادتین کے بعد اشهد ان امير المؤمنين على ولي الله کلمات کہنا درست ہے؟ قرآن و حدیث سے وضاحت فرمائیں۔

جواب: اذان شعائر اسلام میں سے ہے، اس کے الفاظ وہی درست ہیں جو نبی اکرمﷺ سے منقول ہیں۔ اذان میں نہ اپنی طرف سے اضافہ جائز ہے اور نہ کمی۔ جو شخص اذان میں بعض کلمات کا اضافہ کرتا ہے، وہ بدعتی ہے، بلکہ لعنت کا مستحق ہے۔ سیدنا عبداللہ بن زید بن عبدربہؓ کی جو روایت اذان کے بارے میں مروی ہے، اس میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرمﷺ نے جب لوگوں کو نماز کے لیے جمع کرنے کے لیے ناقوس بجانے کا حکم دیا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک آدمی کے ہاتھ میں ناقوس ہے تو میں نے اس سے کہا: ”اے اللہ کے بندے! کیا تو ناقوس بیچے گا؟ “اس سے کہا: ”آپ اس کا کیا کریں گے؟“ میں نے کہا: ’’میں نماز کے لیے اس کے ذریعے لوگوں کو ندا دوں گا۔ “تو اس نے کہا: ’’میں تجھے ایسی بات پر رہنمائی کروں گا جو اس سے بہتر ہے؟ “میں نے کہا: ”کیوں نہیں۔“ اس نے کہا کہ تو کہہ:

 الله اكبر، الله اكبر، الله اكبر، الله اكبر، اشهد ان لا إله إلا الله، اشهد ان لا إله إلا الله، اشهد ان محمدا رسول الله، اشهد ان محمدا رسول الله، حي على الصلاة، حي على الصلاة، حي على الفلاح، حي على الفلاح، الله اكبر، الله اكبر، لا إله إلا الله

صبح میں نے نبی کریمﷺ کو اپنا خواب سنایا تو اُنھوں نے فرمایا:

 ان هذا رو يا حق ان شاء الله 

”یقیناً یہ خواب سچا ہے اگر اللہ نے چاہا۔“

پھر آپﷺ نے فرمایا: ”بلال کو یہ کلمات سکھا دو تاکہ وہ اذان کہے کیونکہ اس کی آواز تجھ سے بہتر ہے۔“(ابو داؤد: كتاب الصلاة: باب كيف الاذان 499، ابن ماجہ: 706، ترمذی: 189، احمد: جلد 4 صفحہ 43، دارمي: جلد 1 صفحہ 214)

اسی طرح فجر کی اذان میں حي على الفلاح کے بعد دو بار الصلاة خير من النوم کہنا سنت سے ثابت ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

 من السنة إذا قال المؤذن فى اذان الفجر حى على الفلاح قال الصلاة خير من النوم  

(ابن خزيمة: 386، دارقطني: جلد 1 صفحہ 243، بيهقي: جلد 1 صفحہ 423، ابن منذر: جلد 3 صفحہ 21)

صبح کی اذان میں”حی علی الفلاح“ کے بعد ”الصلاة خير من النوم“ کہنا سنت سے ہے۔“

اور اصول میں یہ بات ثابت ہے کہ صحابی رسولﷺ کا یہ کہنا کہ من السنة كذا مسند اور مرفوع حدیث کے حکم میں ہے۔

امام نووی رحمۃاللہ سے المجموع: جلد 5 صفحہ 232) میں، امام ابن ہمام رحمۃاللہ نے ”التحریر“ میں اور اس کے شارع ابن امیر الحاج نے جلد 1 صفحہ 224) پر جمہور اصولین اور محدثین سے یہی موقف نقل کیا ہے۔ 

اسی طرح سیدنا ابو محذورہؓ کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان کو اذان سکھائی اور فرمایا صبح کی اذان میں الصلاة خير من النوم، الصلاة خير من النوم کہا کرو۔ یہ حدیث سیدنا ابو محذورہؓ سے متعدد طرق کے ساتھ درج ذیل کتب میں مروی ہے۔ 

(احمد: جلد 3 صفحہ 408، ابو داؤد: 501، نسائی 72، ابن خزيمة: 385، دار قطنی: جلد 1 صفحہ 224، بيهقي: جلد 1 صفحہ 422، ابن حبان: 289، التاريخ الكبير: جلد 1 صفحہ 123، عبدالرزاق: جلد 1 صفحہ 472، حلية الاولياء: جلد 8 صفحہ 310)

اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ فجر کی پہلی اذان میں الصلاة خير من النوم کہا جاتا ہے۔ 

 (طحاوي: جلد 1 صفحہ 137، بيهقي: جلد 1 صفحہ 423، تلخيص الحبير: جلد 1 صفحہ 201)

حضرت ابو محذورہؓ سے اذان میں ترجیع بھی ثابت ہے۔ یعنی شہادتین کے کلمات کو دوبارہ کہنا۔ پہلی بار آہستہ اور دوسری بار اس سے اونچی آواز میں۔ 

مذکورہ بالا صحیح احادیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اذان کے مذکورہ کلمات ہی سنتِ نبویﷺ سے ثابت ہیں۔ ان میں نہ اضافہ جائز ہے اور نہ کمی ہی۔ اذان میں أشهد أن عليا ولي الله وغیرہ کے کلمات نہیں ہیں۔ جو لوگ ان کلمات کا اضافہ کرتے ہیں وہ احداث فی الدین کے مرتکب ہیں اور بدعتی ہیں۔ فقہ جعفریہ سے بھی ان کلمات کا اذان میں کہنا ثابت نہیں ہے بلکہ فقہ جعفریہ کی رو سے یہ کلمات اذان میں کہنا گناہ ہے اور کہنے والا لعنت کا مستحق ہے۔

فقہ جعفریہ کی صحاح اربعہ وغیرہ میں مرقوم اذان اور اہلِ سنت کی اذان میں فرق صرف یہ ہے کہ حي على الفلاح کے بعد فقہ جعفریہ میں حي على خير العمل دو مرتبہ کہا جاتا ہے۔ باقی اذان کے الفاظ وہی ہیں جو اہل سنت کی اذان کے ہیں۔ شیعہ مذہب کی معتبر کتاب الفقيه من لا یحضرہ الفقیہ: جلد 1 صفحہ 188 پر ابن بابویہ قمی نے اذان کے الفاظ نقل کرنے کے بعد لکھا ہے:

 هذا هو الأذان الصحيح لا يزاد فيه و لا ينقض منه والمفوضة لعنهم الله قد وضعوا اخبارا و زادوا فى الأذان محمدا و ال محمد خير البرية مرتين و فى بعض رواياتهم بعد أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن عليا ولي الله مرتين و منهم من روى بدل ذلك أشهد أن عليا أمير المؤمنين حق مرتين ولا شك فى أن عليا ولى الله و أنه أمير المؤمنين حقا وأن محمدا واله صلوات الله عليهم خير البرية و لكن ليس ذلك فى اصل الأذان وإنما ذكرت ذلك ليعرف بهذو الزيادة المتهمون المدلسون أنهم فى جملتنا

ترجمہ: یہی اذان صحیح ہے، نہ اس میں زیادتی کی جائے گی اور نہ کمی اور مفوضہ فرقہ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو، اُنھوں نے بہت سی روایات گھڑیں اور اذان میں محمد و آل محمد خير البرية ( کے کلمات) دو مرتبہ کہنے کے لیے بڑھا دیے اور ان کی بعض روایات میں أشهد أن محمدا رسول الله کے بعد أشهد أن عليا ولي الله دو دفعہ ذکر کیا گیا ہے۔ ان مفوضہ میں سے بعض نے ان الفاظ کی بجائے یہ الفاظ روایت کئے ہیں: أشهد أن أمير المؤمنين حقا یہ بات یقینی ہے کہ سیدنا علیؓ اللہ کے ولی اور سچے امیرالمؤمنین ہیں اور محمد و آل محمد خیر البریة ہیں لیکن یہ الفاظ اصلی اذان میں نہیں ہیں۔ میں نے یہ الفاظ اس لئے ذکر کے ہیں تاکہ ان کی وجہ سے وہ لوگ پہچانے جائیں جو مفوضہ ہونے کی اپنے اوپر تہمت لیے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود اپنے آپ کو اہل تشیع میں شمار کرتے ہیں۔“

صفحہ 1 از 3