نبی کریمﷺ کے رفیقِ اعلیٰ سے جا ملنے، پھر ارتداد کی جنگوں کے برپا ہونے، اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ان فتنوں کا کامیابی سے قلع قمع کر دینے کے بعد اسلامی معاشرے میں کچھ ایسی شخصیات داخل ہوئیں جن کے دل ابھی تک نورِ نبوت سے منور نہ ہوئے تھے اور نہ ہی انہیں یقین و ایمان کے سائے میں اسلامی تربیت کا مکمل موقع ملا تھا۔ ان کا اسلام میں داخل ہونا درحقیقت اسلام کی مخالفت کرنے اور اندر ہی اندر اس پر کاری ضرب لگانے کے لیے تھا۔
چنانچہ یہ لوگ بتدریج رسولﷺ کے جلیل القدر صحابۂ کرامؓ کےشانہ بشانہ آ کھڑے ہوئے،یہاں تک کہ انہیں ان کے شایانِ شان مقام و مرتبہ سے پیچھے دھکیل دیا، اور امت کی اجتماعی زندگی کے بہت سے اہم شعبوں پر اپنا اثر و نفوذ قائم کر لیا۔
یہ عناصرنہ صرف امت کے بہت سے معاملات میں فیصلہ کن اثر و رسوخ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے بلکہ اسلام قبول کرنے میں سبقت رکھنے والے اہلِ ایمان کو پس منظر میں دھکیل کر خود آگے بڑھ بیٹھے۔ انہی درانداز شخصیات نے ان فرقوں اور مذاہب کے ظہور میں بنیادی کردار ادا کیا جنہوں نے مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا، ان کی اجتماعیت کو منتشر کر دیا، اور قرآنِ کریم کو اپنے درمیان ٹکڑوں میں تقسیم کر ڈالا۔ ہر فرقہ گمراہ تاویلات کا ہتھیار ہاتھ میں لیے قرآن سے اپنے نظریات کے حق میں استدلال کرنے لگا اور اسے اپنے مذہب کی تائید اور اپنے دعوؤں کی دلیل بنانے کی کوشش کرنے لگا۔
یہ لوگ بظاہر اہلِ بیتِ نبوت سے محبت کا دم بھرتے تھے، لیکن حقیقت میں وہ ہر وہ تدبیر اختیار کرتے رہے جو ان کی شان کو مجروح کرنے اور انہیں نقصان پہنچانے کا ذریعہ بن سکتی تھی۔ چنانچہ اہلِ بیت کو انہی اسلام دشمن عناصر کے ہاتھوں ظلم و ستم اور جبر و استبداد کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ وہ اس پاکیزہ اور معزز خانوادے سے تعلق رکھتے تھے جس کی پرورش نبوت کے گھرانے میں ہوئی تھی اور جس نے اسلام کو اس کے خالص سرچشموں سے حاصل کیا تھا۔ اسی بنا پر اہلِ بیت ان معاند عناصر کے اولین اہداف بن گئے،جنہوں نے اسلام سے دشمنی کو منافقانہ مکروفریب کے پردے میں چھپا رکھا تھا۔
پھر جب سیدنا عثمان بن عفانؓ کے عہدِ خلافت میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف کی پہلی چنگاری نمودار ہوئی تو یہی عناصر فوراً سرگرم ہو گئے، قیادت کی باگ دوڑ سنبھالنے کے لیے لپکے، اور لوگوں کو اندھی فتنہ انگیزی کی لاٹھی سے ہانکتے ہوئے انتشار اور بغاوت کی راہ پر ڈالنے لگے۔
اور جب کبھی لوگوں کے جوش و خروش میں کمی آتی تو یہ عناصر اپنی مکاری، عیاری اور فریب کاری کے کانٹے سے انہیں پھر ابھار دیتے۔
ان معاند عناصر کا سرغنہ عبد اللہ ابنِ سباء تھا، جو ابن السوداء کے لقب سے معروف تھا۔ وہ یمن کا ایک یہودی تھا جو حجاز آیا اور ایسے مقاصد کی خاطر ظاہری طور پر اسلام قبول کر لیا جنہیں وہ چھپائے ہوئے تھا، لیکن اس کی گمراہ کن دعوت نے بالآخر ان پردہ پوش عزائم کو آشکار کر دیا۔ چنانچہ اس کے بارے میں کہا گیا ہے:
وہ اپنے ذہن میں جزیرۂ عرب سے یہودیوں کی جلاوطنی کی تلخی کو سمیٹے ہوئے مدینہ آیا۔ اپنے دل کے تمام اضطراب اور کینہ و بغض کے ساتھ اس نے بظاہر اسلام قبول کیا، جبکہ اس کا پختہ ارادہ یہ تھا کہ اس نوخیز اسلامی معاشرے کو فتنہ و فساد اور شکوک و شبہات کے بے کراں سمندروں میں غرق کر دے۔
( الشابی، علی، 1971م، النشرة العلميۃ لجامعۃ الزيتونۃ، كليۃ الشريعۃ وأصول الدين، اثرالتراث الشرقي في المذهب السبئيۃ، صفحہ 245-ع1، السنۃ الأولى: صفحہ 245)