سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس رویے کے برعکس حضرت علیؓ کا رویہ بھی ملاحظہ ہو۔ جب سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو باصرار مشورہ دیا کہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو امارتِ شام پر قائم رہنے دیجیے تو سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
فَوَ اللّٰہ لَا أُوَلی مِنْهُمْ أَحَدًا أَبَدًا، فَإِنْ أَقْبَلُوا فَذَلِكَ خَيْرٌ لَهُمْ، وَإِنْ أَدْبَرُوا بَذَلْتُ لَهُمُ السَّيْفَ
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ440 السنۃ الخامسۃ والثلاثون: تحت اتساق الامر فی البیعۃ لعلی بن ابی طالب)
ترجمہ: اللہ کی قسم! عمالِ عثمانؓ میں سے کسی کو بھی والی نہیں بناؤں گا اگر وہ مان گئے تو ان کے لیے بہتر ہے اور اگر انہوں نے سرکشی کی تو میں ان کے خلاف تلوار استعمال کروں گا۔
نیز: وَاللّهِ لَا أُعْطِيَهُ إِلَّا السَّيْفَ
(ایضاً: جلد 4 صفحہ 441، تحت بحث ہٰذا)
ترجمہ: اللہ کی قسم میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کو تلوار کے سوا کچھ نہ دوں گا۔
حافظ ابنِ کثیرؒ لکھتے ہیں:
وَلَمَّا ولی عَلِی بْنُ أَبِی طَالِبٍ الْخلَافَة أَشَارَ عَلَيْهِ كَثِيرٌ مِمَّنْ بَاشَرَ قَتْلَ عُثْمَانَ أَنْ يَعْزِلَ مُعَاوِيَةَ عَنِ الشَّامِ وَ يُوَلی عَلَيْهَا سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ فَعَزَلَهُ
(البدایہ والنہایہ: جلد 8 صفحہ21 تحت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما)
ترجمہ: حضرت علیؓ کے خلیفہ بنتے ہی قاتلینِ عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو اشارہ کیا کہ حضرت امیرِ معاویہؓ کو معزول کر کے ان کی جگہ سہل بن حنیفؒ کو والی مقرر کر دیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا۔
حافظ ابنِ کثیرؒ اس پر یوں تبصرہ کرتے ہیں:
وَانْتَشَرَتِ الْفِتْنَةُ وَ تَفَاقَمَ الْأَمْرُ، وَاخْتَلَفَتِ الْكَلِمَةُ
(البدایہ والنہایہ: جلد8 صفحہ229 سنہ 34ھ)
ترجمہ: یعنی اس فتنے کی بناء پر لوگوں میں انتشار پھیل گیا، معاملہ حدود سے تجاوز کر گیا اور کلمہ اسلام میں وحدت کے بجائے افتراق واقع ہو گیا۔
اور شیخ الاسلام حافظ ابنِ تیمیہؒ لکھتے ہیں:
قَدْ أَشَارَ عَلَيْهِ مَنْ أَشَارَ أَنْ يُقِرَّ مُعَاوِيَةَ عَلَى إِمَارَتِهِ فِی ابْتِدَاءِ الْأَمْرِ حَتّی يَسْتَقِيمَ لَهُ الْأَمْرُ، وَكَانَ هٰذَا الرَّأْی أَحْزَمَ، وَالَّذِينَ أَشَارُوا عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ كَانُوا حَازِمِينَ، وَعَلِی إِمَامٌ مُجْتَهِدٌ لَمْ يَفْعَلِ الْأَمْرَ مَصْلَحَةً لكن الْمَقْصُودُ أَنَّهُ لَوْ كَانَ يَعْلَمُ الْكَوَائِنَ لَكَانَ قَدْ عَلِمَ أَنَّ إِقْرَارَهُ عَلَى الْوِلَايَةِ أَصْلَحُ لَهُ مِنْ حَرْبِ صفِّينَ الَّتِی لَمْ يَحْصُلْ بِهَا إِلَّا زِيَادَةُ الشَّرِّ وَ تَضَاعُفُهُ، وَلَمْ يَحْصُلْ بِهَا مِنَ الْمَصْلَحَةِ شَیءٌ، وَكَانَتْ وِلَايَتُهُ أَكْثَرَ خَيْرًا وَأَقَلَّ شَرًّا مِنْ مُحَارَبَتِهِ، وَكُلُّ مَا يُظَنُّ فِی وِلَايَتِهِ مِنَ الشَّرِّ فَقَدْ كَانَ فِی مُحَارَبَتِهِ أَعْظَمَ مِنْهُ
(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ179،180 قال الرافضی الخامس اخبارہ بالغیب والکائن قبل کونہ الخ)
ترجمہ: سیدنا علیؓ کو مشورہ دینے والوں نے یہ مشورہ دیا کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کو امارت پر ابتداءً بحال رکھا جائے یہاں تک کہ معاملات درست ہو جائیں اور یہ رائے ان لوگوں کے نزدیک زیادہ حازم تھی جو حضرت علیؓ کے خیر خواہ اور ان سے محبت کرنے والے تھے یہ اور ان جیسی دیگر چیزیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ امیر المؤمنین کو (حضرت امیرِ معاویہؓ کی) بحالی کا مشورہ دینے والے حازم اور محتاط تھے حضرت علیؓ البتہ امام مجتہد تھے، انہوں نے اپنے طور پر جس چیز کو بہتر سمجھا وہی کیا اگر انہیں آئندہ وقوع پذیر ہونے والے واقعات کا پہلے سے علم ہوتا تو وہ جان لیتے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کو گورنری پر بحال رکھنا اس جنگِ صفین سے بہتر ہے جس سے کچھ فائدہ حاصل نہ ہوا، شر ہی میں اضافہ ہوا ان کا گورنری پر بحال رہنا بہ نسبت ان سے جنگ کرنے کے زیادہ بہتر تھا ان کی گورنری میں حضرت علیؓ کو جس شر کا امکان تھا، ان سے جنگ کرنے میں اس سے کہیں زیادہ شر تھا۔