اسلامی تصوف میں غیر اسلامی نظریات کی آمیزش کے اسباب - ردِ…

اسلامی تصوف میں غیر اسلامی نظریات کی آمیزش کے اسباب

  محمد ظفر اقبال

مسلمانوں میں غیر اسلامی تصوف کس طرح راہ پا گیا، اس کے اسباب و محرکات پر جناب پروفیسر یوسف سلیم چشتی رحمۃ اللہ کا تحقیقی بیان ملاحظہ فرمائیں:  

جس زمانے میں قرامطہ نے اپنی تبلیغی سرگرمیاں شروع کیں، مسلمانوں میں تصوف کا آغاز ہو چکا تھا اور مختلف سلسلے قائم ہو چکے تھے قرامطہ نے صوفیوں کے حلقوں میں مقبولیت حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو صوفی ظاہر کیا، یعنی تصوف کے لباس میں صوفیوں کو گمراہ کرنا شروع کیا، اور اسلامی تصوف میں غیر اسلامی عقائد کی آمیزش کر کے ایران میں غیر اسلامی تصوف کی بنیاد رکھ دی، جو رفتہ رفتہ تمام مسلمانوں میں شائع ہو گیا، اور اسلامی تصوف کے ساتھ اس طرح مخلوط ہو گیا کہ اسلامی اور غیر اسلامی تصوف میں امتیاز کرنا عوام کے لیے ناممکن ہو گیا۔ 

(اسلامی تصوف میں غیر اسلامی نظریات کی آمیزش: صفحہ 31 تحت: چوتھی بحث)

ایک طرف قرامطہ، ملاحدہ اور زنادقہ نے صوفیہ کے لباس میں مسلمانوں کو غیر اسلامی تصوف سے مانوس کر دیا، دوسری طرف مسلمان اور صحیح العقیدہ صوفیہ کرام رحمہم اللہ کی تصانیف میں نہایت چابک دستی کے ساتھ اپنے باطل عقائد داخل کر دیے۔

مفکرِ اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی قدس سرہ (متوفی 1420ھ)، حافظ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ (متوفی 728ھ) کے حالات میں لکھتے ہیں:  

بعض غیر محتاط و متعصب مصنفین نے ان کی طرف ایسے اقوال کی نسبت کی تھی جو عام عقیدۂ اہلِ سنت و جمہور کے مسلک کے مطابق موجبِ کفر ہیں، اور بعض ایسے اقوال ان کی طرف منسوب کیے گئے جن سے مقامِ رسالتﷺ میں سوءِ ادب اور تنقیص کا پہلو نکلتا ہے (اعاذنا اللہ و جمیع المسلمین منہ) یہ معاملہ تنہا امام ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ کے ساتھ نہیں کیا گیا، دوسرے اکابرِ امت بھی معاندین کی اس سازش کا شکار ہوئے ہیں ان کی طرف نہ صرف ان اقوال و عقائد کی نسبت کی گئی جن سے وہ بالکل بری تھے، بلکہ ان کی کتابوں میں ایسے مضامین شامل کیے گئے جو موجبِ کفر و ضلال تھے۔ 

(تاریخِ دعوت و عزیمت: جلد2 صفحہ 157، 158 تحت: مخالفت کے اسباب اور ان کے ناقدین و مدافعین)

ان دشمنانِ دین نے اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھایا کہ از خود مستقل کتابیں (جو کفریہ اقوال پر مشتمل تھیں) تصنیف کر کے معروف صوفیہ کرام کی طرف منسوب کر دیں، اور ان کی وسیع پیمانے پر اشاعت کی۔

حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:  

حجۃ الاسلام امام غزالیؒ کے ساتھ یہی سلوک ہوا ایک بڑے گروہِ علماء کا خیال ہے کہ: المضنون بہ علی غیر اہلہ، المضنون بہ علی اہلہ، معارج القدس، مشکوٰۃ الانوار بے اصل اور منحول کتابیں ہیں جو امام غزالیؒ کے دشمنوں اور بد خواہوں نے تصنیف کر کے ان کی طرف منسوب کر دی ہیں شیخ محی الدین ابنِ عربیؒ کی کتابوں میں بھی امام شعرانیؒ وغیرہ کا خیال ہے کہ یہ عمل ہوا ہے اور مضامین و مواد کی آمیزش کی گئی ہے۔  

(ایضاً، صفحہ 158)

عارفِ ربانی حضرت امام شعرانی رحمۃ اللہ (متوفی 976ھ) خود اپنی کتابوں کے متعلق ایک دلچسپ اور عبرت انگیز واقعہ لکھتے ہیں الیواقیت والجواهر میں فرماتے ہیں:

وَكَذَلِكَ دَسُّوا عَلَی أَنَا فِی كِتَابِی الْمُسَمَّى الْبَحْرَ الْمَوْرُودَ جُمْلَةً مِنَ الْعَقَائِدِ الزَّائِغَةِ، وَأَشَاعُوا تِلْكَ الْعَقَائِدَ فِی مِصْرَ وَمَكَّةَ نَحْوَ ثَلَاثِ سِنِينَ، وَأَنَا بَرِیءٌ مِنْهَا، كَمَا بَيَّنْتُ ذَلِكَ فِی خُطْبَةِ الْكِتَابِ لَمَّا غَيَّرْتُهَا، وَكَانَ الْعُلَمَاءُ كَتَبُوا عَلَيْهِ وَأَجَازُوهُ، فَمَا سَكَنَتِ الْفِتْنَةُ حَتّی أَرْسَلْتُ إِلَيْهِمُ النُّسْخَةَ الَّتِی عَلَيْهَا خُطُوطُهُمْ، وَكَانَ مِمَّنِ انْتَدَبَ لِنُصْرَتِی الشَّيْخُ الْإِمَامُ نَاصِرُ الدِّينِ اللُّقَانِی الْمَالِكِی رَضِی اللّٰہُ تَعَالى عَنْهُ، مِمَّا أَنَّ بَعْضَ الْحُسَّادِ أَشَاعَ فِی مِصْرَ وَ مَكَّةَ أَنَّ عُلَمَاءَ مِصْرَ رَجَعُوا عَنْ كِتَابَتِهِمْ عَلَى مُؤَلَّفَاتِ فُلَانٍ كُلِّهَا، فَشَكَّ بَعْضُ النَّاسِ فِی ذَلِكَ، فَأَرْسَلْتُ النُّسْخَةَ لِلْعُلَمَاءِ ثَالِثَ مَرَّةٍ، فَكَتَبُوا تَحْتَ خُطُوطِهِمْ: كَذَبَ وَاللّهِ مَنْ يَنْسُبُ إِلَيْنَا أَنَّنَا رَجَعْنَا عَنْ كِتَابَتِنَا عَلَى هٰذَا الْكِتَابِ وَغَيْرِهِ مِنْ مُؤَلَّفَاتِ فُلَانٍ وَ عِبَارَةُ سَيِّدِنَا وَ مَوْلَانَا الشَّيْخِ نَاصِرِ الدِّينِ الْمَالِكِی: فَسُبْحَانَ اللّهِ تَعَالى فِی أَجَلِهِ، بَعْدَ الْحَمْدِ لِلّٰهِ، وَ بَعْدَ فَمَا نُسِبَ إِلَى الْعَبْدِ مِنَ الرُّجُوعِ عَمَّا كَتَبْتُهُ بِخَطِّی عَلَى هٰذَا الْكِتَابِ وَغَيْرِهِ مِنْ مُؤَلَّفَاتِ فُلَانٍ بَاطِلٌ بَاطِلٌ 

(الیواقیت والجواہر: جلد 1 صفحہ7 الفصل الاول، تحت: بیان عقیدۃ الشیخ المختصرۃ الخ)

ترجمہ: اسی طرح انہوں نے میری کتاب بنام البحر المورود کے بارے میں میرے سر پر بھی بہت سے کج عقائد تھوپ دیے ہیں، اور انہیں مصر و مکہ مکرمہ میں تین سال تک پھیلاتے رہے، حالانکہ میں ان سے بری ہوں، جیسا کہ میں نے اس بات کو کتاب کے خطبے میں بوقتِ تبدیلیِ خطبہ بیان کر دیا ہے اور علماء نے اس پر تصدیقات لکھی ہیں اور تصویب کی ہے پس ابھی فتنہ تھما نہ تھا کہ میں نے ان علماء کی طرف ایک نسخہ، جس پر ان کی تحریرات تھیں، بھیجا تھا اور میری مدد و حمایت کرنے والوں میں ایک شیخ ناصر الدین اللقانی المالکی رحمۃ اللہ تھے پھر بعض حاسدین نے مصر و مکہ میں یہ بات پھیلا دی کہ مصر کے علماء نے فلاں شخص کی مؤلفات پر جو تحریں لکھی تھیں، اس سے انہوں نے رجوع کر لیا ہے چنانچہ اس پروپیگنڈے کے نتیجے میں بعض لوگوں کو شک ہو گیا بس پھر میں نے تیسری مرتبہ علماء کو اپنی کتاب کا نسخہ بھیجا، اور انہوں نے اپنی تحریروں کے نیچے لکھا: قسم بخدا، یہ جو ہماری طرف منسوب کیا جا رہا ہے کہ ہم نے فلاں شخص کی اس کتاب اور جملہ تصنیفات پر جو تصدیقات کیں، ان سے رجوع کر لیا، یہ جھوٹ ہے اور ہمارے سردار، شیخ مولانا ناصر الدین المالکیؒ اللہ تعالیٰ ان کی عمر دراز کرے کی عبارت یہ ہے: حمد و ثنا کے بعد! جو تصدیقات و تحریر اس بندے نے اس کتاب اور فلاں شخص کی دیگر تصانیف پر لکھی ہیں، ان کے بارے میں میری طرف سے رجوع کرنے کی نسبت کی جا رہی ہے، پس وہ باطل ہے! باطل ہے! باطل ہے!

اس تدسیس و تدلیس (جو باطنیہ و ملاحدہ نے صوفیہ کرام کی تصانیف میں کی ہیں) کی بہت سی مثالیں جناب پروفیسر یوسف سلیم چشتی رحمۃ اللہ کی کتاب اسلامی تصوف میں غیر اسلامی نظریات کی آمیزش میں دیکھی جا سکتی ہیں۔