Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت حسینؓ پر باغی ہونے کا الزام

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

اعتراض

امام مسلم بن حجاج القشیریؒ (ت 261ھ) روایت نقل کرتے ہیں:

عن عرفجةؓ قال: سمعت رسول اللہﷺ يقول: من أتاكم وأمركم جميع على رجل واحد يريد أن يشق عصاكم أو يفرق جماعتكم فاقتلوه۔

ترجمہ: سیدنا عرفجہؓ سے مروی ہے کہ میں نے اللہ کے رسولﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو شخص تمہارے پاس آئے، اس سے پہلے ایک شخص کے حق میں خلافت کا معاملہ طے ہو چکا ہو، پھر کوئی تمہارے اتحاد کو توڑنے یا تمہاری جماعت میں تفریق ڈالنے کے ارادے سے آگے بڑھے تو اسے قتل کر دو۔

(صحیح مسلم: رقم الحدیث 1852)

اس حدیث کی بنیاد پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ جب یزید کی امارت طے ہوچکی تھی تو حضرت حسینؓ نے یزید کے خلاف خروج کر کے مذکورہ بالا حدیث کی مخالفت کی اور باغی ثابت ہوئے۔

جواب نمبر 1

احادیث میں جس امام کے خلاف خروج کی ممانعت ہے اس سے مراد امام عادل ہے، اگر امام جائر (ظالم و فاسق) ہو تو اس کے خلاف خروج کرنا بغاوت نہیں ہو گا۔

حافظ بدر الدین العینی الحنفیؒ (ت 855ھ) نے باغی کی تعریف یوں کی ہے: 

فأهل البغی هم الخارجون على إمام الحق بغير حق۔

ترجمہ: باغی وہ لوگ ہیں جو شرعی حکمران کے خلاف ناحق اٹھ کھڑے ہوں۔

(البنايہ شرح الهدايہ: جلد 7 صفحہ 298 باب البغاة)

جواب نمبر 2

نبی اکرمﷺ کے فرامین مبارکہ جن میں جماعت سے الگ ہونے والے کے لیے قتل کا حکم دیا گیا ہے ان میں سے کوئی روایت سیدنا حسینؓ کے واقعہ پر منطبق نہیں ہو سکتی، اس لیے کہ حضرت حسینؓ جماعت سے الگ نہیں ہوئے تھے بلکہ وہ تو عمر بن سعد سے فرما رہے ہیں کہ آپ لوگ میری طرف سے ان تین چیزوں میں سے کوئی ایک چیز اختیار کر لیں:

1. میں جہاں سے آیا ہوں مجھے وہاں واپس جانے دیا جائے۔

2. مجھے موقع دیا جائے کہ میں یزید سے اس معاملہ میں بالمشافہہ بات کر سکوں۔

3. میں اسلام کی سرحدوں میں سے کسی سرحد کی طرف جانا چاہتا ہوں مجھے جانے دیا جائے تاکہ وہاں اسلام کی حفاظت کر سکوں۔ 

چنانچہ اس پر چند تصریحات ملاحظہ ہوں:

1. علامہ تقی الدین ابوالعباس احمد بن عبد الحلیم بن عبد السلام بن تیمیہ الحرانی الحنبلیؒ (ت 728ھ) لکھتے ہیں:

والحسين رضي اللہ عنہ ما خرج مقاتلا ولكن ظن أن الناس يطيعونہ، فلما رأى انصرافهم عنہ، طلب الرجوع إلى وطنہ أو الذهاب إلى الثغر، أو إتيان يزيد، فلم يمكنہ أولئك الظلمۃ لا من هذا ولا من هذا ولا من هذا وطلبوا أن يأخذوه أسيرا إلى يزيد، فامتنع من ذلك وقاتل حتى قتل مظلوما شهيدا لم يكن قصده ابتداء أن يقاتل۔

ترجمہ: سیدنا حسینؓ جنگ کے ارادے سے نکلے ہی نہیں تھے بلکہ ان کا تو خیال یہ تھا کہ لوگ ان کی اطاعت کریں گے، لہٰذا جب لوگوں نے ان کے ساتھ غداری کی تو سیدنا حسینؓ نے ان کے سامنے تین باتیں رکھیں:

1. مجھے واپس اپنے وطن جانے دیا جائے۔

2. یا مجھے اسلامی سرحدوں پر بھیج دیا جائے۔

3. یا مجھے براہ راست یزید کے پاس جانے دیا جائے۔ 

ان ظالموں نے کوئی بات بھی تسلیم نہیں کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ ان کو قیدی بنا کر یزید کے پاس پہنچایا جائے گا، تو اس نا گفتہ بہ صورتحال سے سیدنا حسینؓ نے کھلے طور پر انکار کر دیا اور جنگ کی یہاں تک کہ ظلماً شہید کر دیے گئے حالانکہ شروع میں آپ کا جنگ کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

(منہاج السنہ النبويہ: جلد، 2 صفحہ 173)

2. علامہ شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن عثمان ذہبیؒ (ت 748ھ) لکھتے ہیں:

الناصبۃ الذين يزعمون أن الحسين من الخوارج الذين شقوا العصا وانہ يجوز قتلہ لقولہ عليه السلام من أتاكم وأمركم على رجل واحد يريد أن يفرق جماعتكم فاضربوا عنقه كائنا من كان أخرجہ مسلم وأهل السنہ يقولون قتل مظلوما شهيدا وقاتلوه ظلمۃ معتدون وأحاديث قتل الخارج لم تتناولہ فإنہ لم يفرق الجماعۃ ولم يقتل إلا وهو طالب للرجوع أو المضي إلى يزيد۔

ترجمہ: ناصبی وہ لوگ ہیں جو یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ حضرت حسینؓ ان خارجیوں میں سے تھے جنہوں نے جماعت کے ٹکڑے کیے لہٰذا ان کو قتل کرنا جائز ہے، بطور دلیل نبی اکرمﷺ کا یہ قول پیش کرتے ہیں کہ جو شخص تمہارے پاس آئے جبکہ تمہارا ایک شخص پر اتفاق ہو گیا ہو اور وہ مسلمانوں کی جماعت میں دراڑیں ڈالنا چاہتا ہو تو اس کی گردن اڑا دو خواہ کوئی بھی ہو، اس حدیث کو امام مسلمؒ نے روایت کیا ہے اور اہلِ السنۃ والجماعۃ کہتے ہیں کہ حضرت حسینؓ ظلماً شہید کیے گئے اور کوفیوں نے ان کے ساتھ ظلماً قتال کیا اور زیادتی کی اور جو احادیث خارجیوں کے بارے منقول ہیں وہ تو ان پر پورا نہیں اترتیں، اس لیے کہ سیدنا حسینؓ نے جماعت میں کوئی تفریق نہیں ڈالی، وہ واپس (مدینہ منوره) یا یزید کے پاس جانا چاہتے تھے۔

(المنتقىٰ من منہاج الاعتدال للذھبی: صفحہ 307،306)

جواب نمبر 3:

سیدنا حسینؓ کی رائے کے مطابق یزید کی خلافت ابھی منعقد ہی نہیں ہوئی تھی، اس لیے کہ سیدنا معاویہؓ کے دور میں یزید کی ولی عہدی کی جو بیعت لی گئی تھی اس کی حیثیت سیدنا حسینؓ کے نزدیک محض ایک مشورہ کی تھی، اس سے یزید کی خلافت ثابت نہیں ہوتی۔

چنانچہ اسلامی سیاست کے مشہور عالم قاضی ابو یعلیٰ محمد بن الحسين الفراء الحنبلي الماوردیؒ (ت 458ھ) فرماتے ہیں:

لأن الإمامة لا تنعقد للمعهود إليه بنفس العهد وإنما تنعقد بعهد المسلمين۔

ترجمہ: اس لیے کہ خلافت محض ولی عہد بنانے سے منعقد نہیں ہوتی بلکہ مسلمانوں کے اسے قبول کرنے سے منعقد ہوتی ہے۔

(الاحكام السلطانيۃ: صفحہ 28، فصول فی الامامۃ)

سیدنا حسینؓ کی رائے کے مطابق یزید کی خلافت منعقد ہی نہیں تھی اس لیے یزید کے خلاف خروج کرنا بغاوت نہیں ہے۔ 

جواب نمبر 4:

سیدنا حسینؓ جو جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں، وہ باغی کیسے ہو سکتے ہیں؟

امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورة الترمذیؓ (ت 279ھ) روایت نقل کرتے ہیں:

عن أبي سعيد الخدريؓ قال: قال رسول اللہﷺ الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة۔

ترجمہ: سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: حسن و حسین (رضی اللہ عنہما) جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔ 

(جامع الترمذی: رقم الحدیث 3768)

امام شمس الدین محمد بن احمد بن عثمان الذھبیؒ (ت 748ھ) روایت نقل کرتے ہیں:

عن جابرؓ انہ قال وقد دخل الحسين المسجد من أحب أن ينظر إلى سيد شباب أهل الجنۃ، فلينظر إلى هذا سمعته من رسول اللہﷺ۔

ترجمہ: سیدنا جابرؓ نے سیدنا حسینؓ کو مسجد میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: جو شخص جنتی نوجوانوں کے سردار کو دیکھنا چاہتا ہو تو وہ اس نوجوان (سیدنا حسینؓ) کو دیکھ لے، میں نے خود رسول اللہﷺ سے سنا ہے (کہ حسینؓ جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں)

(سیر اعلام النبلاء للذهبي: جلد 4 صفحہ 145 ترجمۃ الحسين الشہيدؓ)