5: اہل بیت کی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے عقیدت و محبت
اہل بیت کی سیدنا عمر فاروقؓ سے عقیدت و محبت کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ بھی حضرت عمرؓ کے نام پر اپنے بیٹوں کے نام رکھتے تھے، ظاہر ہے کہ انھیں آپ سے محبت تھی، وہ آپ کی شخصیت سے متاثر تھے انھیں آپ کے بہترین کارناموں اور مکارم عظیمہ کا احترام تھا، اسلام کے راستہ میں آپ نے جو کچھ خدمات پیش کی تھیں اس کا پاس و لحاظ تھا اور ان عمیق مخلصانہ ومشفقانہ تعلقات کا اقرار تھا جو آپ کو اہلِ بیت سے قرابت داری، اور سسرالی رشتہ کی نسبت تھی، تبھی وہ ایسا کرتے تھے، چنانچہ سب سے پہلے حضرت علیؓ نے ام حبیب بنت ربیعہ البکریۃ کے بطن سے پیدا ہونے والے بیٹے کا نام عمر رکھا۔
(تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 213، الشیعہ وأہل البیت: صفحہ 133)۔
’’الفصول المہمۃ‘‘ کے مؤلف علی بن ابی طالب کی اولاد کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: تغلب قبیلہ کی صہباء بنت ربیعہ جو کہ معرکہ عین التمر میں حضرت خالد بن ولیدؓ کی چھاپہ ماری کے دوران قیدی بنائی گئی تھیں، ان کے بطن سے حضرت علیؓ کے بیٹے عمر پیدا ہوئے تقریباً (85) پچاسی سال زندہ رہے اور سیدنا علیؓ کی نصف میراث کے مالک ہوئے، کیونکہ ان کے تمام بھائی اور سگے بھائی یعنی عبداللہ، جعفر اور عثمان، سب کے سب حسین رضی اللہ عنہم کے ساتھ کربلا میں شہید ہو گئے تھے، اس لیے یہ تنہا ان سب کے وارث ہوئے۔
(الفصول المہمۃ: 143، الشیعۃ وأہل البیت: صفحہ 133)۔
سیدنا حسنؓ بھی حضرت عمرؓ سے اس اظہارِ عقیدت میں پیچھے نہ رہے اور اپنے ایک بیٹے کا نام عمر رکھا۔
(الشیعۃ و أہل البیت: صفحہ 133)۔
اسی طرح حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے اپنے بیٹے کا، اور ان کے بعد ان کے بیٹے علی نے جو کہ زین العابدین کے لقب سے مشہور ہیں، اپنے اپنے بیٹوں کے نام عمر رکھے۔
(الشعیۃ و اہل البیت: صفحہ 134)۔
نیز موسیٰ بن جعفر، جن کا لقب کاظم ہے، نے بھی اپنے ایک بیٹے کا نام عمر رکھا۔
(الشیعۃ وأہل بیت: صفحہ 135)۔
قابلِ غور بات ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اہلِ بیت کے امام کہے جاتے ہیں یہ لوگ سنتِ نبویﷺ پر چلتے رہے اور اہل سنت و جماعت کے نقوش پر کاربند ہو کر اپنی زندگی کو معطر کرتے رہے، حضرت عمرؓ کی وفات پر ایک طویل دور گزر جانے کے بعد بھی ان کے لیے اپنے دلوں میں پنہاں محبت اور تعلق خاطر کا اظہار کرتے رہے، حق کے فدائی ان اہل بیت میں صرف حضرت عمرؓ نہیں بلکہ ابوبکر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ناموں کا بھی رواج رہا، اور آج بھی اہل سنت و جماعت کا یہی منہج ہے، وہ ہاشمی گھرانے جو کتاب اللہ اور سنت رسول کے پابند ہیں ان کے یہاں ہم آج بھی دیکھتے ہیں تو صحابہؓ اور امہات المؤمنینؓ کے نام رکھے جاتے ہیں، وہ طلحہ، عبدالرحمٰن، اور عائشہ و امِ سلمہ نام کا انتخاب کرتے اور رکھتے ہیں، لہٰذا آج کے شیعہ حضرات کو میں دعوت دیتا ہوں کہ صاف دل ہو کر علی، حسن، حسین رضی اللہ عنہم اور اہل بیت کے دیگر ائمہ کا طرز عمل اپنائیں، اور اپنے بچوں وبچیوں کا نام خلفائے راشدینؓ اور امہات المومنینؓ کے نام پر رکھیں، ہم ان سے یہی توقع کرتے ہیں۔
(اذھبو ا فأنتم الرافضۃ: عبدالعریز زبیر: صفحہ 230)۔