مکارم و محاسن اخلاق - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مکارم و محاسن اخلاق

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

ان کے علاوہ بھی متعدد روایات ان سے مروی ہیں جنھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ذات پر بہت گہرے نقوش چھوڑے اور ان کی سیرت و کردار اعلیٰ مکارم و محاسن اخلاق سے مزین ہو گئے:

1۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عبادت کا انداز:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا عبادت کرنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و معمولات سے بہت زیادہ متاثر تھیں، کیونکہ سب لوگوں سے زیادہ یہی آپﷺ کے قریب ترین رہنے والی شخصیت ہیں اور آپﷺ خاص اوقات میں جو عبادت کرتے تھے اس کا حال سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی زیادہ جانتی تھیں، چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گھر میں عبادت کی اکثر روایات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے مروی ہیں، جن سے سیدہ عائشہؓ کی تمام عبادات کی مکمل تصویر سامنے آ جاتی ہے۔

(سیرۃ سیّدۃ عائشۃ للندوی: صفحہ 308۔ السیدۃ عاسیۃ ام المؤمنین و عالمۃ نساء الاسلام لعبد الحمید طہماز: صفحہ 161)

سب سے تعجب خیز حدیث وہ ہے جس میں عبادت کے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان مکالمہ ہوا اور جسے ابن عمیر نے روایت کیا۔ ان کے بقول:

’’ہم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق سب سے انوکھی خبر دیں جو کچھ سیدہ عائشہؓ نے دیکھا، تو وہ خاموش ہو گئیں۔

پھر یہ حدیث بیان کی کہ ایک رات کا واقعہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے عائشہ! تو مجھے جانے دے تاکہ آج رات اپنے رب کی عبادت کر لوں۔‘‘

بقول عائشہ رضی اللہ عنہا: میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپﷺ کا قرب چاہتی ہوں اور آپﷺ کو خوش کرنا چاہتی ہوں۔ وہ فرماتی ہیں کہ آپﷺ اٹھے وضو کیا پھر کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی۔

وہ بیان کرتی ہیں، آپﷺ اتنا روئے کہ آپﷺ کہ گود بھیگ گئی۔ وہ فرماتی ہیں کہ آپﷺ پھر رونے لگے حتیٰ کہ آپﷺ کی داڑھی تر ہو گئی۔

سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپﷺ پھر اتنا روئے کہ زمین تر ہو گئی۔ تب بلال رضی اللہ عنہ آپﷺ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے آئے۔ انھوں نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روتے ہوئے دیکھا تو کہا: اے رسول اللہ! آپ کیوں روتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دئیے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تو کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ بے شک آج رات مجھ پر ایک آیت نازل ہوئی، اس شخص کے لیے ہلاکت ہو جو اسے پڑھے اور اس پر عمل نہ کرے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اِنَّ فِىۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ وَالۡفُلۡكِ الَّتِىۡ تَجۡرِىۡ فِى الۡبَحۡرِ بِمَا يَنۡفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ مَّآءٍ فَاَحۡيَا بِهِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا وَبَثَّ فِيۡهَا مِنۡ کُلِّ دَآ بَّةٍ وَّتَصۡرِيۡفِ الرِّيٰحِ وَالسَّحَابِ الۡمُسَخَّرِ بَيۡنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ ۞ (سورة البقرة آیت 164)

ترجمہ: بیشک آسمان اور زمین کی تخلیق میں رات دن کے لگاتار آنے جانے میں اور ان کشتیوں میں جو لوگوں کے فائدے کا سامان لیکر سمندر میں تیرتی ہیں اس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا اور اس کے ذریعے زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندگی بخشی اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا دیئے، اور ہواؤں کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان تابع دار بن کر کام میں لگے ہوئے ہیں، ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہی نشانیاں ہیں جو اپنی عقل سے کام لیتے ہیں۔‘‘

(صحیح ابن حبان: 620۔ منذری نے اسے (الترغیب و الترہیب: جلد 2 صفحہ 316) میں صحیح کہا ہے اور البانی رحمہ اللہ نے صحیح الترغیب میں اسے حسن کہا ہے اور وادعی نے اسے (الصحیح المسند: 1654۔) میں روایت کیا جبکہ اس کی اصل صحیحین میں ہے۔)

تو اس لحاظ سے اس جیسے واقعات کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دل پر بڑا گہرا اثر تھا۔ جس سے ان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق بہت ہی مضبوط ہو گیا۔ نتیجتاً وہ کثرت سے عبادت کرنے والی، اللہ کے حضور کثرت سے قیام کرنے والی اور دائمی تہجد گزار تھیں ۔

(مصنف عبدالرزاق: جلد 8 صفحہ 454، حدیث: 15887)

قاسم رحمہ اللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما اپنی پھوپھی ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ وہ طویل قیام کرتی تھی۔ وہ کہتے ہیں:

’’میں جب صبح کو اٹھتا تو اپنی پھوپھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے ابتداء کرتا۔ سب سے پہلے انھیں سلام کرتا ایک بار میں جب صبح وہاں گیا تو دیکھا وہ نفل نماز میں یہ آیت پڑھی رہی تھیں:

 فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَا وَوَقٰٮنَا عَذَابَ السَّمُوۡمِ ۞(سورۃ الطور آیت نمبر 27)

ترجمہ: آخر اللہ نے ہم پر بڑا احسان فرمایا، اور ہمیں جھلسانے والی ہوا کے عذاب سے بچا لیا۔

وہ دعا کر رہی تھیں اور رو رہی تھیں اور وہ یہ آیت بار بار دہرا رہی تھیں میں نے کھڑے ہو کر انتظار کیا تاآنکہ میں اکتا گیا اور بازار میں اپنے کام کے لیے چلا گیا۔ پھر میں واپس لوٹا تو دیکھا کہ وہ اسی طرح نماز پڑھتے پڑھتے رو رہی ہیں۔‘‘

(ابن ابی دنیا نے اسے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ جیسا کہ یہ روایت فتح الباری میں ہے۔ (فتح الباری لابن حجر: جلد 4 صفحہ 247۔) اور ابن جوزی رحمہ اللہ نے اسے (صفۃ الصفوۃ: جلد 2 صفحہ 31) پر روایت کیا ہے

عبداللہ بن ابی موسیٰ رحمہ اللہ کو مدرک یا ابن مدرک نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کچھ مسائل پوچھنے کے لیے ان کے پاس بھیجا۔

بقول راوی:’’میں ان کے پاس گیا تو وہ اشراق کے نوافل پڑھ رہی تھیں۔ میں نے کہا میں ان کے فارغ ہونے تک بیٹھتا ہوں۔ تو ان کے پاس والوں نے کہا تو نے بہت مشکل فیصلہ کیا۔ یعنی تجھے طویل انتظار کرنا پڑے گا۔ کیونکہ وہ رکوع، سجود اور قیام کو طویل کرتی ہیں۔‘‘

(مسند احمد:جلد 6 صفحہ 125، حدیث: 24989۔ علامہ ہیثمی رحمہ اللہ نے (مجمع الزوائد: جلد 7 صفحہ 356۔) میں کہا ہے کہ اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں اور شعیب الارناؤط نے اسے مسند احمد کی تحقیق کرتے ہوئے صحیح کہا ہے۔

صفحہ 1 از 4