2۔ فتح افریقہ کے موقع پر کبار صحابہؓ کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی عثمان رضی اللہ عنہ کے مشیر:
امیر المؤمنین عثمان بن عفانؓ کے پاس انھیں کے مقرر کردہ مصر کے گورنر عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہما آئے اور کہا کہ مسلمان افریقہ کے قرب وجوار کے علاقوں پر یورش کرتے ہیں اور اپنے دشمنوں پر غالب آ جاتے ہیں، دہ مسلمانوں کے علاقوں کے قریب بستے ہیں۔
حضرت عثمان غنیؓ نے اس کے فوراً بعد افریقہ میں فوج بھیجنے اور جنگ لڑنے سے متعلق مسور بن مخرمہؓ سے اپنا ارادہ ظاہر کیا، دونوں کی گفتگو یہ تھی:
عثمان: اے ابن مخرمہ تمھاری کیا رائے ہے؟
ابن مخرمہ: ان سے جنگ کیجیے۔
عثمان: آج بڑے بزرگ اصحابِ رسولﷺ کو اکٹھا کروں گا، اور ان سے مشورہ لوں گا جس پر سب کا اتفاق ہو گا، یا اکثریت کا اتفاق ہوا وہی کروں گا۔ پھر کہا: علی، طلحہ، زبیر اور عباس کو دیکھو، بلاؤ اور بھی چند لوگوں کا نام لیا، اس کے بعد ہر ایک سے مسجد میں الگ الگ تنہائی میں بات کی۔ پھر ابوالاعور یعنی سعید بن زید کو بلایا۔
عثمان: اے ابو الاعور! تم افریقہ میں اسلامی فوج بھیجنے سے کیوں بھاگتے ہو؟
ابو الأعور: میں نے حضرت عمرؓ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تک میری آنکھوں میں پانی ہے کسی مسلمان کو اس پر حملہ کرنے کے لیے تیار نہیں کروں گا، اس لیے میں آپ کے لیے حضرت عمر فاروقؓ کی مخالفت مناسب نہیں سمجھتا۔
عثمان: اللہ کی قسم ہمیں ان سے قطعاً کوئی خوف نہیں ہے، اگر وہ اپنی جگہوں پر قائم رہے اور معارضہ نہ کیا تو ان سے جنگ نہ لڑی جائے گی، چنانچہ شرکائے شوریٰ میں سے کسی نے بھی آپ کی رائے کی مخالفت نہ کی؟ پھر آپ نے خطبہ دیا، اور لوگوں کو افریقہ کے ساتھ جنگ لڑنے پر ابھارا، اور عبداللہ بن زبیر، اور ابو ذر غفاری وغیرہ رضی اللہ عنہم جہاد افریقہ کے لیے نکلے۔
(ریاض النفوس: جلد 1 صفحہ 8، 9، الجہاد والقتال: ہیکل: جلد 1 صفحہ 556)