معاصر (دورِ حاضر کے) مصنفین اور اہلِ قلم کے ایک گروہ نے عبد اللہ بن سبا کے وجود کا سرے سے انکار کرنے کی کوشش کی ہے اور اس معاملے میں انہوں نے مختلف راہیں اختیار کی ہیں۔ ان میں سے بعض تو وہ ہیں جنہوں نے اس کے وجود ہی کو تسلیم نہیں کیا، جبکہ بعض کا کہنا یہ ہے کہ اگر ہم بحث اور فرضی طور پر (جدلاً) اس کے وجود کو تسلیم کر بھی لیں، تب بھی ہم اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ نوخیز اسلامی ریاست کے ابتدائی دور میں رونما ہونے والے فتنوں میں اس کا اس قدر (بڑا) اثر و رسوخ رہا ہو۔ چنانچہ ہم ان تمام شکوک و شبہات اور اوہام کویہاں پیش کریں گے تاکہ ان کی حقیقت اور زائف و باطل ہونا واضح کیا جا سکے۔