صدیق اکبر کون؟ حضرت ابوبکر یا حضرت علی رضی اللہ عنہما
علیانرافضیوں اور نیم رافضیوں کی طرف سے پھیلایا گیا پروپیگنڈہ کہ صدیقِ اکبر اور فاروقِ اعظم سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں
حالانکہ یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ صدیقِ اکبر لقب سیدنا ابوبکرؓ کا اور فاروقِ اعظم لقب سیدنا عمر بن خطابؓ کا ہے
فی الحال یہاں پر سیدنا ابوبکرؓ کے لئے صدیق کے لقب کو مستند ذرائع سے ثابت کیا جائے گا
صحیح احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے "صدیق اکبر" کا لقب صرف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو عطاء فرمایا تھا، کیونکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کسی دلیل کا مطالبہ کیے بغیر آپﷺ کی ہر بات کی تصدیق فرماتے تھے۔
سب سے پہلے آپﷺ کے دعویٰ نبوت کی تصدیق فرما کر مشرف باسلام ہوئے۔
فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «إن الله بعثني إليكم فقلتم كذبت، وقال أبو بكر صدق و واساني بنفسه وماله۔ الخ(بخاری: حدیث نمبر: 3661)
آپﷺ نے فرمایا: اللہ نے مجھے تمہاری طرف نبی بنا کر بھیجا تھا اور تم لوگوں نے مجھ سے کہا تھا کہ تم جھوٹ بولتے ہو، لیکن ابوبکر نے کہا تھا کہ آپ سچے ہیں اور اپنی جان و مال کے ذریعہ انہوں نے میری مدد کی تھی۔ الخ
جب آپﷺ سفرِ معراج سے واپس تشریف لائے، اور اپنے سفر کے بارے میں مشرکینِ مکہ کو بتایا، تو انہوں نے اعتراض کیا، لیکن حضرت ابوبکرؓ نے تصدیق فرمائی تو جناب رسول اللہﷺ نے حضرت ابوبکر کو "صدیق" کے لقب سے ملقب فرمایا۔
أخبرني مكرم بن أحمد القاضي، ثنا إبراهيم بن الهيثم البلدي، ثنا محمد بن كثير الصنعاني، ثنا معمر بن راشد، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة رضي الله عنها قالت: " لما أسري بالنبي صلى الله عليه وسلم إلى المسجد الأقصى أصبح يتحدث الناس بذلك، فارتد ناس فمن كان آمنوا به وصدقوه، وسمعوا بذلك إلى أبي بكر رضي الله عنه، فقالوا: هل لك إلى صاحبك يزعم أنه أسري به الليلة إلى بيت المقدس، قال: أو قال ذلك؟ قالوا: نعم، قال: لئن كان قال ذلك لقد صدق، قالوا: أو تصدقه أنه ذهب الليلة إلى بيت المقدس وجاء قبل أن يصبح؟ قال: نعم، إني لأصدقه فيما هو أبعد من ذلك أصدقه بخبر السماء في غدوة أو روحة، فلذلك سمي أبو بكر الصديق
(هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه: المستدرك على الصحيحين: جلد نمبر 3 حدیث نمبر4407)
ترجمہ: حضرت ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ جب نبی کریمﷺ کو مسجد اقصٰی تک سیر کرائی گئی اور صبح کے وقت لوگوں نے اس موضوع پر بات چیت شروع کی تو کچھ لوگ جو آپﷺ پر ایمان لا چکے تھے اور آپﷺ کی تصدیق کر چکے تھے، مرتد ہو گئے، وہ سیدنا ابوبکرؓ کے پاس آئے اور کہا: یہ آپؓ کا ساتھی اس قسم کا دعویٰ کر رہا ہے کہ اسے آج رات بیت المقدس تک سیر کرائی گئی، اب آپؓ اس کے بارے میں کیا کہیں گے؟
سیدنا ابوبکرؓ نے پوچھا: آیا آپﷺ نے یہ دعویٰ کیا ہے؟
انہوں نے کہا: جی ہاں! سیدنا ابوبکرؓ نے کہا: اگر آپﷺ نے ایسی بات کی ہے تو آپﷺ نے سچ فرمایا ہے، انہوں نے کہا: کیا تم تصدیق کرو گے کہ آپﷺ راتوں رات بیت المقدس گئے اور صبح سے پہلے پہلے واپس بھی آ گئے ہیں؟ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے کہا: ہاں!
(غور کرو کہ) میں تو ان امور میں بھی آپﷺ کی تصدیق کرتا ہوں، جو تمہاری سمجھ کے مطابق اس واقعہ سے بھی مشکل اور بعید ہیں، میں تو صبح کے وقت آسمانی خبر یعنی آپﷺ پر نازل ہونے والی وحی کی تصدیق کرتا ہوں، وہ صبح کو ہو یا شام کو، اسی وجہ سے ابوبکرؓ کو "صدیق" کہا گیا۔
حضرت نزال بن سبرہؓ سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے عرض کی کہ حضرت ابوبکرؓ کے بارے میں کچھ بیان فرمائیں تو انہوں (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: ابوبکرؓ وہ شخصیت ہیں جن کا لقب اللہ رب العزت نے حضرت جبرائیل علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفٰیﷺ کی زبان سے ’’صدیق‘‘ رکھا۔
(مستدرک: جلد 3 حدیث 4406)
حضرت ابو یحییٰؓ سے روایت ہے: انہوں نے حضرت علی المرتضٰیؓ کو قسم اُٹھا کر کہتے ہوئے سُنا کہ حضرت ابوبکرؓ کا لقب ’’صدیق‘‘ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے نازل فرمایا۔
(مستدرک: جلد نمبر 3 حدیث نمبر 4405)
حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن سعيد، عن قتادة، أن أنس بن مالك رضي الله عنه، حدثهم أن النبي صلى الله عليه وسلم صعد أحدا، وأبو بكر، وعمر، وعثمان فرجف بهم، فقال: اثبت أحد فإنما عليك نبي، وصديق، وشهيدان.
(بخاری: حدیث نمبر 3675)
حضرت انسؓ سے روایت ہے: کہ رسول اللہﷺ ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر احد پہاڑ پر چڑھے تو احد کانپ اٹھا، آپﷺ نے فرمایا "احد! قرار پکڑ کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔
علامہ نوویؒ نے فرمایا کہ امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کا لقب "صدیق" تھا۔
حضرت علیؓ نے فرمایا: ابوبکر ہی وہ شخصیت ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کی زبانی "صدیق" کا لقب عطاء فرمایا۔
حضرت ابو یحییٰ حکیم بن سعدؓ سے روایت کرتے ہیں: کہ میں نے حضرت علی المرتضیٰؓ کو اللہ کی قسم اٹھا کر کہتے ہوئے سُنا کہ ابوبکرؓ کا لقب ’’صدیق‘‘ آسمان سے اتارا گیا۔
(تاريخ الکبير للامام بخاری: جلد 1 حدیث 277)
اسی طرح "فاروق" کا لقب حضرت عمر فاروق بن الخطابؓ کے لیے خاص ہے۔
کتب تفسیر میں ہے:
وقال جبريل: إن عمر فرق بين الحق والباطل فلقبه النبيء صلى الله عليه وسلم
(تفسیر بغوی: جلد 2 صفحہ 243)
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضرت عمرؓ کے بارے میں فرمایا: عمر نے حق اور باطل میں تفریق کی تو آپﷺ نے حضرت عمرؓ کو "فاروق" کے لقب سے ملقب فرمایا۔