کیا سیدنا حسینؓ طلب اقتدار کے لیے نکلے تھے؟ - دفاعِ اہلِ…

کیا سیدنا حسینؓ طلب اقتدار کے لیے نکلے تھے؟

  مولانا اقبال رنگونی

یہ صحیح ہے کہ یزید کے بارے میں جو خبریں اور اطلاعات مل رہی تھیں اس کی روشنی میں سیدنا حسینؓ کا مؤقف تھا کہ وہ اس اقتدار کے لائق نہیں ہے اور مسلم حکمرانوں کی جو صفات ہونی چاہیے یزید ان صفات سے عاری ہے اسی لیے جب آپؓ سے یزید کی بیعت کے لیے کہا گیا تو آپؓ نے اس کا انکار کر دیا تھا البتہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سیدنا حسینؓ اقتدار کے طالب تھے ان کا یہ گمان درست نہیں ہے۔

حضرت الاستاذ علامہ خالد محمود صاحبؒ لکھتے ہیں:  

سیدنا حسینؓ جو برسوں سے مدینے کے باسی تھے، یہ یزید کے اقتدار پر راضی نہ تھے یہ نہیں کہ وہ اپنا اقتدار چاہتے تھے تاریخ کے عام طالبِ علم یہ سمجھتے ہیں کہ جب ان کو کوفہ کے لوگوں نے خطوں پر خط لکھ کر کوفہ بلایا تو اس کا مطلب سوائے اس کے کیا ہو سکتا ہے کہ آپؓ یہاں آئیں اور ہماری سیاسی قیادت کریں یہ گمان صحیح نہیں، "اِنَّ بَعۡضَ الظَّنِّ اِثۡمٌ‌" کے قبیل سے ہے اہلِ بیتؓ کے بزرگ وحدتِ سلطنت کے لیے سلطنتیں دینا تو جانتے ہیں، لینا نہیں ان کی نظر میں رضاءِ الٰہی کے مقابل یہ دنیا کا چند روزہ اقتدار کوئی چیز نہیں تھا سو یہ بات ہرگز لائقِ پذیرائی نہیں کہ آپؓ حصولِ اقتدار کے لیے مدینہ سے نکلے تھے کوفہ جانے کا مطلب کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ آپؓ وہاں نئے حالات میں وحدتِ سلطنتِ اسلامی کے لیے لوگوں کو کوئی اچھا مشورہ دے سکیں کہ وحدتِ سلطنتِ اسلامی بھی قائم رہے اور یزید سے بھی وہ دور رہیں؟ ہو سکتا ہے کہ یزید خود کبھی ان کے ہاں حاضر ہو جائے۔  

(تجلیاتِ آفتاب: جلد 2 صفحہ 182)

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سیدنا حسینؓ محض اس لیے یزید کے مقابلے پر نکلے تھے کہ آپؓ حکومت کے خواہش مند تھے اور کاروبارِ حکومت کے دلدادہ تھے، جیسا کہ خارجی محمود احمد عباسی کہتا ہے۔  

(رسوماتِ محرم اور تعزیہ داری: صفحہ 60)

ہم ان لوگوں کی یہ بات کیسے تسلیم کر لیں کہ سیدنا حسنؓ و حسینؓ محض حصولِ اقتدار کے لیے مکہ مکرمہ سے کوفہ آئے تھے؟ یہ وہ لوگ ہیں جو سیدنا حسینؓ کے کردار کو مشکوک بنا کر مسلمانوں کے دلوں سے آپؓ کی عظمت ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جب کہ ہر مسلمان آپؓ سے محبت کرتا ہے، آپؓ کی عظمت کا قائل ہے، آپؓ سے عقیدت رکھتا ہے اور آپؓ کی مظلومانہ شہادت پر غمزدہ ہے۔

حضرت الاستاذ مفکرِ اسلام، حضرت علامہ خالد محمود صاحبؒ محرم میں ہونے والی ایک مجلس میں فرماتے ہیں: 

کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سیدنا حسینؓ اس لیے لڑے تھے کہ وہ خود خلیفہ بننا چاہتے تھے تو مان لو یہ بات غلط ہے ان حضرات کا کردار کیا ہے؟ سیدنا حسنؓ کے اپنے ہاتھ میں جو حکومت تھی، وہ حکومت انہوں نے اپنے والد کے بعد عراق میں وراثت میں پائی تھی اور اس کے بعد عراق کے لوگوں نے ان کی خلافت کو قبول کیا تھا، تو سیدنا حسنؓ نے اپنی بنی بنائی حکومت جتنی بھی تھی وہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کو دے دی تو اب کیا آپ خیال کر سکتے ہیں کہ سیدہ فاطمہؓ کے لعل جس طرح حسینؓ تھے اس طرح حسنؓ بھی تھے؟ تو سیدنا حسنؓ نے آئی حکومت دے دی تو کیا حسینؓ کا کردار یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت کی خاطر نکلے ہوں؟ یہ بالکل غلط ہے وہ اقتدار کے بھوکے نہ تھے نہ اقتدار کی طلب میں آئے تھے جن مؤرخین نے اس طرح ان کی تصویر کھینچی ہے، اہلِ سنت والجماعت کے مسلک کے مطابق وہ تصویر غلط ہے کہ سیدہ فاطمہؓ کے بچے اس کردار کے تھے؟ نہیں، وہ تو بنی بنائی حکومتیں دینا جانتے ہیں، لینے کے لیے وہ کبھی اٹھیں گے؟ اقتدار کے وہ کبھی بھوکے ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ (محرم کی 10 راتیں: صفحہ 92)

اور اگر آپ بقول ان لوگوں کے اقتدار کے لیے بھی بلائے گئے ہوں تو اس میں اعتراض کی بھی کیا بات ہے؟

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (1362ھ) اس اعتراض کے جواب میں فرماتے ہیں:

ایک شخص ایک روز کہنے لگا کہ سیدنا حسینؓ دنیا کے واسطے لڑے تھے میں نے کہا یہ غلط ہے وہ حضرات دنیا کے طالب ہرگز نہ تھے بہت سے بہت یوں کہہ سکتے ہیں کہ سلطنت تو دنیا نہیں، اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُواالصَّلٰوةَ وَاٰتَوُاالزَّكٰوةَ اس کی واضح دلیل ہے۔ (افاضات: جلد 5 صفحہ 228)