مودودی، نصیری مماثلت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مودودی، نصیری مماثلت

  محمد ظفر اقبال

ہاں، مصنفِ نام و نسب ضرور فکری طور پر نہ صرف مودودی کے ہم مسلک و ہم مشرب ہیں، بلکہ مودودی افکار و خیالات کے پُرزور داعی و منادی بھی ہیں حتیٰ کہ ان کی تحریروں تک میں مودودی مماثلت پائی جاتی ہے چند مقامات ملاحظہ ہوں:

1: مفکرِ اسلام حضرت مولانا سید علی میاں ندویؒ نے جب مودودی افکار پر مخلصانہ تنقید کرتے ہوئے ایک رسالہ عصرِ حاضر میں دین کی تفہیم و تشریح تالیف فرمایا، تو مودودی نے اس کی وصولی پر حضرت مولانا علی میاںؒ کو لکھا:  

میں نے کبھی اپنے کو تنقید سے بالا تر نہیں سمجھا، نہ میں اس پر برا مانتا ہوں البتہ یہ ضروری نہیں کہ میں ہر تنقید کو برحق مان لوں اور ناقدین کے بیان کردہ خدشات اور اندیشوں کو صحیح تسلیم کر لوں۔

(پرانے چراغ: جلد2 صفحہ317 تحت مضمون مولانا سید ابو الاعلی مودودی)

یہ تو مودودی کا کہنا تھا، اب مصنفِ نام و نسب کا مودودی اتباع میں پیرایہ بیان ملاحظہ ہو:  

آپ کے لیے ضروری نہیں کہ میرے خیالات کو آپ ہر صورت میں قبول و تسلیم ہی کریں، اور پھر جو کچھ آپ ارشاد فرمائیں وہ اندھوں اور بہروں کی طرح میں تسلیم کر لوں۔(نام و نسب: صفحہ540)

2: مودودی لکھتا ہے:  

صحابہ کرامؓ کو برا بھلا کہنے والا میرے نزدیک فاسق ہی نہیں بلکہ اس کا ایمان بھی مشتبہ ہے۔ مَن أَبغَضَهم فَببغضی أَبغَضَهم

(ترجمان القرآن: اگست 1961ء)

لیکن خود اپنی ہی تصریح کے برعکس مودود نے صحابہ کرامؓ کو صاف برا بھلا کہا ہے اسی طرح مصنفِ نام و نسب نے حضرت امیرِ معاویہؓ پر تبراء و تنقید کرنے کے بعد لکھا ہے:  

ان سب کے باوجود سیدنا امیرِ معاویہؓ کو دائرہ صحابیت سے خارج کرنا یا دور ازکار تاویلات اور فضول تشریحات سے کافر و مشرک ثابت کرنا نہ صرف گناہِ عظیم، بلکہ میرے خیال کے مطابق توہینِ صحابیتِ رسولِ کریمﷺ بھی ہے، اور آنحضرتﷺ کی ہتک، خواہ بالواسطہ ہو یا بلا واسطہ، از خود موجبِ کفر و الحاد ہے۔

(نام و نسب: صفحہ519)

3: مودودی لکھتا ہے:

"میں نے دین کو حال یا ماضی کے اشخاص سے سمجھنے کے بجائے ہمیشہ قرآن و سنت ہی سے سمجھنے کی کوشش کی ہے اس لیے میں کبھی یہ معلوم کرنے کے لیے کہ خدا کا دین مجھ سے اور ہر مؤمن سے کیا چاہتا ہے، یہ دیکھنے کی کوشش نہیں کرتا کہ فلاں اور فلاں بزرگ کیا کہتے ہیں، بلکہ صرف یہ دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ قرآن کیا کہتا ہے اور رسول اللہﷺ نے کیا کہا۔

(ترجمان القرآن: مارچ تا جون 45ء صفحہ، 45 بحوالہ روئیداد اجتماع جماعت اسلامی: حصہ 3  صفحہ37)

یہی بات ذرا دوسرے انداز سے مصنفِ نام و نسب کی زبانی ملاحظہ فرمائیے:  

اگر کوئی صاحب مجھ سے یہ فرمائیں کہ اب آپ چودہ سو سال بعد نئی تحقیق کر کے کیا گل کھلائیں گے، آخر اکابرِ امت کو بھی تو یہ سب کچھ معلوم تھا، انہوں نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ تو جواباً عرض ہے کہ ہم اکابرِ امت کو صرف اس لیے نگاہِ احترام سے دیکھتے ہیں کہ انہوں نے قرآن و حدیث کی خدمت کی، ان کے معارف و حقائق سے لوگوں کو آگاہ کیا اور اشاعتِ دین کا فریضہ انجام دیا اگر اسلامی نسبت کو اکابرِ امت سے ہٹا دیا جائے تو ان کی حیثیت تو عام انسانوں کی سی رہ جاتی ہے میرا ذہن اس اندازِ تقلید کا حامی نہیں اللہ نے جب عقل و شعور کے ساتھ کچھ نہ کچھ علم بھی عطاء فرمایا ہے تو قرآن میں خود تدبر کرنا ضروری سمجھتا ہوں، جیسا کہ کئی آیات میں اس کا صریح حکم موجود ہے۔ ہاں، ہمیں مفسرینِ سلف اور محدثینِ گزشتہ کی خدمات اور ان کی علمیت کا ضرور اعتراف ہے۔

(ایک مقام پر مودودی لکھتا ہے:

محدثین رحمہم اللہ کی خدمات مسلم یہ بھی مسلم کی نقدِ حدیث کے لیے جو مواد انہوں نے فراہم کیا ہے وہ صدرِ اول کے اخبار و آثار کی تحقیق میں بہت کار آمد ہے، کلام اس امر میں ہے کہ کلیۃً ان پر اعتماد کرنا کہاں تک درست ہے؟ وہ بہرحال تھے تو انسان ہی، انسانی علم کے لیے جو حدیں فطرۃ اللہ نے مقرر کر رکھی ہیں ان سے آگے وہ نہیں جا سکتے تھے، انسانی کاموں میں جو نقائص فطری طور پر پایا جاتا ہے اس سے تو ان کے کام محفوظ نہ تھے۔ پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ جس کو وہ صحیح قرار دیں وہ حقیقت میں بھی صحیح ہے۔ تفہیمات: صفحہ292 تحت مسلک اعتدال)

ہم ان اربابِ علم کی تشریحات کا ضرور مطالعہ کریں گے، مگر اس کے ساتھ متنِ قرآن کو خود بھی دیکھیں گے کسی مفسر اور محدث سے کسی مسئلے پر بر بنائے دلائل اختلاف رکھنا کوئی کفر تو نہیں، جیسا کہ آج کل کے بعض تنگ نظر اور قدامت پرست علماء ایسا کرنے پر بری طرح بھڑک اٹھتے ہیں ایسی کوئی بات نہیں، وہ ہم ہی جیسے انسان تھے، کوئی مافوق البشر قسم کی مخلوق تو نہ تھے۔

(نام و نسب: صفحہ 539)