آخر حق کس کے پاس؟؟؟ داستانِ ہدایت حضرت مولانا عرفان حیدر…

آخر حق کس کے پاس؟؟؟ داستانِ ہدایت حضرت مولانا عرفان حیدر عابدی

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 1 از 5

 *آخر حق کس کے پاس؟؟؟*

داستانِ ہدایت حضرت مولانا عرفان حیدر عابدی


قائد ملت جعفریہ سید حامد علی موسوی کے فرزند ارجمند اور سابق اسپیکر فخرامام کے بھانجے حضرت مولانا عرفان حیدر عابدی جو شیعہ مذہب کی قیادت کے گھرانے میں پیدا ہوئے،ان کے آباؤ اجداد نہ صرف شیعہ تھے بلکہ شیعوں کے رہنماء و مقتدیٰ تھے،انہوں نے ابتدائی تعلیم چار سال تک جامعہ المنتظر لاہور میں حاصل کی پھر چار سال اسلام آباد میں شیخ محسن کے پاس پڑھتے رہے،اس کے بعد دو سال کے لیے ایران قم یونیورسٹی میں چلے گئے،ایران سے فراغت کے بعد سرگودھا،شیخوپورہ ،کراچی بھکر،مختلف شہروں میں مرکزی خطیب رہے اس کے باوجود انہوں نے شیعہ مذہب کیوں چھوڑا اور شیعہ مذہب چھوڑنے کے بعد ان پر کیا مشکلات آئیں آئیں اس کی تفصیل خود ان کی زبانی سنتے ہیں۔۔۔۔!!!

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم،وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ-اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا(81) صدق اللہ العظیم۔

میں نے تمہارے سامنے آیت تلاوت کی ہے۔

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ-اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا(81)

 جب حق آتا ہے تو باطل دوڑ جاتا ہے۔
آج بتوں کا پجاری کہتا ہے۔۔۔۔حق میرے پاس ہے۔
قبروں کا پجاری کہتا ہے۔۔۔۔حق میرے پاس ہے۔
مرزائی کہتا ہے۔۔۔۔حق میرے پاس ہے۔
یہودی کہتا ہے۔۔۔۔حق میرے پاس ہے۔
کمیونسٹ کہتا ہے۔۔۔۔حق میرے پاس ہے۔
رافضی کہتا ہے۔۔۔۔حق میرے پاس ہے۔
 *رب کعبہ کی قسم! میں کہتا ہوں* 
جس کا تعلق اللہ کے ساتھ ہے ہے۔۔۔۔حق اس کے پاس ہے۔
جس کا تعلق محمد عربیﷺ کے ساتھ ہے۔۔۔۔حق اس کے پاس ہے۔
جس کا تعلق کعبہ کے ساتھ ہے۔۔۔۔ حق اس کے پاس ہے۔
جس کا تعلق مدینہ کے ساتھ ہے۔۔۔۔حق اس کے پاس ہے۔
جس کا تعلق صدیق اکبرؓ کے ساتھ ہے۔۔۔۔حق اس کے پاس ہے۔
جس کا تعلق فاروق اعظمؓ کے ساتھ ہے۔۔۔۔حق اس کے پاس ہے۔
جس کا تعلق عثمان غنیؓ کے ساتھ ہے۔۔۔۔حق اس کے پاس ہے۔
جس کا تعلق المرتضیؓ کے ساتھ ہے۔۔۔۔حق اس کے پاس ہے۔
 *♦️اسلام تو اب لایا ہوں♦️* 
لوگ کہتے ہیں *عابدی!*تم بے ایمان ہو چکے ہو،تم بے دین ہو چکے ہو،تم اپنے بابے کو چھوڑ کر صدیقؓ و عمؓر کے دروازے پر جا چکے ہو۔
 *رب کعبہ کی قسم!* عابدی اعلان کرتا ہے جواب دیتا ہے،وہ **پہلے ابوبکر تھا جب آیا تو صدیق اکبرؓ بنا،وہ پہلے عمر تھا جب آیا تو فاروق اعظمؓ بنا،وہ پہلے عثمان تھا جب آیا تو النورینؓ بنا،دوہرا داماد بنا،پہلے وہ علیؓ تھا جب آیا تو حیدر کرار اسد اللہ الغالب بنا،فاطمہؓ کا شوہر بنا، پہلے کالا بلالؓ تھا جب آیا تو مسجد نبوی کا موذن بنا،اسلام کے بعد یہ سارے بھائی بھائی بن گئے، *رحماء بینہم* بن گئے،افضل اور اکمل بن گئے،خدا کی قسم عابدی بےایمان نہیں ہوا،بلکہ ایمان تو لایا ہی اب ہے مرتد اب نہیں بنا،مرتد تو پہلے تھا،اب تو اسلام میں داخل ہوا ہے۔

 *♦️شیعہ کو مسلمان کیسے کہوں* ♦️
دو منٹ ہوئے ایک عزیز میرے پاس آیا اور کہنے لگا کے سنی بھی ایک مسلمان فرقہ ہے شیعہ بھی مسلمان فرقہ ہے،ہم تو شیعہ کو مسلمان سمجھتے ہیں میں نے کہا! کیا تم شیعہ کو مسلمان سمجھتے ہو اگر مجھ سے پوچھا جائے تو سنیو! کہوں گا ہندو اپنے آپ کو کافر تسلیم کرتا۔یہودی کافر ہیں وہ بھی اپنے آپ کو کافی تسلیم کرتے ہیں مگر شیعہ اپنے آپ کو مسلمان سمجھ کر،محمد رسول اللہﷺ کا امتی کہلوا کر،ازواج مطہراتؓ پر لعنت بھیجتا ہے، صحابہؓ پر تبرا کرتا ہے،کلمہ علیحدہ پڑھتا ہے، قرآن کو محرف مانتا ہے،اور یہ بھی بکواس کرتا ہے کہ نبوت  تو حضرت علیؓ بن ابی طالب پرآتی  تھی،جبرائیلؑ نے آکر محمد عربیﷺ کو نبی بنا دیا میں اس فرقہ کو مسلمان کیسے کہہ دوں یہ تو کافر سے بھی بدتر ہے۔

♦️ *تعارف* ♦️
 *میرے دوستوں* ! میں نے آج تقریر نہیں کرنی بلکہ تمہیں محبت کی داستان سنانی ہے۔دوستوں! دلائل والے علماء تمہارے پاس کافی تعداد میں موجود ہیں میں اپنا تعارف کراتا ہوں،آپ کے علاقہ میں اور جہاں کچھ شیعہ کا وجود ہے مجھے عرفان حیدر عابدی کے نام سے پکارا جاتا ہے،سید حامد علی موسوی قائد ملت جعفریہ وہ میرے والد صاحب ہیں،فخرامام جو سابق سپیکر ہیں وہ میرے ماموں جان ہیں،میں ضلع سرگودھا کا رہنے والا ہوں،تحصیل بھلوال میں پچیس تیس مربع کے مالک کا بیٹا ہوں۔
♦️ *تعلیم* ♦️
خمینی کی جو لاہور میں یونیورسٹی ہے بلاک ماڈل ٹاون میں جامع المنتظر وہاں میں نے چار سال تعلیم حاصل کی،آپ کے مدارس میں تو دو وقت کا کھانا بھی شاید نہ ملتا ہو،مگر خدا کی قسم شیعہ کے مدارس میں اور جامعہ المنتظر میں ایک طالب علم کو ماہانہ وظیفہ ایک ہزار روپیہ ملتا تھا۔اس کے بعد میں نے چار سال اسلام آباد میں جہاں خمینی کے وکیل شیخ محسن صاحب ہیں وہاں تعلیم حاصل کی۔

پھر دو سال ہماری آوارہ گردی سمجھو یا ایران کی آزادانہ تربیت سمجھو قم کے اندر دو سال بھیجتے ہیں وہاں پڑھنے کے لئے نہیں،وہاں دولت کمانے کے لیے اور ایران کی عیش پرستی کے لئے بھیجتے ہیں تو میں  اسلام آباد سے قم یونیورسٹی ایران چلا گیا۔

♦️ *خطابت* ♦️

ایران سے فراغت کے بعد مسجد علی کے اندر تین سال شیعہ کا مرکزی خطیب رہا اس کے بعد شیخوپورہ پورا کے اندر ایک سال خطابت کی پھر یہ مسجد گلبرگ میں 25 سال شیعہ کا مرکزی خطیب رہا۔

آج میرے سرپرست علمائے دین ہیں۔بزرگان دین ہیں،نیک لوگ ہیں،مگر اس وقت میری مسجد کی صدر اور سرپرست اعلی میڈم نور جہاں تھی،خدا کی قسم میں جھوٹ نہیں بولتا میری مسجد کی صدر رو رہی تھی اور مجھے ہر ماہ پانچ ہزار دیتی تھی اور خمینی کی طرف سے یہ ہر خطیب کے لیے آتے تھے،میرے دوستوں! میں نے فیصل آباد، ٹیکسلا ،پشاور، تربیلا، ہنگو،پاراچنار،کراچی تک مجالس پڑھی ہیں پنجاب سے میں ایک مجلس کے بارہ سو لیتا تھا،اور سرحد بلوچستان،سندھ سے ایک مجلس کے اڑھائی ہزار روپے لیتا تھا۔

♦️ *تصانیف* ♦️

میں نے شیعہ مذہب میں دو کتابیں لکھی تھیں،ایک کتاب جس کا *نام ماتم اور صحابہ* تھا اور دوسری کتاب مجالس پر لکھی تھی،جس کا نام *نعیم الابرار تھا*۔

♦️ *جماعتوں کا قیام* ♦️

صفحہ 1 از 5