Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دلائل نبوت سے متعلق سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث

  علی محمد محمد الصلابی

2۔ دلائل نبوت سے متعلق سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث

الف: دعائے نبویﷺ کی برکت:

ایک مرتبہ حضرت علیؓ بیمار ہوئے، اللہ کے رسولﷺ سیدنا علیؓ کی عیادت کے لیے تشریف لائے، اس وقت آپؓ دعا کر رہے تھے: ’’اے اللہ! اگر میری موت کا وقت ہو چکا ہے تو مجھے آرام پہنچا اور اگر ابھی وقت نہیں ہوا ہے تو اس تکلیف کو مجھ سے دور کر دے اور اگر میری قسمت میں مصیبت ہی ہے تو صبر کی توفیق عطا فرما ''اللہ کے رسولﷺ نے ان سے فرمایا: ’’مَا قُلْتَ‘‘ تم نے کیا کہا؟ حضرت علیؓ نے اپنی دعا پھر دہرائی، تو اللہ کے رسولﷺ نے حضرت علیؓ کے حق میں یہ دعا فرمائی: اَللّٰہُمَّ اشْفَعْہَ اَللّٰہُمَّ عَافِہٖ۔ 

’’اے اللہ! ان کو شفا دے دے، اے اللہ ان کو عافیت دے دے۔‘‘ پھر آپﷺ نے فرمایا: ’’اٹھو! پھر میں اٹھ کھڑا ہوا اور اس کے بعد مجھے کبھی وہ تکلیف لوٹ کر نہ آئی۔‘‘

(مسند احمد: جلد 2 صفحہ 151، اس کی سند صحیح ہے۔ تحقیق احمد شاکر)

ب: زبانِ رسول صلی الله عليه وسلم سے پیشین گوئی:

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب میں تمھیں اللہ کے رسولﷺ سے کوئی حدیث بتاؤں تو آسمان سے پھینک دیا جانا مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ آپﷺ کی طرف جھوٹی بات منسوب کروں اور جب آپس کی کوئی بات تمھیں بتاؤں تو تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ جنگ دھوکے کا نام ہے۔

(فتح الباری: جلد 6 صفحہ 158، منہج علی فی الدعوۃ إلی اللہ: صفحہ 117)۔

 میں نے اللہ کے رسولﷺ سے فرماتے ہوئے سنا ہے:

یَأْتِیْ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ حُدَثَائُ الْاِسْنَانِ ، سُفَہَائَ الْاَحْلَامِ یَقُوْلُوْنَ مِنْ قَوْلِ الْبَرِیَّۃِ،یَمْرُقُوْنَ مِنَ الْاِسْلَامِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ، لَا یُجَاوِزُ اِیْمَانُہُمْ حَنَاجِرَہُمْ ، فَاَیْنَمَا لَقِیْتُمُوْہُمْ فَاقْتُلُوْہُمْ فَإِنَّ فِی قَتْلِہِمْ اَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ (صحیح البخاری: رقم 3611)۔

’’آخری دور میں کم عمر اور کم عقل لوگ ہوں گے جو رسول اللہﷺ کی باتیں بیان کریں گے، لیکن اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ ان کا ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا تم ان سے جہاں ملو قتل کر دو، ان کے قتل سے قاتل کو قیامت کے دن اجر ملے گا۔‘‘

اس حدیث کا ترجمہ اور اس کی تشریح پر مفصل گفتگو خوارج کے عقائد اور ان کے بارے میں حضرت علیؓ کے مؤقف کے باب میں کی جائے گی۔

ج: رعب و دبدبہ کے ذریعہ سے مدد:

حضرت علیؓ نے دلائل نبوت سے متعلق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

اُعْطِیْتُ مَالَمْ یُعْطَ أحَدٌ مِّنَ الْاَنْبِیَائِ۔

’’میں اس چیز سے نوازا گیا ہوں جو کسی نبی کو نہیں دی گئی۔‘‘

ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا:

نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَ اُعْطِیْتُ مَفَاتِیْحَ الْاَرْضِ، وَ سُمِّیْتُ اَحْمَدَ وَ جُعِلَتْ التُّرَابُ لِیْ طَہُوْرًا وَ جُعِلَتْ أْمَّتِیْ خَیْرَ الْاُمَمِ۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 335)۔

’’میں رعب کے ذریعہ سے مدد کیا گیا ہوں، زمین کی چابیاں مجھے دی گئی ہیں، احمد کے نام سے موسوم کیا گیا ہوں اور مٹی میرے لیے پاکی کا ذریعہ سے بنائی گئی ہے، میری امت تمام امتوں میں سب سے بہتر بنائی گئی ہے۔‘‘

د: مہرِ نبوت:

سیدنا علیؓ نے اوصافِ رسول کے تذکرہ میں ایسے وصف کو ذکر کیا ہے جو آپﷺ کی نبوت پر سب سے واضح دلیل ہے، چنانچہ حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ ’’نبی کریمﷺ کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت تھی۔‘‘

(مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 1 صفحہ 513، صحیح البخاری: کتاب المناقب)

یہ ایسی علامت تھی جس سے اہلِ کتاب آپﷺ کو اچھی طرح پہچانتے تھے، آپﷺ کے بائیں کندھے سے قریب یہ علامت سرخ رنگ میں بالکل ابھری ہوئی تھی، جو کم از کم کبوتر کے انڈے کی مقدار میں تھی اور زیادہ سے زیادہ ہتھیلی برابر۔

(فتح الباری: جلد 6 صفحہ 561۔ 563)

ھ: پہاڑوں کا نبی صلی الله عليه وسلم کو سلام کرنا:

سیدنا علیؓ نے دلائل نبوت کی اس علامت کے بارے میں بتایا کہ میں نبی کریمﷺ کے ساتھ مکہ میں تھا، ایک دن میں اور آپﷺ مکہ کے قرب و جوار میں نکلے، میں نے دیکھا کہ آپﷺ جس پہاڑ اور درخت کے پاس سے گزرتے وہ آپ کو سلام کرتا۔

(سنن الترمذی: المناقب: جلد 5 صفحہ 593، المستدرک: جلد 2 صفحہ 620، صحیح الإسناد۔)