Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدہ عائشہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کے درمیان محبت بھرے روابط

  علی محمد الصلابی

 سیدہ عائشہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کے درمیان دائمی محبت، اخلاص، شکر و تقدیر کے تعلقات قائم تھے۔ کسی صحیح روایت میں اشارہ تک نہیں ملتا کہ ان دونوں بزرگ خواتین کے درمیان کبھی بغض و عناد یا نفرت و عداوت کا شائبہ تک پیدا ہوا ہو۔

(الدل: انسان کی وقار و سکون کی وہ حالت جو آنے والے ہر کسی کو نظر آتی ہے۔ (تہذیب اللغۃ الازہری: جلد 14 صفحہ 48۔ الصحاح للجوہری: جلد 4 صفحہ 1699۔ لسان العرب لابن منظور: جلد 11 صفحہ 248۔ المعجم الوسیط: جلد 1 صفحہ 294)

بلکہ تمام سیرت نگاروں اور مورخین اسلام کا اس حقیقت پر اجماع ہے کہ ان دونوں خواتین کے درمیان ہمیشہ باہمی الفت، پختہ محبت اور سگے رشتہ داروں کی طرح سب سے عمدہ تعلقات قائم رہے۔ اس دعویٰ کے بے شمار دلائل ہیں ان میں سے وہ روایت جو سیدہ عائشہ بنت طلحہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بیٹھنے کی حالت کی مشابہت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ کسی کو نہیں دیکھا۔

(سنن ترمذی: حدیث: 3872۔ سنن ابی داود: حدیث: 5216۔ سنن کبری للنسائی: جلد 5 صفحہ 96 حدیث 8369۔ الادب المفرد لامام بخاری: صفحہ 355۔ المستدرک للحاکم: 4732۔ اسے البانی نے صحیح سنن ترمذی: حدیث: 3872 پر صحیح کہا۔ 

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی متعدد خوبیاں بیان کیں جن سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دل میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی قدر و منزلت کا بخوبی پتا چلتا ہے۔ جبکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیئت کذائی، حسن اخلاق اور سیرت و کردار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب لوگوں سے زیادہ مشابہت رکھتی تھیں۔ نیز سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حق گوئی کی بھی گواہی دی۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ جب انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر فاطمہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ کیا تو فرمایا:

مَا رَاَیْتُ اَحَدًا کَانَ اَصْدَقُ لَہْجَۃً مِّنْہَا، اِلَّا اَنْ یَکُوْنَ الَّذِیْ وَلَدَہَا۔

( اسے حاکم نے روایت کیا، جلد 3 صفحہ 175 اور ابن عبدالبر نے ’’الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب: جلد 4 صفحہ 1896‘‘ میں روایت کیا۔ حاکم نے کہا: یہ حدیث مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے لیکن بخاری و مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔ عمرو بن دینار نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی اس نے کہا: میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ حق گو اس کے باپ کے علاوہ کسی اور کو نہیں دیکھا۔

’’میں نے اس سے زیادہ حق گو کسی کو نہیں دیکھا سوائے اس شخص کے جن کی وہ بیٹی تھیں۔‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کسی معاملے میں اختلاف پیدا ہو گیا تو میں نے کہا: اے رسول اللہ! آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھ لیں کیونکہ وہ جھوٹ نہیں بولتیں۔

(المعجم الاوسط للطبرانی: جلد 3 صفحہ 137 حدیث: 2733۔ مسند ابی یعلیٰ: جلد 8 صفحہ 153، حدیث: 4700۔ ہیثمی رحمہ اللہ نے مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 204 میں کہا ان دونوں روایات کے راوی صحیح کے راوی ہیں اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے الاصابۃ: جلد 4 صفحہ 378 میں اس کی سند کو شیخین کی شرط پر صحیح کہا۔ 

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نزدیک سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سب عورتوں سے زیادہ سمجھ دار تھیں۔

(السنن الکبری للنسائی: جلد 7 صفحہ 393، حدیث: 8311۔ بحوالہ فتح الباری لابن حجر: جلد 8 صفحہ 136)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سب بیویاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھی تھیں، ہم میں سے کوئی ایک بھی غیر حاضر نہ تھی۔ اس وقت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چلتے ہوئے تشریف لے آئیں۔ اللہ کی قسم! ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال سے ذرہ بھر مختلف نہ تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دیکھا تو کلمات ترحیب کہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’میری بیٹی کی آمد مبارک ہو۔‘‘ پھر آپﷺ نے انھیں اپنے دائیں یا بائیں بٹھا لیا۔ پھر اس کے ساتھ سرگوشی کی تو وہ زور زور سے رونے لگیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا غم و اندوہ دیکھا تو دوبارہ اس سے سرگوشی کی وہ اچانک خوشی سے مسکرانے لگیں۔ تو آپﷺ کی سب بیویوں میں سے میں نے اسے کہا: ہم سب کے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپﷺ کو سرگوشی سے سرفراز فرمایا، پھر بھی آپ رو رہی ہیں؟ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر چلے گئے تو میں نے ان سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے ساتھ کیا سرگوشی کی؟ انھوں نے کہا: میں رسول اللہ کے راز کو بھلا کیوں افشا کروں؟ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو میں نے ان سے کہا: آپ پر میرا جو حق ہے اس کے واسطے سے میں آپ کو قسم دیتی ہوں کہ آپ مجھے وہ سرگوشی ضرور بتائیں۔ انھوں نے کہا: ہاں اب میں ضرور بتاؤں گی۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی بار میرے ساتھ سرگوشی کی تو آپﷺ نے مجھے بتایا کہ جبریل علیہ السلام ہر سال ایک بار مجھے قرآن سنایا کرتے جبکہ اس سال انھوں نے مجھے دو بار قرآن سنایا، میں اس سے یہی سمجھا ہوں کہ میرا وقت مقرر آ چکا ہے۔ پس تم اللہ سے ڈرنا اور صبر کرنا۔ بلاشبہ تمھاری لیے میں بہت اچھا نمونہ ہوں۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: تب میں اس طرح روئی جو آپؓ نے دیکھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا واویلا دیکھا تو آپﷺ نے دوبارہ میرے ساتھ سرگوشی فرمائی اور فرمایا: اے فاطمہ! کیا تم خوش نہیں کہ تم تمام مومنوں کی عورتوں کی سردار ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس امت کی عورتوں کی سردار ہو۔‘‘

(یہ مکمل حدیث بالتفصیل امام بخاری نے اپنی صحیح: جلد 7 صفحہ 362 میں اور امام مسلمؒ نے اپنی صحیح میں برقم: 2450 روایت کیا ہے۔ 

اس حدیث میں یہ وضاحت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چال ڈھال میں مشابہ بتلایا ہے اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ کے ساتھ ایسے خصوصی انداز میں سرگوشیاں کیں کہ اس انداز میں آپﷺ نے اپنی کسی بیوی کے ساتھ کبھی نہ کیں۔ نیز یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ سیدہ فاطمہؓ تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں اور اگر روافض کے کہنے کے مطابق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اہل بیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بغض رکھتیں تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اتنی خصوصیات کیوں بیان کرتیں لیکن وہ صدیقہ بنت صدیق رضی اللہ عنہما ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیان کردہ سیدہ فاطمہؓ کے لیے یہ تمام او صاف اس حقیقت کی کھلی دلیل ہیں کہ وہ اہل بیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کرتی تھیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا میں تجھے خوشخبری نہ دوں؟ وہ کہنے لگیں: کیوں نہیں!! تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

سَیِّدَاتُ نِسَائِ اَہْلِ الْجَنَّۃِ اَرْبَعٌ: مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَ فَاطِمَۃُ بِنْتُ رَسُوْلِ اللّٰہِ، وَ خَدِیْجَۃُ بِنْتُ خُوَیْلَدَ، وَ اٰسِیَۃُ اِمْرَاَۃُ فِرْعَوْنَ۔

(اسے امام احمد رحمہ اللہ نے فضائل الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 760، برقم: 1336 میں روایت کیا اور امام حاکم رحمہ اللہ نے مستدرک علی الصحیحین: جلد 3 صفحہ 205 میں روایت کیا اور کہا اس کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح الجامع: حدیث: 3678 میں صحیح کہا ہے۔

’’اہل جنت کی عورتوں کی چار عورتیں سردار ہیں: مریم بنت عمران، فاطمہ بنت رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم ) خدیجہ بنت خویلد اور فرعون کی بیوی آسیہ رضی اللہ۔‘‘

اگر ان دونوں مقدس و مطہر خواتین میں معمولی سا اختلاف بھی ہوتا تو سیدہ عائشہ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کو اتنی بڑی بشارت دے کر شاد کیوں کرتیں؟

دونوں خواتین کے درمیان یہ پرخلوص محبت انہی نبوی بنیادوں پر پروان چڑھتی رہی جو ان کے اقوال و افعال سے بخوبی واضح ہوتی ہے۔ جس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیاری بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے سرگوشی کی اور جو بھی سرگوشی کی اس کی محرم راز بننے کی امیدوار صرف اور صرف سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی تھیں۔ جیسا کہ مذکورہ حدیث میں وضاحت ہے اور محرم راز صرف وہی ذات ہو سکتی ہے جو دل کے بالکل قریب ہو، جو کسی انسان کی محبوب ترین ہستی ہو اور یہی مقدس کیفیات اور مطہر جذبات سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ہماری ماں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما کے درمیان موجزن رہے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ سرگوشی والا واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے آخری لمحات میں پیش آیا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اس راز کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد دریافت کیا یعنی ان لمحات میں جن کے متعلق یہ راندۂ خلائق گروہ صحابہ کرامؓ اور اہل بیتؓ کے درمیان عداوت و بغض کی آگ کا الاؤ بھڑکانے کی کوشش کرتا ہے اور امت میں تفرقہ بازی اور گروہ سازی کا تانا بانا بنتا ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ حدیث بھی روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

وَ اَیْمُ اللّٰہِ، لَوْ فَاطِمَۃُ اِبْنَۃُ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ یَدَہَا

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3475۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1688۔)

’’اللہ کی قسم! اگر محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بیٹی فاطمہ( رضی اللہ عنہا ) بھی چوری کرتی تو ضرور میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔‘‘

اس فرمان ذی شان میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رفعت شان اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ان کی قربت اور عظمت کی دلیل ہے، نیز یہ حدیث بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کا خصوصی تذکرہ کیا، کیونکہ وہی آپﷺ کے اہل خانہ میں سے سب سے زیادہ آپ کو عزیز تھی۔ نیز اس وقت اس بیٹی کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی اور بیٹی زندہ موجود نہ تھی۔

(فتح الباری لابن حجر: جلد 12 صفحہ 95)

جب کسی کام کے لیے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتیں اور آپﷺ گھر پر نہ ہوتے تو وہ اپنا کام سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی کو بتاتیں۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پتا چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ غلام آئے ہیں۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی پر مشقت گزران کی شکایت لے کر گئیں، لیکن فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر پر نہ پایا، چنانچہ انھوں نے اپنے آنے کی وجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتا دی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپﷺ کو فاطمہ رضی اللہ عنہا کے آنے کی اطلاع دی اور ان کی شکایت کے متعلق آپﷺ کو بتایا۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر 5361 ۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2727)

درج بالا حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ سیدہ فاطمہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما پر بھرپور اعتماد کرتی تھیں اور یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے جو بات یا کام سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سپرد کیا کہ وہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوری امانت کے ساتھ من و عن وہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دی۔

اسی طرح جب دیگر امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ پیغام پہنچانے کے لیے بھیجا کہ آپﷺ کی بیویاں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتی ہیں کہ آپﷺ ان کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے معاملہ میں انصاف کیا کریں تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پیغام پہنچا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے میری لاڈلی بیٹی! کیا تم اس کے ساتھ محبت نہیں کرتی جس کے ساتھ میں محبت کرتا ہوں؟ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیوں نہیں۔ چنانچہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا امہات المؤمنینؓ کے پاس واپس گئیں اور انھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب سے آگاہ کیا۔ انھوں نے اس پر اصرار کیا کہ وہ دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں لیکن انھوں نے دوبارہ آپﷺ کے پاس جانے سے انکار کر دیا۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 2581۔ صحیح مسلم:  حدیث نمبر: 2441)

اس حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے انتہائی محبت و عقیدت رکھتی تھیں۔صحیح مسلم کی روایت کے درج ذیل الفاظ ہیں:

’’چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ’’اے میری بیٹی! کیا تو وہ نہیں پسند کرتی جو میں پسند کرتا ہوں؟ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیوں نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم ان (عائشہ رضی اللہ عنہا ) سے محبت کرو۔‘‘

(اس حدیث کی تخریج گزر چکی ہے۔)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو یہ حکم دیا اور وہ کیسے آپ کے حکم کی نافرمانی کر سکتی تھیں۔ رضی اللّٰہ عنہا و ارضاہا۔