اہل بیتؓ کے ساتھ شیعوں کی بے وفائیاں - دفاعِ اہلِ سنت |…

اہل بیتؓ کے ساتھ شیعوں کی بے وفائیاں

  مولانا اقبال رنگونی

شیخ الاسلام حافظ ابنِ تیمیہؒ (728ھ) شیعہ کی بدعہدی، بے وفائی اور ان کے مال و زر کی حرص کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ان لوگوں نے آپ کو خطوط لکھے، نصرت کے وعدے کیے آپ نے ان کی باتوں پر بھروسہ کر کے اپنے چچا زاد بھائی سیدنا مسلم بن عقیلؓ کو وہاں بھیجا، مگر ان لوگوں نے انہیں دھوکہ دیا انہوں نے آخرت کی بجائے دنیا کو ترجیح دی اور وہ دشمنوں کے ساتھ مل کر آپ کے خلاف لڑے سیدنا علی المرتضیٰؓ کے ساتھ بھی ان لوگوں نے یہی سلوک کیا تھا کہ آپ نے انہیں بددعا دیتے ہوئے کہا: اے اللہ میں تو ان سے تنگ آ گیا ہوں، تو ان کو مجھ سے دور کر دے۔  

وَأَمَا الشِّيعَةُ فَهُمْ دَائِمًا مَغْلُوبُونَ مَقْهُورُونَ مُنْهَزِمُونَ، وَحُبُّهُمْ لِلدُّنْيَا وَحِرْصُهُمْ عَلَيْهَا ظَاهِرٌ وَلِهَذَا كَاتَبُوا الْحُسَيْنَ رَضِی اللَّهُ عَنْهُ، فَلَمَّا أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ ابْنَ عَمِّهِ، ثُمَّ قَدِمَ بِنَفْسِهِ غَدَرُوا بِهِ، وَبَاعُوا الْآخِرَةَ بِالدُّنْيَا، وَأَسْلَمُوهُ إِلَى عَدُوِّهِ، وَقَاتَلُوهُ مَعَ عَدُوِّهِ، فَأَی زُهْدٍ عِنْدَ هَؤُلَاءِ، وَأَی جِهَادٍ عِنْدِهِمْ؟ وَقَدْ ذَاقَ مِنْهُمْ عَلِی بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِی اللّٰهُ عَنْهُ مِنَ الْكَاسَاتِ الْمُرَّةِ مَا لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللّٰهُ، حَتَّى دَعَا عَلَيْهِمْ فَقَالَ: اللَّهُمَّ قَدْ سَمْتُهُمْ وَسَئِمُونی، فَأَبْدِلْنِی بِهِمْ خَيْرًا مِنْهُمْ، وَأَبْدِلْهُمْ بِی شَرًّا مِنِّی وَقَدْ كَانُوا يَغُشُّونَهُ وَيُكَاتِبُونَ مَنْ يُحَارِبُهُ، وَيَخُونَهُ فِي الْوِلَايَاتِ وَالْأَمْوَالِ۔  

(منہاج السنہ: جلد 2 صفحہ 91)

شیعہ ہمیشہ سے مغلوب و مقہور اور شکست خوردہ رہے۔ ان پر دنیا کی محبت اور اس کی حرص کھلی ہوئی رہی ہے۔ اس لیے انہوں نے سیدنا حسینؓ کے ساتھ خط و کتابت کی آپؓ نے اپنے چچا زاد بھائی کو (وہاں کے حالات معلوم کرنے کے لیے) بھیجا اور پھر خود بھی وہاں آ گئے ان خطوط لکھنے والوں نے آپؓ کو دھوکہ دیا اور دنیا کے بدلے آخرت کو فروخت کر دیا اور آپؓ کو قاتلوں کے حوالے کر دیا اور آپؓ کے دشمنوں کے ساتھ ہو کر آپؓ سے جنگ کی تو پھر خود ہی انصاف کریں کہ ان میں کون سا خوفِ خدا تھا؟ اور وہ کون سا جہاد کر رہے تھے؟ ان لوگوں کی انہی زیادتیوں سے سیدنا علیؓ کو اتنی مصیبتوں سے گزرنا پڑا جن کی حقیقت کا اللہ کے سوا کسی کو علم نہیں معاملہ یہاں تک جا پہنچا کہ سیدنا علیؓ کو دعا کرنی پڑی کہ اے اللہ میں ان سے تنگ آ گیا ہوں، تو انہیں مجھ سے ملول کر دے، اے اللہ مجھے ان کے بدلے میں بہتر ساتھی عطا فرما اور میرے بدلے میں ان کو برا حکمران دے یہ لوگ سیدنا علی المرتضیٰؓ (اور آپ کے خاندان) کے ساتھ خیانت اور دھوکہ دہی کرتے رہے اور ان سے خط و کتابت کرتے جن سے سیدنا علی المرتضیٰؓ کا مقابلہ جاری تھا یہ لوگ ولایت اور مالوں میں خیانت کے مرتکب ہوتے تھے۔  

(ترجمہ: صفحہ 170)