سیدہ فاطمہ بنت حسینؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیدہ فاطمہ بنت حسینؓ

  مولانا اقبال رنگونی

آپ سیدنا حسینؓ کی بڑی بیٹی ہیں، عام طور پر انہیں فاطمۃالصغریٰ بھی کہا جاتا ہے، آپ نے معرکہ کربلا دیکھا تھا اور آپ کے بعض بیانات بھی کتابوں میں درج ہیں۔

ان کا نکاح اپنے چچا زاد بھائی حسن بن حسن بن علیؓ سے ہوا تھا جن سے ان کے چار بچے ہوئے، ان کے انتقال کے بعد سیدنا عثمانؓ کے پوتے عبداللہ بن عمرو بن عثمان کے نکاح میں رہیں، یہ نکاح آپ کے بیٹے عبداللہ بن حسن نے آپ کے حکم سے کرایا اور ان سے دو بچے قاسم اور محمد دیباج اور ایک بیٹی رقیہ پیدا ہوئیں۔ سیدنا عثمانؓ کے پوتے حضرت عبداللہ بہت خوبصورت تھے، ان کی خوبصورتی کی وجہ سے ان کو مطرف بھی کہا جاتا ہے اور ان کے بیٹے محمد دیباج بھی بہت حسین اور نرم و نازک تھے، ان کا لقب ہی دیباج یعنی ریشم پڑ گیا تھا۔

آپ کا شمار جلیل القدر تابعیات میں ہوتا ہے۔ حضرت فاطمہ بنت حسینؓ کا پایہ علم و فضل بہت بلند تھا، حدیث اور فقہ میں بڑا عبور حاصل تھا، آپ بڑی باوقار اور باحیا خاتون تھیں۔ ابرش کلبی ایک واقعہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے ان سے زیادہ شرم و حیاء والی کسی اور کو نہیں پایا۔

فما کان فيهن أخفر ولا أحيا من فاطمة بنت الحسين۔ 

(تاریخ دمشق: جلد 80 صفحہ 14)

آپ کی اپنے والد، ام المومنین سیدہ عائشہ، اور اپنی دادی حضرت سیدہ فاطمہ الزہراء سے بھی مرسل روایات ملتی ہیں۔ 

(تاریخ اسلام: جلد 7 صفحہ 242 للذہبی)

وَقَدْ رُوِيَ أَيْضًا عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ غَيْرُ حَدِيثٍ 

(الطبقات الکبریٰ: جلد 8 صفحہ 362)

حافظ ابن کثیرؒ (774ھ) لکھتے ہیں:

وَاَمَّا فَاطِمَةُ بِنْتُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - وَهِيَ أُخْتُ زَيْنَ الْعَابِدِينَ - فَحَدِيثُهَا مَشْهُورٌ رَوَى لَهَا أَهْلُ السُّنَنِ الْأَرْبَعَةِ، وَكَانَتْ فِيمَنْ قَدِمَ بِهَا مَعَ أَهْلِ الْبَيْتِ بَعْدَ مَقْتَلِ أَبِيهَا إِلَى دِمَشْقَ، وَهِيَ مِنَ الثِّقَاتِ 

(البدایہ: جلد 2 صفحہ 81)

آپ کا زیادہ تر وقت اللہ کی یاد میں گزرتا تھا اور دھاگوں کی گرہوں پر سبحان اللہ کی تسبیح پڑھا کرتی تھیں، أَنَّهَا كَانَتْ تُسَبِّحُ بِخُيُوطٍ مَعْقُودٍ فِيهَا 

(ایضاً)

آپ رضی اللہ عنہا کو اپنے والد کی طرح مال جمع کرنا پسند نہ تھا جو کچھ ہوتا غرباء اور فقراء میں تقسیم کیا کرتی تھیں۔ آپ کا انتقال 117ھ میں ہوا تھا۔