سیدہ فاطمہ بنت حسینؓ کا بیان
مولانا اقبال رنگونیآپ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہؓ کا بیان بھی یہی تھا۔ آپ نے کوفہ سے واپسی پر خطبہ دیتے ہوئے کہا:
اے اہلِ کوفہ! اے دھوکے باز، بے وفا، خود خواہ لوگو! تم لوگوں نے ہماری تکذیب کی اور ہماری ناشکری کی ہمارے قتل تک کو حلال جانا، ہمارے اعمال کو تاراج کیا گویا ہم ترک و کابل کی اولاد ہیں اس طرح کل تم نے ہمارے جدِ امجد سیدنا علیؓ کو قتل کیا اور حسد و کینہ کے سبب تمہاری تلواروں سے ہمارا خون ٹپک رہا ہے۔ (شیعہ کتاب احتجاج طبرسی: صفحہ 66)
اہلِ کوفہ! تمہارے دل و جگر سخت اور پتھر ہوگئے تمہارے دل، آنکھ اور کان پر مہر لگ چکی ہے شیطان نے تمہاری برائیوں کو تمہاری نگاہ میں آراستہ کر رکھا ہے اور موت کو دور رکھا ہے اے اہل کوفہ! تمہارے لیے ہلاکت و تباہی ہو۔ (ایضاً)
