حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے سلوک
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہخود فخر الشہداء سیدنا حسینؓ کے ساتھ بھی شیعوں نے وفاداری کی حد کر دی جلاء العیون جلد اوّل میں یوں رقمطراز ہیں:
پس بیس ہزار مردِ عراقی نے سیدنا حسینؓ سے بیعت کی، اور جنہوں نے بیعت کی تھی، خود انہوں نے سیدنا حسینؓ پر شمشیر کھینچی، اور ابھی بیعتیں ان کی گردنوں میں تھیں کہ حضرت حسینؓ کو شہید کیا۔
اس سے پہلے ہم اخبار ماتم کے حوالوں سے ذکر ہو چکا ہے کہ شیعہ صاحبان نے نہایت بے دردی سے حضرت حسینؓ کو دشتِ کربلا میں بھوکا پیاسا، مع اہل و عیال، شہید کیا مستورات کو بے پردہ کیا، سرِ مبارک نیزہ پر چڑھا کر یزید کے پاس لے گئے اور وہاں جا کر ماتم برپا کیا شیعہ کی فیملی بھی ماتم میں شریک ہوئیں یزید عنید کے خاص حکم اور ہندہ زوجہ اور یزید پلید کے گھر میں تین دن ماتم ہوتا رہا یہ ہیں ماتمیوں کے کرتوت خدا بچائے اگر خدانخواستہ آج کوئی مخالفِ اسلام، اسلام پر حملہ کر دے اور پلاؤ زردہ پکا کر ماتمیوں کے سامنے رکھ دے، تو یہ محبانِ حسینؓ، جو محض ظاہری جوش رکھتے ہیں، بیت اللہ کعبہ پاک پر گولیاں چلانے سے بھی دریغ نہ کریں گے جب اس وقت یہ حالت تھی کہ ائمہ عظام کی مقدس صورتیں ان کے سامنے تھی اور مؤثر پر درد الفاظ میں وعظ سنائے جاتے تھے، اور ان کے پتھر دلوں پر ذرہ برابر تاثیر نہ ہوتی تھی (جیسا کہ خطباتِ امیر علیہ السلام لکھے جا چکے ہیں) تو اب سینکڑوں سال بعد ان حضرات نے کیا حمیتِ اسلام دکھانی ہے۔