فرمان فاروقی سنت کو لازم پکڑو یقینا تمہیں حکومت ملے گی کی مختصر توضیح
علی محمد الصلابیفرمان فاروقی سنت کو لازم پکڑو یقینا تمہیں حکومت ملے گی کی مختصر توضیحسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ سیدھا راستہ جس کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنایا تھا اس کو لازم پکڑنا کفر پر فتح مندی اور زمین میں غلبہ و حکمرانی کا سبب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَـيَسۡتَخۡلِفَـنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الَّذِى ارۡتَضٰى لَهُمۡ وَلَـيُبَدِّلَــنَّهُمۡ مِّنۡ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا يَعۡبُدُوۡنَنِىۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِىۡ شَيۡـئًــا وَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ۞(سورۃ النور: آیت 55)
ترجمہ: ’’اللہ نے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، وعدہ کیا ہے کہ وہ انھیں زمین میں ضرور ہی جانشین بنائے گا، جس طرح ان لوگوں کو جانشین بنایا جو ان سے پہلے تھے اور ان کے لیے ان کے اس دین کو ضرور ہی اقتدار دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے اور ہر صورت انھیں ان کے خوف کے بعد بدل کر امن دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں گے اور جس نے اس کے بعد کفر کیا تو یہی لوگ نافرمان ہیں۔‘‘
پس جب سیدنا عمرؓ کا دنیا سے بے رغبتی، اور زہد کی طرف رغبت دلانے کا یہ عالم اس وقت تھا جب کہ مسلمان خود بخود زہد اور دنیا سے رغبتی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے لیے کوشاں تھے تو ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جو بعد کے ادوار میں پیدا ہوئے اور دنیا کے مظاہر اور اس کی رنگینیوں کے حصول میں ایک دوسرے پر فوقیت لے جانا چاہتے ہیں۔ دنیا سے بے رغبتی کی اس دعوت کے ساتھ ساتھ آپ اس بات کے لیے کہ ابتدائے اسلام سے آج تک امت مسلمہ کو اس سے بہتر و پرسکون فضا نہ ملی تھی، تمام ممالک میں بڑی بڑی فتوحات پر اللہ ہی لائق ستائش ہے۔ شکر گزاروں کا شکر، ذکر الہٰی کے شیدائیوں کا ذکر اور اطاعت شعاروں کی کثرت اطاعت و عبادت اللہ کی لا تعداد اور عظیم الشان نعمتوں کے بالمقابل ناکافی ہیں، بغیر اللہ کی مدد، رحمت اور مہربانی کے ان کا حق کماحقہ ادا نہیں کیا جا سکتا، پس ہم اللہ تعالیٰ سے جس نے ہمیں ان نعمتوں سے آزمایا ہے اس کی اطاعت اور رضا جوئی کے لیے دعا کرتے ہیں، جس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں۔
اے اللہ کے بندو! تم اپنے اوپر نعمتوں کی شکل میں اللہ تعالیٰ کی آزمائش کو یاد کرو اور اپنی عام مجالس میں، یا دو دو آدمی رہو یا تنہا رہو، ہمہ وقت اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار کیا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا:
اَخۡرِجۡ قَوۡمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ وَ ذَكِّرۡهُمۡ بِاَيّٰٮمِ اللّٰهِ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لّـِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ۞(سورۃ ابراهيم: آیت 5)
ترجمہ: ’’اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال اور انہیں اللہ کے احسانات یاد دلا۔‘‘
اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا:
وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ اَنۡـتُمۡ قَلِيۡلٌ مُّسۡتَضۡعَفُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ۞ (سورۃ الأنفال: آیت 26)
ترجمہ: ’’اور یاد کرو جب تم تھوڑی تعداد میں تھے اور زمین میں کمزور تھے۔‘‘
لہٰذا جب تم کمزور تھے، دنیا کی بھلائیوں سے محروم تھے اگر اس وقت حق پر قائم تھے، اس پر تمہارا ایمان تھا، تم اس میں راحت محسوس کرتے تھے، اللہ اور اس کے دین کی تمہیں معرفت حاصل تھی اور موت کے بعد بھی تم اس میں خیر کی امید رکھتے تھے، تو یہ بہت اچھی بات تھی، حالانکہ تم قبل ازیں بہت تنگ زندگی بسر کرتے تھے، اور اللہ کی معرفت سے بالکل ناواقف تھے، پس اگر یہ اسلام جس نے تمہیں تنگ زندگی اور اللہ کی عدم معرفت سے نجات دی، اس کے ساتھ تمہیں دنیا داری نہ حاصل ہو سکے، اور آخرت پر تمہارا کامل یقین و پختہ بھروسا ہو جہاں پر سب کو لوٹ کر جانا ہے، اور کٹھن زندگی و تنگ معیشت کے ساتھ تم کو یہ آزادی حاصل ہو کہ اسے اپنی ذات کے فائدہ تک محدود رکھو، یا اپنے حصہ پر دوسروں کو ترجیح دو تو ایسی دنیا داری کو بھول جاؤ، کیونکہ تمہیں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی میسر ہو رہی ہے، اور تم میں سے جس کی یہ خواہش ہو کہ اسے دنیا داری کا پورا حصہ مل جائے تو سن لو! میں تم سب کو اللہ کا خوف یاد دلاتا ہوں جو تمہارے دلوں کے درمیان حائل ہے، مگر یہ کہ اس کا حق پہچان لو، اس کے تقاضوں کو پورا کرتے رہو، اس کی اطاعت پر خود کو مجبور کرتے رہو، اور نعمتوں کو پا کر خوشی و مسرت کے ساتھ تمہیں ان کے غلط استعمال کے برے نتائج اور ان کے چھن جانے کا اندیشہ بھی لگا رہے کیونکہ ناشکری سے بڑھ کر کوئی چیز نعمتوں کو چھیننے والی نہیں، جب کہ شکر گزاری گردش زمانہ میں امن و سلامتی، نعمت الہٰی میں اضافہ اور مال و دولت میں فراوانی کا سبب ہے، تمہیں حکم دینے اور منع کرنے سے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر یہ ذمہ داری واجب تھی۔‘‘
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 211، 212، 213، خطب أمیر المومنین عمر بن خطاب ووصایاہ: محمد أحمد عاشور: صفحہ 31 مترجم)