حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت علی المرتضیٰ رضی…

حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا اجتہاد

  محمد ظفر اقبال

قارئینِ مکرّم! آپ مسلسل اجتہاد اور خطائے اجتہادی کی بحث پڑھ رہے ہیں، اس لیے آپ کی معلومات میں اضافے کے لیے عرض کرتا ہوں (اہلِ علم تو ان مضامین سے پہلے ہی واقف ہیں) سوال یہ ہے کہ جب سیدنا امیرِ معاویہؓ طالبِ قصاص دمِ عثمانؓ تھے اور سیدنا علی المرتضیٰؓ بھی قصاصِ عثمانؓ کے حق میں تھے، اس کے منکر نہ تھے، تو وجہ نزاع کیا تھی؟ بعض اوقات کسی بڑی چیز کی بنیاد نہایت معمولی ہوتی ہے لیکن اس کے نتائج و اثرات بڑے دور رس ہوتے ہیں کسی بات کا نقطہ آغاز نہایت معمولی اور غیر مرئی ہوتا ہے لیکن اس کے برگ و بار اور ثمرات نہایت وسیع بلکہ وسیع تر ہوتے ہیں یہی قصہ مشاجراتِ صحابہؓ کو پیش آیا وہ یہ کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ و سیدنا امیرِ معاویہؓ کے درمیان قصاصِ دمِ عثمانؓ کا معاملہ تو متفق علیہ تھا، لیکن اس کی تعجیل و تاخیر نزاع کا سبب بنی جس نے بالآخر جنگ کی صورت اختیار کر لی۔

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اپنے اجتہاد کی بناء پر ملکی وحدت کو قیامِ عدالت پر مقدم سمجھتے تھے اور چاہتے تھے کہ جب تک تمام علاقہ جات تحتِ خلافت نہ آ جائیں، اس وقت تک قیامِ عدالت اور مجرموں کی پکڑ دھکڑ پر قوت صرف نہ ہو جب کہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے اجتہاد (یہ بات یاد رکھی جائے کہ مجتہد پر اجتہاد واجب ہے اور ہر مجتہد اپنے اجتہاد پر عمل کا پابند ہے، ضروری نہیں کہ مجتہد اپنے اجتہاد میں صواب کو پا ہی لے مجتہد جب کسی مسئلہ میں رائے قائم کرے گا تو اس میں صواب و خطاء دونوں کا احتمال ہو گا اور معاصر مجتہدین اس مجتہد کے اجتہاد سے اختلاف کا پورا حق بھی رکھتے ہیں لیکن اپنے اجتہاد کو حق و صواب پر سمجھتے ہوئے اس مسئلہ مجتہد فیہ میں کسی دوسرے مجتہد کی تقلید اکثر علماء کے نزدیک اس مجتہد کے لیے جائز نہیں، ہاں اس مجتہد کا کسی مسئلہ مجتہد فیہ میں صواب و خطاء پر ہونا بعد کی بات ہے ۔

محقق علی الاطلاق حافظ ابنِ ہمامؒ (متوفی 812ھ) لکھتے ہیں:

اَلْمُجْتَہِدُ بَعْدَ اِجْتِہَادِہِ فِی حُکْمِ، مَمْنُوْعٌ منِ التَّقْلِیدِ فِیْہِ اِتِّفَاقًا وَالْخِلَافُ قَبْلَہُ وَالْأَکْثَرُ مَمْنُوْعٌ

(التحریر: صفحہ540 تحت مسئلہ بحث ہٰذا)  

ترجمہ: مجتہد کے لیے کسی ایسے حکم میں جس میں خود اس کا اپنا اجتہاد موجودہ ہو کسی دوسرے مجتہد کی تقلید بالاتفاق منع ہے، ہاں اجتہاد سے قبل اس تقلید کے ممنوع ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف ہے اور اس کو ممنوع قرار دیتے ہیں۔

اپنی ایک اور کتاب میں حافظ صاحب رحمۃاللہ فرماتے ہیں:  

وَالْوَجْہُ الصَّحِیحُ أَنَّ الْمُجْتَہِدَ مَأْمُوْرٌ بِالْعَمَلِ بِمُقْتَضٰی ظَنِّہِ اِجْمَاعًا

(فتح القدیر: جلد5 صفحہ491)  

ترجمہ: صحیح بات یہ ہے کہ مجتہد بالاجماع اپنے ہی ظن (اور اجتہاد) کے مطابق عمل کرنے پر مامور ہے۔

علامہ ابوبکر بن مسعود کاسانی رحمۃ اللہ (متوفی 586ھ) لکھتے ہیں: 

لِأَنَّ الْمُجْتَہِدَ مَأْمُوْرٌ بِالْعَمَلِ بِمَا یُؤَدِّیْہِ اِلَیْہِ اِجْتِہَادُہُ فَحَرَامٌ عَلَیْہِ تَقْلِیدُ غَیْرِہِ

(بدائع الصنائع: جلد 7 صفحہ 54 تحت: فضل و اما شرائط القضاء فانواع اربعۃ) 

ترجمہ: اس لیے کہ مجتہد اپنے ہی اجتہاد پر عمل کا پابند ہے کسی اور مجتہد کی تقلید اس پر حرام ہے۔

امام ربانی حضرت مجدد ثانی رحمۃ اللہ (متوفی 1034ھ) لکھتے ہیں: 

غایۃ ما فی الباب چوں ہر کدام را رائے و اجتہاد بودہ و ہر مجتہد را عمل بموافق رائے خود واجب بضرورت در بعض امور بسبب مخالفت آراء مخالف و مشاجرت لازم گشت ہر یکے را تقلید رائے خود صواب آمد (مکتوباتِ امامِ ربانی: دفتر دوم، مکتوب نمبر 36 اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ ان میں سے ہر ایک نے اپنی رائے اختیار کی اور اپنا اپنا اجتہاد اور معلوم ہے کہ ہر مجتہد پر اپنے اجتہاد اور صوابدید پر عمل کرنا واجب ہے، پس اختلافِ آراء کے باعث مناظرت و مشاجرت ناگزیر ہوئی ہر ایک نے اپنے رائے کے مطابق عمل کرنا ضروری سمجھا۔

حجۃ الاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ (متوفی 1297ھ) لکھتے ہیں: 

دویم آنکہ مجتہداں مأمور باتباع اجتہاد و خویشتن اند اتباع مجتہداں دیگر روا نیست ورنہ ازیں چہ کم کہ اتباع دیگراں ضرورت نیست 

(مکتوب قاسمی: صفحہ8 در تحقیق و اثبات شہادت حضرت امام حسینؓ)

دوسری بات یہ ہے کہ مجتہدین اپنے اجتہاد کے مطابق عمل کرنے پر مامور کیے گئے ہیں ان کے لیے دوسرے مجتہدین کی پیروی کرنا جائز نہیں، ورنہ اس سے بھی کیا کم کہ دوسروں کی پیروی ضروری نہیں۔)   

کی بناء پر قصاصِ دمِ عثمانؓ کو وحدتِ ملکی کا سبب اور ذریعہ سمجھتے تھے ان کا کہنا تھا کہ اگر سیدنا علی المرتضیٰؓ خود قصاصِ دمِ عثمانؓ لیتے ہیں تو ٹھیک، ورنہ وہ قاتلین کو ان کے ورثاء کے حوالے کر کے فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا پر عمل کریں، تب ہم ان کی بیعت کریں گے اگر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ باغیین اور قاتلین پر انصاف کا ہاتھ نہیں ڈال سکتے تو پھر وہ بارِ خلافت اٹھانے کے کس طرح حق دار ہیں۔ جب کہ وہ خود کہہ چکے ہیں:  

ايُّهَا النَّاسُ، انَّ أَحَقَّ النَّاسِ بِهَذَا الْأَمْرِ أَقْوَاهُمْ عَلَيْهِ، وَأَعْلَمُهُمْ بِأَمْرِ اللهِ فِيهِ

(نہج البلاغہ: صفحہ94 خطبہ نمبر 173)

ترجمہ: اے لوگو! تمام لوگوں میں اس امرِ خلافت کا (سب سے زیادہ) اہل وہ ہے جو اس (کے نظم و نسق کے برقرار رکھنے) کی سب سے زیادہ قوت و صلاحیت رکھتا ہو اور اس کے بارے میں اللہ کے احکام کو سب سے زیادہ جانتا ہو۔

لیکن حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا اس وقت خلافت سے دستبردار ہو جانا سلطنتِ اسلامی کے لیے اور زیادہ خطرناک اور مہلک ہو سکتا تھا لہٰذا سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا مؤقف یہ تھا کہ پہلے ملتِ اسلامیہ کے منتشر اور بکھرے ہوئے شیرازے اور قوتوں کو یکجا کیا جائے، اس کے بعد قاتلینِ عثمان رضی اللہ عنہ پر ہاتھ ڈالا جائے اس نازک صورتِ حال میں دونوں طرف رائے اور اجتہاد کی گنجائش ہے، سو دونوں فریقوں میں سے کسی کی بھی تفسیق جائز نہ ہو گی گویا کبار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نزدیک حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی خلافت قائم ہو چکی تھی۔

ان تمام امور کے بعد حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی خردہ گیری و عیب چینی کو اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھنا اور اسے حُبِ اہلِ بیتؓ کی معراج تصور کرنا ایں خیال است و محال است و جنوں کا مصداق ہے ۔

حافظ ابنِ عساکرؒ (متوفی 571ھ) امام ابو زرعہ رازیؒ (متوفی 261ھ) سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ان سے کہا: میں سیدنا امیرِ معاویہؓ سے بغض رکھتا ہوں آپ نے فرمایا: کیوں؟ کہنے لگا: انہوں نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے قتال کیا۔

امام ابو زرعہؒ نے فرمایا:  

وَيْحَكَ، إِنَّ رَبَّ مُعَاوِيَةَ رَحِيمٌ، وَ خَصْمَ مُعَاوِيَةَ خَصْمٌ كَرِيمٌ، فَأَيُّشَ دُخُولُكَ أَنْتَ بَيْنَهُمَا، رَضِی اللهُ عَنْهُمَا

(البدایہ والنہایہ: جلد 8 صفحہ131 سن 69 ہجری تحت ترجمہ معاویہؓ و ذکر شی من ایامہ و دولتہ)  

ترجمہ: تیرے لیے ہلاکت ہو! حضرت امیرِ معاویہؓ کا رب مہربان ہے اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کا مقابل کریم ہے سو ان دونوں سے اللہ راضی ہو چکا ان کے درمیان تو کون ہے دخل دینے والا۔

آخر میں ہم مصنف ہی کا ایک شعر پڑھ دیتے ہیں:  

ہمارا کام ہے اچھی بری ہر بات سمجھانا  

یہ ان کا اپنا ذمہ ہے، نہ سمجھیں وہ اگر پھر بھی