شراب نوش پر دوگنی حد - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

شراب نوش پر دوگنی حد

  علی محمد محمد الصلابی

2۔ شراب نوش پر دوگنی حد:

سیدنا علیؓ کی طرف سے شراب کے رسیا انسان کے لیے دوگنی حد کی رائے کو حضرت عمرؓ نے مانا، کیونکہ ہر جگہ شراب نوشی عام ہوتی جا رہی تھی اور خاص طور سے وہ مفتوحہ ممالک جو جلد ہی اسلامی حکومت کے زیرِ اقتدار آئے تھے۔ اس موقع پر حضرت علیؓ نے حضرت عمر فاروقؓ کو مشورہ دیا کہ شراب نوشی کرنے والے کو کم از کم اسّی (80) کوڑے مارے جائیں اور اس کی علت بیان کرتے ہوئے فرمایا: میرے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ جب شراب نوش بدمست ہوگا تو بے ہودگی بکے گا، اور جب بے ہودگی بکے گا تو دوسرے پر تہمت لگائے گا اور تہمت لگانے والے کی شرعی حد اَسّی (80) کوڑے ہیں۔

(إرواء الغلیل: البانی: جلد 4 صفحہ 46، 47۔ شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ اس روایت کی سند ضعیف ہے۔)

شراب نوشی کرنے والے کے بارے میں حضرت علیؓ کا یہ قول ثابت ہے کہ میں کسی پر حد نافذ کروں اور وہ مر جائے تو اس پر مجھے رنجیدگی نہیں ہو گی، لیکن اگر شراب نوشی کرنے والا حد کی تنفید سے مرجائے تو میں اس کی دیت (تاوان) ادا کروں گا، کیونکہ یہ حد رسول اللہﷺ کی سنت سے نہیں ہے۔ (فتح الباری: 12 صفحہ 66)۔

امام بیہقیؒ نے ’’سنت سے نہ ہونے‘‘ کا مطلب یہ بتایا ہے کہ چالیس کوڑوں سے زیادہ سنتِ رسولﷺ سے ثابت نہیں ہے، یا کوڑوں کے ذریعہ سے حد کی تنفیذ نبیﷺ کی سنت نہیں ہے بلکہ آپﷺ کے زمانہ میں جوتوں اور کپڑوں کے کناروں سے چالیس کی تعداد میں اس حد کی تنفیذ ہوتی تھی۔ واللہ اعلم۔ 

(السنن الکبری: البیہقی: جلد 8 صفحہ 322)۔

فقہائے اسلام نے خلفائے راشدینؓ کے عمل سے شراب نوشی کرنے والے کی شرعی حد مقرر کی ہے، امام مالک، ثوری، ابو حنیفہ رحمہما اللہ علیہم اور آپ کے مقلّدین اَسّی (80) کوڑوں کے قائل ہیں، کیونکہ اسی پر صحابہ کرامؓ کا اجماع ہے اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ، امام شافعی اور امام احمد رحمہمااللہ کا ایک قول یہ ہے کہ اس کی شرعی حد چالیس کوڑے ہے، اس پر چالیس کوڑوں کا اضافہ بطور تعزیر حضرت عمر فاروقؓ کی طرف سے ہے اگر امام وقت اسے نافذ کرنے میں مصلحت سمجھتا ہے تو اس کے لیے جائز ہے۔ امام شافعیؒ کا صحیح مسلک یہی ہے۔

(المغنی: جلد 8 صفحہ 307)۔

اور امام ابن تیمیہؒ وغیرہ بھی اسی طرف مائل ہیں آپ فرماتے ہیں: 

’’اگر شراب نوشی عام نہ ہو اور پینے والا اس کا عادی نہ ہو، ابھی نیا نیا ہو، تو اس کے لیے چالیس کوڑوں ہی پر اکتفا کیا جائے۔‘‘ 

(الفتاویٰ: جلد 28   صفحہ 336، 337، منہاج السنۃ: جلد 6 صفحہ 83)۔