اسلام - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

اسلام

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3
آپ کا اسلام لانا تلاش وجستجو اور انتظار کے بعد تھا، دور جاہلیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گہرے تعلق اور عمیق معرفت سے اسلام قبول کرنے میں آپ کو مدد ملی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے نزول کا آغاز ہوا، آپ لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دینے لگے، آپ نے سب سے پہلے انتخاب صدیق کا کیا، کیونکہ آپ کے اخلاق کریمانہ اور عادات طیبہ سے بخوبی واقف تھے، اسی طرح ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی صداقت اور امانت داری اور ایسے اخلاق سے واقف تھے، جو لوگوں کے ساتھ جھوٹ سے مانع تھے، پھر بھلا اللہ رب العالمین پر کیسے جھوٹ بول سکتے تھے۔
(تاریخ الدعوۃ فی عہد الخلفاء الراشدین: 44)
چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی طرف دعوت کا آغاز کرتے ہوئے ان سے کہا: میں اللہ کا رسول و نبی ہوں، مجھے اللہ نے یہ دعوت دے کر بھیجا ہے کہ صرف اللہ کی عبادت کرو، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو، اس کی اطاعت پر دوستی کرو۔
(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام: جلد، 1 صفحہ، 286، السیرۃ الحلبیۃ: جلد، 1 صفحہ، 440 البدایۃ والنہایۃ: جلد، 3 صفحہ، 31 ، ط دار المعرفۃ بیروت) یہ بات سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ بغیر کسی لیت ولعل اور بلا کسی تاخیر کے فوراً مشرف بہ اسلام ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی تائید ونصرت کا معاہدہ کیا اور اپنے اس عہد کو کماحقہ ادا کیا، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے سلسلہ میں فرمایا:
((ان اللّٰہ بعثنی الیکم فقلتم کذبت وقال ابوبکر: صدق و واسانی بنفسہ ومالہ ، فہل انتم تارکون لی صاحبی؟ مرتین۔))
(البخاری: فضائل اصحاب النبی صلي الله عليه وسلم ، 3661)
’’اللہ نے مجھے تمہاری طرف مبعوث کیا تو تم لوگوں نے اوّلاً مجھے جھٹلایا اور ابوبکر نے تصدیق کی اور اپنی جان ومال کے ساتھ میرا ساتھ دیا، تم میری خاطر میرے ساتھی کو چھوڑے رکھو، تم میری خاطر میرے ساتھی کو چھوڑے رکھو۔‘‘
اس طرح ابوبکر رضی اللہ عنہ آزاد مردوں میں سب سے پہلے مشرف بہ اسلام ہوئے۔ امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ ، حسان بن ثابت، عبداللہ بن عباس، اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہم نے کہا: سب سے پہلے اسلام لانے والے ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ یوسف بن یعقوب الماجشون کا کہنا ہے کہ میرے والد اور میرے اساتذہ، محمد بن منکدر، ربیعہ بن عبدالرحمن، صالح بن کیسان، سعد بن ابراہیم، عثمان بن محمد الاخنس کو اس بات میں ادنیٰ شک بھی نہیں تھا کہ سب سے پہلے اسلام لانے والے ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔
(صفۃ الصّفوۃ: جلد، 1 صفحہ، 237، فضائل الصحابۃ للامام احمد: جلد، 3 صفحہ، 206)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے اسلام لانے والے ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں، پھر انہوں نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے اشعار سے استدلال کیا:
اذا تذکَّرتَ شجوًا من اخی ثقۃٍ فاذکر اخاک ابابکر بما فعلا 
’’جب تمہیں اپنے کسی قابل اعتماد بھائی سے ضرورت یاد آئے تو اپنے بھائی ابوبکر اور ان کے کارناموں کو یاد کرو۔‘‘
خیر البریۃ اتقاہا واعدلہا
إلَّا النبی و اوفاہا بما حَمَلا
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مخلوق میں سب سے بہتر، سب سے زیادہ متقی، سب سے زیادہ عدل پسند اور سب سے زیادہ اپنی ذمہ داری ادا کرنے والے ہیں۔‘‘
الثانی التَّالی المحمود مشہدُہٗ
و اوّل الناس ممن صدق الرسلا
’’آپ کا دوسرا نمبر ہے، آپ کے واقعات قابل تعریف ہے اور سب سے پہلے آپ ہی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی۔‘‘
وثانی اثنین فی الغار المنیف وقد
طاف العدو بہ اذ صعد الجبلا
’’اور بلند غار میں آپ دو میں سے دوسرے تھے، جب کہ دشمن پہاڑ پر چڑھ کر غار کا چکر لگا رہا تھا۔‘‘
وعاش حمدا لامر اللّٰہ متبعا
بہدی صاحبہ الماضی وما انتقلا
’’اللہ کے حکم کی ستائش کرتے ہوئے اور ماضی وحال میں اپنے دوست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہوئے زندگی گزاری۔‘‘
وکان حب رسول اللّٰہ قد علموا
من البریۃ لم یعدل بہ رجلا
(دیوان حسان بن ثابت: تحقیق ولید عرفات، جلد، 1 صفحہ، 17)
’’آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب تھے، لوگوں کو معلوم تھا کہ مخلوق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک آپ کے ہم پلہ کوئی نہ تھا۔‘‘
علماء نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کو موضوع بحث بنایا ہے، کیا آپ سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے تھے؟ علماء کی ایک جماعت نے اسی کو اختیار کیا ہے اور کچھ لوگوں نے علی رضی اللہ عنہ کو سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والا قرار دیا ہے اور کچھ لوگوں نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو پہلا مسلمان قرار دیا ہے۔ علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ان مختلف اقوال کے درمیان بڑی اچھی تطبیق دی ہے۔ فرماتے ہیں: ان تمام اقوال میں اس طرح تطبیق ہو جاتی ہے کہ خواتین میں سب سے پہلے اسلام لانے والی ام المومنین خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا مردوں سے بھی پہلے۔ غلاموں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ مشہور قول کے مطابق اس وقت وہ چھوٹے تھے، بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچے تھے اور آزاد مردوں میں سب سے پہلے اسلام سے مشرف ہونے والے ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ مذکورہ بالا لوگوں میں سب سے زیادہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا نفع بخش رہا، کیونکہ آپ کو قیادی حیثیت حاصل تھی، قریش کے قابل احترام رئیس تھے، مالی پوزیشن بھی آپ کی اچھی تھی، اوّل دن سے اسلام کے داعی تھے، آپ سے سب ہی محبت کرتے اور آپ کو چاہتے تھے، اللہ ورسول کی اطاعت میں بے دریغ مال خرچ کرتے تھے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے ان اقوال میں جمع و تطبیق پیدا کرتے ہوئے فرمایا: آزاد مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں اور خواتین میں اس شرف کو پانے والی خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں اور غلاموں میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور بچوں میں علی رضی اللہ عنہ ہیں۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 3 صفحہ، 27 اور 28)
صفحہ 2 از 3