اسلام - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

اسلام

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

اسلام:

ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اسلام تلاش حق کے طویل ایمانی سفر کا نتیجہ تھا۔ آپ کو شروع سے دین حق کی تلاش تھی، جو آپ کی فطرت سلیمہ، دور رس بصیرت اور عقل راجح سے بالکل موافقت رکھتا ہو۔ آپ تجارتی مشغلہ کی وجہ سے زیادہ سفر کرتے تھے، جزیرۃ العرب کے اکثر شہروں، بستیوں اور صحراؤں سے آپ کا گذر ہوتا تھا، شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک کا چکر لگاتے تھے۔ مختلف ادیان کے ماننے والوں، خاص کر نصاریٰ سے گہرا تعلق تھا اور ان لوگوں کی باتیں غور سے سنتے تھے، جو توحید کا پرچم اٹھائے دین حق کی تلاش میں لگے تھے۔
(مواقف الصدیق مع النبی بمکۃ، د: عاطف لماضۃ: 6)
آپ اپنے متعلق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میں کعبہ کے صحن میں بیٹھا ہوا تھا، وہاں زید بن عمرو بن نفیل بھی تشریف فرما تھے، اتنے میں امیہ بن ابی الصلت کا گذر ہوا، اس نے کہا: اے خیر کے طالب کیسے صبح کی؟ زید نے کہا: خیر وعافیت کے ساتھ، اس نے کہا: کیا خیر کو پا لیا؟ زید نے جواب دیا: نہیں، اس پر اس نے کہا:
کل دین یوم القیامۃ الا ما مضٰی فی الحنیفیۃ بُورُ
(تاریخ الخلفاء للسیوطی: 52)
’’قیامت کے دن ابراہیمی (دین) کے علاوہ تمام ادیان ہلاکت کا سبب ہوں گے۔‘‘
اور رہی یہ بات کہ یہ نبی منتظر تو ہم میں سے یا تم میں سے ہو گا۔
تو ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس سے قبل میں نے کسی نبی کی بعثت اور اس کے انتظار سے متعلق نہیں سنا تھا۔ یہ سن کر میں ورقہ بن نوفل کے پاس گیا جو آسمان میں اکثر غور و فکر کیا کرتے تھے اور اکثر آہستہ سینے سے آواز نکالنے والے تھے۔ میں ان سے ملا اور یہ واقعہ بیان کیا، تو انہوں نے کہا: ہاں بیٹے! ہم کتاب وعلم والے ہیں، ہوشیار ہو جاؤ یہ نبی جن کا انتظار ہو رہا ہے، وہ عرب کے بہترین نسب میں سے ہوگا اور میں علم انساب کا ماہر ہوں۔ تمہاری قوم قریش عربوں میں سب سے اعلیٰ نسب کی حامل ہے۔ میں نے عرض کیا: چچا! وہ نبی کیا کہیں گے؟ انہوں نے کہا: وہ وہی کہیں گے جس کے کہنے کا اللہ حکم دے گا، نہ وہ ظلم کریں گے نہ ان پر ظلم ہوگا اور نہ آپس میں ایک دوسرے پر ظلم کی دعوت دیں گے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی میں فوراً ایمان لایا اور آپ کی تصدیق کی۔(تاریخ الخلفاء للسیوطی: 52)
آپ امیہ بن ابی الصلت کے کلام کو شوق سے سنتے تھے، جیسے اس کا یہ قول:
ألا نبی لنا منا فیخبرنا
ما بعد غایتنا من راس مجرانا
’’خبردار ہو جاؤ ہم میں سے ہمارے لیے ایک نبی مبعوث ہونے والے ہیں جو ہماری زندگی کے مقصد کی ہمیں خبر دیں گے۔‘‘
انی اعوذ بمن حج الحجیجُ لہ
والرافعون لدین اللہ ارکانا
’’یقینا اس ذات کی پناہ چاہتا ہوں جس کے لیے حجاج حج کرتے ہیں، اور اللہ کے دین کے ارکان کو بلند کرتے ہیں۔‘‘
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اثر انگیز بصیرت، عقل تاباں، فکر مؤثر، ذہن نیر، تیز ذکاوت اور سنجیدہ و باوقار غور وفکر کے ساتھ اس دور میں زندگی گذاری جس کی وجہ سے انہوں نے بہت سے اشعار و واقعات کو محفوظ کر لیا، چنانچہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے سوال کیا ان میں ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے: تم میں سے کون قس بن ساعدہ کا وہ کلام یاد رکھتا ہے جو اس نے عکاظ کے بازار میں کہا تھا؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ہاں، یارسول اللہ! مجھے یاد ہے، میں اس دن عکاظ میں موجود تھا، قس اپنے خاکستری اونٹ پر سوار کہہ رہا تھا، لوگو سنو اور یاد کر لو اور جب یاد کر لو تو اس سے استفادہ کرو، یقینا جو دنیا میں زندہ رہا اس کو موت آئی ہے اور جو مر گیا وہ فوت ہو گیا، ہر آنے والی چیز آ کر رہے گی، یقینا آسمان میں خبریں ہیں اور زمین میں دروس و عبر ہیں، زمین کا بچھونا بچھا ہوا ہے، آسمان کی چھت بلند ہے، ستارے چکر لگا رہے ہیں، سمندر اترنے والے نہیں، رات تاریک ہے، آسمان برجوں والا ہے۔
قس قسم کھاتا ہے: یقینا اللہ کا ایک دین ہے جو تمہارے اس دین سے جس پر تم ہو اللہ کو زیادہ محبوب ہے۔ مجھے کیا ہو گیا کہ دیکھتا ہوں لوگ چلے جا رہے ہیں، کوئی لوٹ کر آتا نہیں، کیا نیا مقام ان کو پسند آگیا ہے کہ اقامت پذیر ہو گئے یا انہیں چھوڑ دیا گیا ہے، پس سو گئے ہیں۔
پھر اس نے یہ شعر پڑھا:
فی الذاہبین الاوّلی
القرون لنا بصائر
’’گذشتہ زمانے میں گذرے ہوئے لوگوں میں ہمارے لیے درس اور عبرتیں ہیں۔‘‘
لما رأیتُ مواردًا للموت لیس لہا مصادر
’’جب میں نے موت کے ایسے گھاٹ دیکھے کہ جہاں سے واپسی کے امکانات نہیں۔‘‘
ورأیت قومی نحوھا یسعی الاکابر والاصاغر
’’اور دیکھا کہ میری قوم کے چھوٹے بڑے سب اس کی طرف بھاگے جا رہے ہیں۔‘‘
أیقنت انی لا محا لۃَ حیث صار القوم صائر
(موقف الصدیق مع النبی بمکۃ: 8)
’’تو مجھے یقین ہو گیا کہ جہاں لوگ جا رہے ہیں وہیں مجھے بھی ضرور جانا ہے۔‘‘
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے سامنے جو کچھ قس نے کہا تھا انتہائی ممتاز ترتیب اور قوی یادداشت کے ساتھ بیان کر رہے ہیں جس سے واضح ہے کہ آپ کے حافظے نے ان معانی کو پوری طرح محفوظ کر لیا تھا۔
(موقف الصدیق مع النبی بمکۃ: 9)
جس وقت آپ شام میں تھے ایک خواب دیکھا، اس کو بحیرا راہب سے بیان کیا، اس نے دریافت کیا: آپ کہاں سے تعلق رکھتے ہیں؟
ابوبکر: مکہ سے۔
بحیرا: مکہ میں کس خاندان سے؟
ابوبکر: قریش۔
بحیرا: آپ کا مشغلہ کیا ہے؟
ابوبکر: تجارت۔
بحیرا: اگر آپ کا خواب سچ ہے تو آپ کی قوم میں ایک نبی مبعوث ہوگا، آپ اس کی زندگی میں اس کے وزیر ہوں گے اور اس کی وفات کے بعد اس کے خلیفہ ہوں گے۔ آپ نے یہ بات اپنے جی میں چھپائے رکھی۔
(الخلفاء الراشدون، محمود شاکر: 34)
صفحہ 1 از 3