اسلام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اسلام

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

امام مہدی آخر زمانے میں مدینہ کے ایک گاؤں کریم میں پیدا ہوں گے 

(بحوالہ از تحفہ جعفریہ مطبوعہ لاہور)

شیعیت:

امام مہدی سامرا کی غار میں گم ہوئے چہار دہ معصوم۔

در سامرا قبر مامن ہمامين حضرت هادی و حضرت عسکری متوفی 260ھ و سرداب غیبت حجتہ بن الحسن عسکری و کناراں بارگاہ قرار گرفتہ ذر سامرا در صحن بزرگ است۔

(چہار دہ معصوم، مصنفہ عماد الدین حسین اصفہانی: جلد دوم صفحہ667، طبع جدید ایران)

ترجمہ: سامرا عراق کا شہر میں دو بزرگ اماموں سیدنا ہادی اور سیدنا حسن عسکریؒ کی قبر ہے اور سیدنا حسن عسکریؒ کے بیٹے حضرت حجتہ (امام مہدی) کے غائب ہونے والا تہ خانہ اسی بارگاہ کے جوار میں بڑے صحن کے اندر ہے۔

سامرا کے تہ خانے میں بسا اوقات اولیاء اللہ کو امام غائب مختلف بھیسوں میں نظر آتا ہے (چہار دہ معصوم):

آفتاب و جودش از شرف دامان مادرش نرجس خاتون شاہزادئہ رومی در شب جمعہ 15 شعبان نزدیک صبح و رسال 255ھ پدیدار گشت و تاکنوں کہ 1118 سال از تولاش میگزرد در پس پردئہ غیب از چشم جہانیان مخفی است تا آنکہ بامر الٰہی ظاہر گردد وصف سرداب علی غیبت کبریٰ آں سینے بسیار زیبا و وسیعے کہ چند خانہ بزرگ عسکریین رابہم مربوط میاخت بسبب حملہ دشمنان جائے غیبت کبریٰ قرار گرفت یعنی امام عصر حجتہ بن الحسن العسکری عج برائے آخرین دفعہ از انظار عمومی آنجا مخفی شدد و دیگر ہیچ کس جز خواص اوتاد و مخلصین از مردم او را نمے بینید مگر کسانیکہ از اولیاء خدا باشند و دیدنہ حق بیں داشتہ و او بوجود آید و بتواند آں شخصیت را در ہر لباس است بیند۔

(چہارده معصوم:جلد 2 صفحہ683، طبع جدید ایران)

ترجمہ: امام غائب کا آفتاب وجود اپنی والدہ کے افک و امان سے جن کا نام نرجس خاتون ہے شعبان کی 15 تاریخ کو 255ھ میں بوقت صبح ظاہر ہوا۔ 1118 سال ہوئے اب تک دنیا والوں کی نظر سے پردہ خفا میں ہیں تاآنکہ اللہ کے حکم سے ظاہر ہوں گے جس تہ خانے میں آپ کی غیبتِ کبریٰ ہوئی، وہ جگہ زمین کے اندر بڑی خوبصورت اور وسیع ہے جو عسکریین کے چند بڑے کمروں کو آپس میں ملاتی ہے دشمنوں کے حملے کے خوف سے وہاں آپ کی غیبتِ کبریٰ واقع ہوئی یعنی امام زمانہ حضرت حجتہ بن سیدنا حسن عسکریؒ (اللہ انہیں جلدی ظاہر کرے) اس جگہ آخری بار عام لوگوں کی نظروں سے مخفی ہوئے خاص الخاص اور مخلص بندوں کے سوا انہیں کوئی نہیں دیکھ سکتا البتہ جو لوگ اولیاء اللہ میں سے ہوں اور خدا شناس نگاہیں رکھتے ہوں وہ آپ کو دیکھ سکتے ہیں، خواہ آپ جس بھی لباس میں ہوں۔

امام مہدی ستر گز لمبا اصلی قرآن، نبی کریمﷺ کے ہتھیار اور ذوالفقار حیدری وغیرہ لے کر غار سے نکلیں گے:

و يكون عنده سلاح رسول الله و سيفه ذو الفقار و تكون عنده صحيفة فيها اسماء شيعته الى يوم القيامة و صحيفة فيها اسماء اعداء الى يوم القيامة و يكون عنده الجامعة و هى صحيفة طولها سبعون ذراعا فيها جميع ما يحتاج اليه ولد ادم و يكون عنده الجفر الاكبر والاصغر و هو اهاب كبش فيها جميع العلوم حتى ارش الخدش و حتىٰ الجلدہ و نصف الجلدہ و ثلث الجلدہ و يكون عنده مصحف فاطمة عليها السلام۔

(طبع قدیم: صفحہ 240 احتجاج الرضا فیما لتعلق بالامہ مطبوعہ نجف اشرف احتجاج طبرسی، جلد2 صفحہ 231 مطبوعہ قم خیابان ارم، طبع جدید)

ترجمہ: سیدنا مہدی کے پاس رسول اللہﷺ کے ہتھیار اور ذوالفقار تلوار ہوگی ان کے پاس ایک صحیفہ ہوگا جس میں ان کے قیامت تک کے شیعوں کے نام ہوں گے اور ایک صحیفہ ہوگا جس میں ان کے تاقیامت دشمنوں کے نام ہوں گے اور الجامعہ نامی صحیفہ ہوگا جس کا طول ستر ہاتھ ہوگا اس میں اولادِ آدم کے تمام مسائل کا حل ہوگا ان کے پاس جفر اکبر و اصغر ہوگا وہ ایک مینڈھے کی کھال ہے جس میں تمام علوم ہوں گے حتیٰ کہ خراش کی سزا مکمل حد آدھی یا اس کا تہائی حصہ سب مذکور ہوگا اور ان کے پاس سیدہ فاطمہؓ کا مصحف بھی ہوگا۔

انوار نعمانیہ:

فان قلت كيف جاز القراه فى هذا القرآن مع ما لحقه من التغيير قلت قد ورد الاخبار انهم امروا شيعتهم لقراه هذا الموجود من القرآن فى الصلوٰة وغيرها والعمل باحكامه حتى يظهر مولانا صاحب الزمان فحينئذ ترفع هذا القرآن من ايدى الناس الى السماء و يخرج القرآن الذى الفه امير المومنين فيقراء ويعمل باحكامه روى الكلينی باسناده الى سالم بن سلمہ قال قرأ رجل على ابن عبد الله وانا استمع حروفا من القرآن ليس على ما يقرأها الناس فقال ابو عبد الله مه كف عن هذه القراءة واقرأ كما يقرأ الناس حتىٰ يقوم القائم فاذا قام قرأ كتاب الله علیحده واخرج المصحف الذی كتبه علی وفی هذا الحديث ان عليا لما فرغ من القرآن قال لهم هذا كتاب الله تعالىٰ كما انزله الله على محمدﷺ و قد جمعته بين اللوحين فقال هو ذا عندنا مصحف جامع فيه القرآن لا حاجہ لنا فيه فقال اما والله ما ترونه بعد يومكم هذا ابدا انما كان علی ان اخبركم حين جمعته۔

(انوار نعمانيہ: صفحہ 238 مطبوعہ ایران طبع قدیم من عثمان و معاویہ بیان مصلحت کتابت الوحی)

ترجمہ: اگر یہ اعتراض کرے کہ اس قرآن کی تلاوت کیسے جائز ہے جب کہ اس میں تغییر و تبدل ہو چکا ہے؟ میں کہوں گا کہ احادیث میں آ چکا ہے کہ اہلِ بیتؓ نے اپنے شیعوں کو اس موجودہ قرآن کی نماز میں تلاوت اور اس کے احکام پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ حکم صاحب الزمان کے ظہور تک ہے جب وہ آئیں گے تو موجودہ قرآن لوگوں کے ہاتھ سے آسمان کی طرف اٹھا لیا جائے گا اور وہ قرآن لایا جائے گا جسے سیدنا امیر المومنین علیؓ نے تالیف کیا تھا وہ اس کی تلاوت کریں گے اور اس کے احکام پر عمل کریں گے۔

کلینی نے سالم بن سلمہ کی اسناد سے روایت کی ایک آدمی نے میری موجودگی میں سیدنا جعفر صادقؒ کے سامنے قرآن کی کچھ ایسی آیات پڑھیں جو موجودہ قرآن میں نہیں ہیں تو امام نے فرمایا چھوڑو اور وہی پڑھو جو دوسرے لوگ پڑھتے ہیں حتیٰ کہ امام قائم آئیں جب وہ آ جائیں گے تو علیحدہ کتاب پڑھیں گے اور سیدنا علیؓ کا لکھا مصحف نکالیں گے اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ جب سیدنا علیؓ نے اپنے مخالفین کو اپنا تالیف شدہ قرآن دیا اور کہا کہ یہ اللہ کی کتاب اس ترتیب کے مطابق ہے جس پر اسے محمد رسول اللہﷺ پر اتارا گیا میں نے اسے دو تختیوں میں جمع کر دیا ہے تو اس (عمر) نے کہا ہمارے پاس مصحف ہے، اس میں قرآن جمع ہے ہمیں تمہارے جمع کردہ قرآن کی کوئی ضرورت نہیں تو کہا خدا کی قسم آج کے بعد تم اسے نہ دیکھو گے میرے لیے یہ ضروری تھا کہ میں تمہیں اطلاع کر دیتا کہ میں نے قرآن جمع کیا ہے تاکہ تم اسے پڑھتے۔

جلاء العیون کی عبارت ملاحظہ ہو:

سیدنا امیرؓ کو بیعت کے لیے بلایا سیدنا امیرؓ نے فرمایا میں نے قسم کھائی ہے جب تک قرآن جمع نہ کر لوں گا گھر سے باہر نہ آؤں گا اور چادر کندھے پر نہ ڈالوں گا بعد چند روز کے فرقانِ ناطق یعنی سیدنا امیرؓ نے قرآن جمع فرمایا اور جزدان میں رکھ کر سر بمہر کر دیا پھر مسجد میں تشریف لا کر مجمع مہاجرین و انصار میں ندا فرمائی کہ اے گروہِ مرداں! جب میں دفنِ پیغمبرِ آخر الزمانﷺ سے فارغ ہوا، بحکمِ آنحضرتﷺ قرآن جمع کرنے میں مشغول ہوا اور جمع آیات و سور ہائے قرآن کو میں نے جمع کر دیا اور کوئی آیت آسمان سے نازل نہ ہوئی جو حضرت نے مجھے نہ سنائی ہو اور اس کی تعلیم مجھے نہ کی ہو۔

چونکہ اس قرآن میں چند آیات کفر و نفاق منافقین قوم و آیاتِ نصِ خلافتِ سیدنا امیرؓ صریح تھیں، اس وجہ سے اس قرآن سے انکار کر دیا سیدنا امیرؓ خشمناک اپنے حجرہ طاہرہ کی طرف تشریف لے گئے اور فرمایا اب اس قرآن کو تم لوگ تا ظہور قائم آلِ محمد نہ دیکھو گے۔

(احتجاج طبرسی: جلد، اول صفحہ107، طبع جدید، ماجری بعد الرسولﷺ،

جلاء العیون: ترجمہ صفحہ 266، 267، جلد 1 طبع جدید)