شیعہ کا عقیدہ امامت:
شیعہ کا عقیدہِ امامت سیدنا علیؓ اور ان کی اولاد کے جملہ ائمہ اور بزرگوں کی تعلیمات کے بالکل برعکس ہے ہمیں شیعہ اور اسلامی تاریخ کے سارے دیوان اور کتب خانے چھاننے کے بعد بھی سیدنا علیؓ کی طرف سے دعوائے امامت اور مزعومہ بارہ اماموں کے بارے میں سیدنا علیؓ، سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کے ایسے کسی ارشاد یا تصریح کا سراغ نہیں ملا جو شیعہ مذہب کے تصورِ امامت اور 12ویں سیدنا مہدی کے ظہور کے بارے میں شیعی نظریات کی تائید کرتے ہوں عالمِ اسلام کے عظیم مفکر سیدنا مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نے اپنی تازہ معرکۃ الآراء تالیف شیعہ سنی اختلافات اور صراطِ مستقیم میں ایک شیعی مجتہد محسن الاجتہادی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے شیعہ کے عقیدہِ امامت پر یوں تبصرہ کیا ہے:
شیعہ مذہب کا نظریہِ امامت فطری طور پر غلط تھا یہی وجہ ہے کہ شیعہ مذہب بھی اس کا بوجھ زیادہ دیر تک برداشت نہ کر سکا بلکہ اس نے اماموں کا سلسلہ بارہویں امام پر ختم کر کے اسے 260ھ میں کسی عراق کی کسی نامعلوم غار سر من رای میں ہمیشہ کے لیے غائب کر دیا آج ان کو ساڑھے گیارہ صدیاں گزر چکی ہیں مگر کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ بارہویں امام کہاں ہیں اور کس حالت میں ہیں۔
(بحوالہ: شیعہ سنی اختلاف اور صراطِ مستقیم: صفحہ 222)
سیدنا علیؓ کی طرف سے سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ و سیدنا عثمانؓ کی 24 سالہ اقتداء، وزارت و نیابت، ہر جنگی اور فقہی معاملے میں مشاورت ایک ایسا طرزِ عمل ہے، جس کو دیکھ کر شیعہ کی طرف سے حضرات خلفائے ثلاثہؓ پر فتویٰ کفر اور ان کی خلافت پر غاصبانہ قبضہ کا سارا واویلا فریب اور جھوٹ کی دنیا میں عجوبہ معلوم ہونے لگتا ہے۔
سیدنا علیؓ، آپ کی اولاد کے گیارہ بزرگ جن کو شیعہ 12 اماموں کا نام دے کر نئے مذہب کی عمارت کھڑی کر چکے ہیں ان کی تعلیمات اور افکار کا شیعہ مذہب سے موازنہ کریں تو راقم کی کتاب شیعہ اور ائمہ ہدایت میں موجود ہے ہم یہاں 12ویں مقام پر آنے والے سیدنا حسن عسکریؒ کے صاحبزادے محمد مہدی کے احوال اور خود شیعہ کے ہاں ان کی پیدائش اور ظہور کے بارے میں تضادات کا ذکر کریں گے تاکہ عام مسلمان اور شیعہ کا منصف مزاج طبقہ بھی اس حقیقت پر غور کرے کہ اسلام کی طرف سے جس مقدس ہستی کو سیدنا محمد مہدی کہا گیا ہے، وہ شیعی تصور سے یکسر جدا ہے شیعہ نے امام مہدی کے ظہور کے بارے میں جو عقیدہ اپنایا ہے، اسلام میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے ولادت سے وفات اور درمیانی مدت کے جملہ کارناموں میں ایک جز میں دونوں ائمہ کا ارتباط اور تعلق ثابت نہیں ہوتا۔