باب دوم قال اللہ اثبات حرمت متعہ بآیات قرآنیہ - ردِ رافضیت…

باب دوم قال اللہ اثبات حرمت متعہ بآیات قرآنیہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

قال اللہ:اثبات حرمت متعہ بآیات قرآنیہ:

اگر مسلمانوں کے درمیان کسی دینی یا دنیوی معاملہ میں تنازعہ ہو جائے تو بموجب ارشادِ باری تعالیٰ:  

فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ الخ۔ (سورۃ النساء: آیت 59)

قال اللہ اور قال الرسول کی طرف رجوع کرنے کا حکم ہے اور یہی قاضی النزاع ہمیشہ سے سمجھے چلے آتے ہیں اور اب تک ہیں چنانچہ قال اللہ اور قال الرسول کو ہم دو بابوں میں تقسیم کرکے ان پر علیحدہ علیحدہ بحث کریں گے۔

جمہور اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ کتاب اللہ برخلاف دیگر کتبِ آسمانی قیامت تک تحریف سے مبرّا و منزّہ رہے گی کیونکہ خدا عزوجل نے خود اس کی نگہبانی اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ ملاحظہ ہو:

اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ ۞

(سورۃ الحجر: آیت 9) 

ترجمہ: ہم اس کے محافظ ہیں۔

اس کے برعکس کل اہلِ تشیع کا یہ اعتقاد ہے کہ کتاب اللہ درجہ اعتبار سے ساقط ہے، مثل تورات و انجیل قابلِ تمسک نہیں، کیونکہ اس میں کثرت سے تحریف ہو چکی ہے اور بے شمار احکام منسوخ اور متعدد آیتیں اور سورتیں جو ناسخ احکام و مخصصِ عمومات تھیں سرقہ ہو چکی ہیں اور جو موجود ہے اس میں بعض الفاظ تبدیل شدہ، بعض زائد اور بعض ناقص ہیں چنانچہ شیعوں کی معتبر کتب میں اس الزام کی سندات بکثرت موجود ہیں۔

عَنْ هِشَامِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ الْقُرْآنُ الَّذِی جَاءَ بِهِ جِبْرِيلُ إِلَى مُحَمَّدٍ سَبْعَةَ عَشَرَ أَلْفَ آيَةٍ الخ۔

(اصولِ کافی: فصل القرآن: صفحہ671) 

ترجمہ: روایت کی ہشام بن سالم نے سیدنا جعفر صادقؒ سے کہ قرآن جو جبرئیل محمدﷺ کے پاس لایا تھا اس میں ستر ہزار آیات تھیں۔

حالانکہ موجودہ قرآنِ مجید میں صرف چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ آیات ہیں یہی نہیں کہ اس میں کتاب اللہ میں سرقہ وغیرہ کے ہی قائل ہیں بلکہ اسے اصل قرآن منزل من اللہ ہی نہیں سمجھتے چنانچہ ان کا عقیدہ ہے کہ جب امیرؓ نے قرآن کو خلفاء کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے رد کر دیا تو آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم پھر اس کو تم ہمیشہ تک ہرگز نہ دیکھو گے۔  

(اصولِ کافی: صفحہ671)

اچھا یہی مضمون ایک اور کتاب میں اس طرح درج ہے: جب جناب امیرؓ فاطمہؓ کو دراز گوش پر سوار کر کے ایک ایک صحابی کے گھر پر امداد طلب کر کے مایوس ہو چکے تو گھر میں جا کر بیٹھ رہے اور قرآن جمع کرنے میں مشغول ہوئے تا اینکہ جمع کرنے سے فارغ ہوئے اور ایک روز اس قرآن کو رومال میں لپیٹ کر اور مہر اس پر کرکے مسجد میں لائے اس وقت ابوبکرؓ بمعہ ایک جماعتِ صحابہ کے مسجد میں حاضر تھے سیدنا امیرؓ نے با آوازِ بلند کہا اور تم کو کتاب خدا کی دعوت نہیں کی یہ سن کر سیدنا عمرؓ نے کہا کہ وہ قرآن جو ہمارے پاس ہے ہم کو وہی کافی ہے اور وافی ہے اور تمہارے قرآن کی کوئی حاجت نہیں ہے حضرت نے فرمایا کہ اس قرآن کو نہ دیکھو گے تا اینکہ مہدی میرے فرزندوں میں سے اسے ظاہر کرے گا۔  

(صوتِ حیدریہ: صفحہ 81، 82)

باوجود اس امر کے کہ اہلِ تشیع عقیدتاً قرآنِ کریم کو صحیفہ عثمانی سمجھتے ہیں اور اسے نہ صرف محرف و مبدل ہی بلکہ غیر صحیح الترتیب اور نامکمل بھی خیال کرتے ہیں لیکن چونکہ ابھی تک ان کے امام منتظر اپنی نہ ختم ہونے والی مدت غیبتِ کبریٰ کو ختم کر کے غار سرمن رائے کی افسانوی حقیقت کے طلسم کو توڑ کر اس دنیا میں ظاہر نہیں ہوئے، جو چالیس خالص شیعوں کے وجود سے عرصہ زائد از ایک ہزار سال سے برابر چلی آتی ہے اور اپنے غیر خالص شیعوں کی روز بروز بڑھتی تعداد کو صحیفہ عثمانی کی گمراہ کرنے والی روشنی میں بے یار و غمگسار چھوڑ کر خود ایک گمنام غار کو اپنے جدِ امجد کی مشعل ہدایت سے بقعہ نور بنانے کے موقع کے انتظار میں سمٹے سمٹائے بیٹھے ہیں اس لیے غیر خالص جماعت شیعان امام یکصد نام کا جبراً و قہراً موجودہ قرآن حمید پر عملاً تمسک ہے لہٰذا مسئلہ زیرِ بحث کے تصفیہ کے لیے ہم اسی کتاب اللہ سے استفتاء کرتے ہیں۔