عبد اللہ بن میمون (اہوازی) باطنی:
شیعہ کا ایک فرقہ باطنی کہلاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس کی تعلیمات کی بنیاد اپنے عقیدہ کو چھپانے اور بات کو پیٹ میں رکھنے پر ہے باطنی کا معنیٰ ہی پیٹ والا ہے عہدِ حاضر میں اسی فرقہ کو اسماعیلی کہا جاتا ہے شروع میں اس فرقہ نے اسماعیلیت کی بجائے باطنیت کی طرف خود کو منسوب کیا۔
عبد اللہ بن میمون ایران کے شہر اہواز کا رہنے والا تھا۔
ابتداء میں یہ سیدنا جعفر صادقؒ کے صاحبزادہ اسماعیل کی خدمت میں بعد ازاں ان کے دوسرے بھائی محمد کے پاس آیا ان کے ساتھ مصر کا بھی سفر کیا۔
محمد کے انتقال کے بعد اس کے غلام مبارک نے اسے اسماعیلی مذہب کی دعوت کے ابلاغ کے لیے مصر سے کوفہ بھیجا پھر کوہستان عراق اور بصرہ پہنچا یہاں کچھ عرصہ تو اسماعیلی مذہب کی تبلیغ کرتا رہا بعد میں اس نے نبوت اور مہدویت کا دعویٰ کر دیا۔ عبد اللہ کا والد میمون بن ویصان مجوسی ایرانی تھا اور سیدنا جعفر صادقؒ کا آزاد کردہ غلام تھا اس نے اسلام دشمنی اور مسلمانوں کی اذیت رسانی میں کوئی کسر نہ چھوڑی رفتہ رفتہ عبد اللہ نے اپنی نسبت سیدنا اسماعیل سے ختم کر کے اپنے والد کی طرف میمونی کے نام سے اپنے پیروکاروں کو منسوب کیا بعد میں یہی لوگ قرامطہ کے نام سے مشہور ہوئے انہوں نے کوفہ اور مصر سے نکل کر قم میں جا کر اپنے مذہب کو فروغ دیا عبد اللہ بن میمون نے اہلِ بیتؓ کی محبت کی آڑ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خلفاءِ راشدینؓ کے خلاف دشمنی کا بیج بویا قم میں علماءِ اہلِ سنت کی بروقت مداخلت کے باعث یہ بھاگ کر رے موجودہ تہران چلا گیا یہاں اس کو مہدویت کے فروغ اور شیعہ کے قرامطی فرقہ کی ترویج کا موقع میسر آیا۔