سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ارشادات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ارشادات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

سیدنا علیؓ اور ان کے صاحبزادے، سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کے دور میں کسی بارہویں امام کے ظہور کی کوئی خبر نہیں دی گئی شیعہ مذہب کے نزدیک سیدنا مہدی کا ظہور مذہبِ شیعہ کی حقیقی اساس ہے اس کے بغیر دنیا کا نظام ہی نہیں چل سکتا جب کہ سیدنا علیؓ کی پوری زندگی کے کسی واقعہ سے اس نظریے کی تائید نہیں ملتی۔ 

سیدنا علیؓ جن کی اولاد کے گیارہ افراد کو شیعہ نے اثناءِ عشریہ مذہب کی اساس قرار دیا ہے، سیدنا علیؓ نے تو شیعہ عقیدہ کے مطابق عالم الغیب ہونے کے باوجود امامت کے اس تصور کی کوئی خبر دی، نہ اس کے بارے میں کسی کے نام ہدایات جاری کیں اور نہ مزعومہ تصورِ امامت اور آنے والے بارہویں امام کی پیشگی اطلاع بہم پہنچائی۔

البدایہ والنہایہ کی ایک روایت کے مطابق حملہ کے بعد شہادت سے تھوڑی دیر قبل سیدنا جندب بن عبداللہ نے عرض کیا:

پہلا ارشاد:

يا امير المؤمنين ان مت نبايع الحسن فقال لا امركم وانهاكم انتم ابصر۔  

ترجمہ: امیر المؤمنین! آپ کا انتقال ہو جائے تو کیا ہم آپ کے صاحبزادے سیدنا حسنؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لیں؟ فرمایا نہ میں تمہیں حکم دیتا ہوں نہ منع کرتا ہوں تم لوگ بہتر جانتے ہو۔

دوسرا ارشاد:

نہج البلاغہ کے مطابق سیدنا علیؓ تو سیدنا عثمانؓ کی شہادت کے بعد بھی خلافت پر آمادہ نہیں تھے آپ سے اس کی درخواست کی گئی تو آپ نے جو کچھ فرمایا، وہ نہج البلاغہ ہی سے من وعن نقل کیا جاتا ہے:  

دعونی و التمسوا غیری وان ترکتمونی فانا کاحدکم، و لعلی اسمعکم و اطوعکم لمن ولیتموه امرکم و انا لكم وزیرا خیرلکم منی امیرا۔ 

(نہج البلاغہ: صفحہ136سیدنا علیؓ کے خطبات)

ترجمہ: مجھے چھوڑو خلافت کے لیے کسی اور کو تلاش کر لو اور اگر تم مجھے چھوڑو تو میں تمہارے جیسا ہی ایک آدمی ہوں اور ہو سکتا ہے کہ جس کو تم امیر بنا لو میں تم سے بڑھ کر اس کی اطاعت کروں گا اور میرا وزیر بن کر تمہارے لیے کام کرنا اس سے بہتر ہے کہ میں تمہارا حاکم بنوں۔ 

تیسرا ارشاد:

نہج البلاغہ کے صفحہ 322 پر سیدنا علیؓ نے خلافت و امامت کے بارے میں کس قدر صراحت سے فرمایا ہے:  

والله ما كانت لی فی الخلافتہ رغبتہ ولا فی الولایہ اربتہ ولكنكم دعوتمونى اليها و حملتمونی عليها۔  

ترجمہ: اللہ کی قسم! مجھے خلافت کی کوئی رغبت نہ تھی نہ حکومت کی کوئی خواہش تھی لیکن تم لوگوں نے مجھے اس کی دعوت دی اور خود مجھے اس پر آمادہ کیا۔

سیدنا علیؓ کے ان تینوں ارشادات کا بغور جائزہ لینے والا ہر شخص کھلے طور پر یہی نتیجہ اخذ کرے گا کہ سیدنا علیؓ کی شہادت کے روز تک آپ کو اور آپ کے رفقاء کو شیعہ کے بعد میں وضع کیے جانے والے عقیدہِ امامت کی کچھ خبر بھی نہ تھی جس بارہویں امام اور سیدنا حسن عسکریؒ کے جس صاحبزادے کے بارے میں ان کے سیدنا مہدی ہونے کا عقیدہ اپنایا گیا ہے، کم از کم سیدنا علیؓ اس کی کچھ خبر کسی کو دے دیتے اس کی علامات بتا دیتے اس عقیدہ کی کچھ تو بنیاد بنائی ہوتی۔ 

ایک آدمی کو یہاں آ کر بہت حیرانی ہوتی ہے کہ دھو روزمن کی زبوں کاری نے اسلام کے ایک بہت ہی جلیل القدر انسان اور تاریخِ عالم کی قابلِ قدر ہستی سیدنا علیؓ کے نام اور آپ کی اولاد کے چند اساطین کی آڑ میں کیسے کیسے شگوفے تیار کیے عقیدہِ امامت کی بنیاد پر خاندانِ نبوت کی جن بارہ ہستیوں کو چنا گیا، ان میں کسی ایک نے بھی شیعہ کے مزعومہ عقیدہ کی نہ تائید کی ہے، نہ ہی ان سے کسی جگہ اس عقیدہ کا اثبات ملا ہے۔ 

ہمارا دعویٰ ہے کہ اصحابِ رسولﷺ اور خلفائے راشدینؓ کی خلافت اور تحریفِ قرآن کے بارے میں جو باتیں اصولِ کافی وغیرہ میں ان کی طرف منسوب کی گئی ہیں، وہ تمام بزرگ اس سے مکمل طور پر بری ہیں یہ سب کچھ شیعہ کے عہدِ انحراف 301ھ کے بعد کی فسوں کاری ہے، جس کی خامہ فرسائی نے اسلام کے سینہ کو اہلِ بیتؓ کی محبت کی چھتری کے نیچے بیٹھ کر چھید ڈالا گیا ہے۔