شیعہ کے عقیدہ امام مہدی پر غور کی دعوت - ردِ رافضیت | دفاع…

شیعہ کے عقیدہ امام مہدی پر غور کی دعوت

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

باز گشت:

اب یہاں تھوڑی دیر ٹھہر کر مسئلہ امامت اور عقیدہ مہدی پر غور کیجیے تو مندرجہ بالا تفصیل سے ہم چند اہم نتائج پر پہنچتے ہیں:

اول: امامیہ کا دعویٰ ہے کہ امامت نص پر موقوف ہے اور بڑی بلند آہنگی سے یہ کہا جاتا ہے کہ آنحضرتﷺ نے سیدنا امیر المومنینؓ پر اور آپ کی نسل میں سے گیارہ اماموں پر یکے بعد دیگرے نص فرمائی تھی لیکن شروع سے آخر تک شیعہ امامت میں جو اختلافات رہے (اور جن کی طرف اوپر مختصر اشارہ کیا گیا ہے) ان کو سامنے رکھ کر انصاف کیجیے کہ اگر بارہ اماموں پر نام بنام نص ہوتی تو کیا یہ اختلافات رونما ہوتے؟ کیا ہر امام کی وفات پر نئے سرے سے ہنگامہ برپا ہوتا؟ حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تو جو جی چاہے کہہ لیجیے لیکن بعد کے اختلافات تو خود شیعوں میں نہیں بلکہ خود اہلِ بیتؓ کے درمیان اور اولادِ ائمہ میں پیدا ہوئے تھے! سوال یہ ہے کہ نص کی موجودگی میں یہ اختلافات کیوں ہوئے؟ 

اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو فہم و انصاف عطا فرمایا ہو تو مندرجہ بالا تفصیل کو سامنے رکھ کر بڑی آسانی سے یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ بارہ اماموں کا تصور اور بارہویں امام کے بارے میں نص صریح کا دعویٰ محض ایک خود تراشیدہ کہانی ہے، جسے خود غرض لوگوں نے گھڑ کر ان بزرگوں سے منسوب کر دیا ہے۔ اس کا دینِ اسلام سے کوئی تعلق نہیں نہ سیدنا علیؓ اس عقیدہ امامت سے آشنا تھے اور نہ ان کی ذریاتِ طیبات کو اس کی خبر تھی یہ خود غرض لوگ ہی جس کو چاہتے تھے، امام بنا لیتے تھے اور جس کو چاہتے تھے، امامت سے برطرف کر دیتے تھے۔

دوم: آخری زمانے میں سیدنا مہدی علیہ الرضوان کا پیدا ہونا برحق ہے لیکن بھولے بھالے لوگوں کو ہمیشہ مہدی کے نام پر مبتلائے فریب کیا گیا اور ان کو بوجہ پسندِی اور توہم پرستی کا خوگر بنایا گیا۔ گزشتہ تفصیل سے آپ دیکھ چکے ہیں کہ:

تضادات کا آئینہ:

اولاً: مختار بن عبید ثقفی کذاب نے سیدنا محمد بن حنفیہؒ کو مہدیِ آخری الزماں قرار دیا اور ہزاروں شیعہ اس کے دامِ فریب کا شکار ہوئے۔  

ثانياً: سیدنا زید شہیدؒ شہادت 123ھ نے سب کے سامنے جامِ شہادت نوش فرمایا لیکن بے شمار لوگوں کو ان کے مہدی قائم ہونے کا یقین دلایا گیا کہ وہ دوبارہ آئیں گے اور دنیا کو عدل و انصاف سے پر کریں گے۔  

ثالثاً: سیدنا محمد نفسِ زکیہ شہیدؒ شہادت 145ھ کو ان کی شہادت کے باوجود مہدی قرار دیا گیا اور ان کی دوبارہ تشریف آوری کا یقین دلایا گیا۔  

رابعاً: سیدنا محمد باقرؒ کا سب کے سامنے انتقال ہوا سب کے سامنے ان کی تکفین و تدفین ہوئی لیکن بہت سے لوگوں نے اس کے باوجود ان کو حی لا یموت سمجھا اور ان کے مہدی قائم ہونے کا دعویٰ کیا۔  

خامساً: بہت سے لوگوں نے ان کے صاحبزادے سیدنا جعفر صادقؒ کو آنکھوں کے سامنے ان کی وفات ہو جانے کے باوجود مہدی قائم سمجھا۔  

سادساً: بہت سے لوگوں نے سیدنا جعفر صادقؒ کے صاحبزادے سیدنا اسماعیؒل کی شکل میں مہدی تلاش کیا۔  

سابعاً: ایک گروہ نے سیدنا صادقؒ کے دوسرے صاحبزادے سیدنا زکریاؒ کو مہدی قائم تصور کیا۔  

ثمانیاً: ایک گروہ نے سیدنا موسیٰ کاظمؒ کے بارے میں یہ عقیدہ پیش کیا کہ وہ مرنے کے باوجود مرے نہیں بلکہ روپوش ہو گئے ہیں اور وہی مہدی قائم ہیں۔  

تاسعاً: ایک گروہ نے سیدنا حسن عسکریؒ کے بارے میں یہ عقیدہ پیش کیا کہ وہ روپوش ہو گئے ہیں اور وہی مہدی قائم ہیں۔  

عاشراً: ایک گروہ نے سیدنا حسن عسکریؒ کی طرف ایک بے نام و نشان بیٹا منسوب کر کے دعویٰ کیا کہ یہ صاحبزادہ صاحب لوگوں سے نظریں بچا کر روپوش ہو گئے ہیں اور وہی مہدی قائم ہیں۔

الغرض اول سے آخر تک غور کرو شیعوں کے یہاں مہدی کے بارے میں بوجہ پسندی اور توہم پرستی کا عجیب طرفہ تماشا نظر آئے گا گویا ہمیشہ سے امام غائب کا تصور قائم رہا اور شیعہ کے مزاج میں یہ بات پختہ تر ہوتی چلی گئی کہ امام غائب کے بارے میں خواہ کیسی ہی خلاف مشاہدہ اور خلاف عقل بات کہی جائے، وہ اس کو ماننے کے لیے تیار رہا کرتے تھے بارہویں امام کی غیبت کا افسانہ بھی اسی خلاف عقل و خلاف عقیدہ توہم پرستی کی ایک مثال ہے۔

تاریخی شہادتیں یہ ہیں کہ سیدنا حسن عسکریؒ لا ولد فوت ہوئے ان کی وراثت کا معاملہ باقاعدہ عدالت میں گیا، عدالت نے ان کے وارثوں کی تحقیق و تفتیش کی اور جب یہ ثابت ہو گیا کہ ان کا کوئی صاحب زادہ نہیں تو عدالت نے ان کی وراثت ان کی والدہ اور بھائی کے درمیان تقسیم کر دی اصول کافی میں ہے:  

فان الامر عندنا السلطان ان ابا محمد قضى ولم يخلف ولدا و قسم ميراثه۔ 

(اصول کافی: جلد1 صفحہ330) 

ترجمہ: جو چیز حکومت کو محقق ہوئی وہ یہ ہے کہ سیدنا حسن عسکریؒ لا ولد فوت ہوئے اور اس بناء پر ان کی میراث ان کے وارثوں پر تقسیم کر دی گئی۔