مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ مہدویت - ردِ رافضیت | دفاع…

مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ مہدویت

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

امام مہدی کے عنوان پر مغالطہ دینے کا سلسلہ بھی جھوٹے مدعی مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویِٰ مسیحیت کی طرح جھوٹ اور کھلا فریب ہے مرزا غلام احمد قادیانی نے 1892ء میں اپنے کو مہدی موعود کہا آنحضرتﷺ کی امام مہدی کے بارے میں پیشین گوئیوں کو اپنے اوپر منطبق کرنے کے لیے اس نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مرزا صاحب کا دعویٰ مہدویت ملاحظہ ہو:  

وہ آخری مہدی جو تنزلِ اسلام کے وقت اور گمراہی پھیلنے کے زمانہ میں براہِ راست خدا سے ہدایت پانے والا اور اس آسمانی مائدہ کو نئے سرے سے انسانوں کے آگے پیش کرنے والا تقدیرِ الٰہی میں مقرر کیا گیا تھا، جس کی بشارت آج سے تیرہ سو برس پہلے رسولِ کریم نے دی تھی، وہ میں ہوں۔  

(تذکرۃ الشہادتین: صفحہ2)

یہاں بھی آنحضرتﷺ کی بیان کردہ علاماتِ مہدی آڑے آئیں اور یہ دعویٰ بھی تارِ عنکبوت کی طرح بکھر کر رہ گیا اس سے پہلے اس نے خود کو مسیحِ موعود بھی قرار دیا تھا علماءِ اسلام میں حضرت مولانا مرتضیٰ احسن چاند پوری، حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی اور قاضی ثناء اللہ امرتسری نے اس من گھڑت دعوے کی دھجیاں بکھیر دی تھیں اسلام کے عقیدے کے مطابق قربِ قیامت میں نازل ہونے والے مسیحِ موعود کی 80 علامات جو آنحضرتﷺ کے مقدس فرامین پر مشتمل ہیں، جب لوگوں کے سامنے پیش کی گئیں تو یہ دعویٰ بھی ٹائیں ٹائیں فش ہو گیا۔

بعد ازاں مرزا غلام احمد قادیانی نے مہدیِ موعود اور مسیحِ موعود کے دعووں سے آگے بڑھ کر خود کو آنحضرتﷺ کے بعد نبوت کا حامل کہا رفتہ رفتہ مرزا صاحب کے تمام دعوؤں کی قلعی کھلتی گئی تا آنکہ پاکستان اور تمام عرب ممالک کی پارلیمنٹوں اور عدالتوں سے مرزا صاحب اور ان کے پیروکاروں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ دعویِٰ مہدویت کے باب میں تاریخِ اسلام کے مختلف ادوار میں کئی افراد نے پنجہ آزمائی کی، جس کا مختصر خاکہ اسی کتاب کے ایک باب میں درج کیا گیا ہے۔