تذکرۃ الائمہ کی عبارت ملاحظہ ہو - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تذکرۃ الائمہ کی عبارت ملاحظہ ہو

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

دوسری عبارت (بارہویں امام) امام مہدی کی حکومت کا دوسرا واقعہ:

علی بن عز الدین استر آبادی نقل میکند کہ آقائے سید علی دقاق کہ جد و پدر اور در کمال علم و ورع و تشیع در ولایت عرب مشہور بودند حکایت کرد کہ پیش از ایں پنج سال باجماعتی در دیار شام بودم ناگاہ کشتی پیدا شد نہ بطریق کشتیہا معہود چون بنزدیک رسید مردمے کہ در آنجا بودند رفتیم بہ پیش و احوال پرسیدیم چنار معلوم شد کہ قریب بیکماہ است کہ دریا راہ گم کردہ اند و با بادانی سہ رسیدہ اند پس احوال پرسیدہ کہ شما درچہ دین ہستید چون معلوم کردند کہ بر دین اسلامیم خوشدل شدند اما محذر بودند تا آنکہ تحقیق کردند کہ بر طریق اثنی عشریم بیکبارگی رام شدند و بکنار خشکی آمدند و ایشان را ترغیب کردیم بہ نیکی اعتقاد مردم ایں ولایت وار زانی و فراوانی نعمت گمان ایشان یقین شد کہ مخالف در ایں ولایت نمی باشد پس بیرون آمدند و نماز ظہر را جماعت گزارند و درہم بسیار بیروں آوردند کہ چیزے بخریدند و سکہ دراہم بنام مبارک امام مہدی بود ملعون مخالفی درمیان جماعت مابود با منافق دیگر گفتند ایں جماعتی رافضی اند اگر درہم را در ولایت شام بدرمیان وردند ایشان را ایذائے بلیغ میفرمانید مردماں چوں ایں سخن را بشنیدند بشب نہ ایستادند و فی الحال درکشتیہائے خود سوار شدند و از ہمانراہ کہ آمدہ بودند مراجعت کردند و سید مشار الیہ فرمود کہ ہنوز پدر و اقربائے من ازاں در اہم چہار تکہ باقیست۔  

(تذکرۃ الائمہ: صفحہ 141، 142، مطبوعہ تہران، طبع جدید)

ترجمہ: علی بن عزالدین استر آبادی نقل کرتا ہے کہ سید علی بن دقاق جس کے آباؤ اجداد علم و تقویٰ اور شیعت میں عرب کے اندر مشہور تھے، حکایت بیان کرتا ہے کہ آج سے پانچ سال قبل ایک جماعت کے ہمراہ میں ملک شام میں تھا اچانک ہم نے ایک کشتی دیکھی جو عام کشتیوں کی طرح نہ تھی جب نزدیک آئی تو ہم اس میں سوار آدمیوں کے قریب گئے اور ان کے حالات دریافت کیے ایسا معلوم ہوا کہ تقریباً ایک مہینہ سے وہ دریا میں راستہ گم کیے ہوئے ہیں اور اس عرصہ میں کوئی آبادی نظر نہ آئی ہم نے پوچھا تم کس دین سے تعلق رکھتے ہو جب انہیں ہمارے بارے میں علم ہوا کہ ہم مسلمان ہیں تو بہت خوش ہوئے لیکن کچھ ڈرے سے تھے پھر جب انہیں معلوم ہوا کہ ہم اثناءِ عشریہ شیعہ ہیں تو فوراً وہ رام ہو گئے اور خشکی پر آگئے ہم نے انہیں اپنے علاقہ کے لوگوں کے اچھے عقائد اور مال و دولت کی فراوانی کے متعلق ترغیب دلائی ان کا گمان یقین میں تبدیل ہو گیا کہ اس ولایت میں کوئی مخالف نہیں رہتا لہٰذا وہ باہر آئے اور نمازِ ظہر باجماعت ادا کی اور بہت سے درہم باہر نکالے تاکہ کچھ خریدیں اور ان دراہم پر امام مہدی کا مبارک نام لکھا ہوا تھا ایک ملعون ہماری جماعت میں ہمارا مخالف بھی تھا اس نے ایک اور منافق سے کہا یہ رافضی ٹولہ ہے اگر یہ درہم ہم ولایتِ شام لے چلیں تو وہاں کے حکمران ان کو واجبی سزا دیں گے ان لوگوں نے جب یہ بات سنی، رات کو ہی کوچ کیا کشتیوں میں سوار ہو کر اسی راستہ سے واپس پلٹ گئے جس سے آئے تھے اور سید علی بن دقاق سے کہا کہ اب بھی میرے والد اور بعض قریبی رشتہ داروں کے پاس ان دراہم میں سے چار سکے باقی ہیں۔