حاصل کلام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حاصل کلام

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

جملہ تصریحات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ظہورِ امام مہدی علیہ الرضوان کے بارے میں ملتِ اسلامیہ کا اتفاق ہے لیکن حضرت امام مہدی علیہ الرضوان اور ان کے والدین کے نام سے لے کر ان کی آمد کے بعد کے کارناموں تک کسی بھی جزیئے میں وہ ایک شخصیت نظر نہیں آتے مسلمانوں کے نزدیک حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کی آمد اور ان کی علامات دیکھ کر ہر شخص اس حقیقت سے واقف ہو جاتا ہے کہ مسلمانوں اور شیعہ کا نقطہ نظر یکسر مختلف اور جدا ہے۔ اسلام کے نظریہِ ظہورِ امام مہدی علیہ الرضوان کی آڑ میں شیعہ نے بالکل علیحدہ اور منفرد تصور دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، جس کی ائمہ اربعہ اور چودہ سو سالہ علماء اور عصرِ حاضر کے بریلوی، دیوبندی، اہلِ حدیث علماء میں کوئی تائید نہیں کر سکتا میں نہایت وثوق کے ساتھ یہ بات کہوں گا کہ شیعہ کی بنیادی اور اساسی کتب سے آئندہ صفحات میں ان کے جس آخر الزمان امام مہدی کا تصور پیش کیا گیا ہے، وہ اسلام کے نقطہ نظر سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا ہم آئندہ اوراق میں مسلمانوں اور شیعہ کے علیحدہ نظریے پیش کر کے آخر میں ان کی علامات کا موازنہ بھی ناظرین کے سامنے پیش کریں گے، جس سے شیعہ کے اس دعویٰ کی عمارت زمین بوس ہو جائے گی کہ امام مہدی کے ظہور کے بارے میں ان کا نقطہِ نظر مسلمانوں کے ساتھ یکساں مطابقت رکھتا ہے اس دعویٰ کی حقیقت ایک فریب اور مغالطہ آرائی کے سوا کچھ نہیں۔