شہر زدر کے گاؤں ازمک میں محمد کے نام سے مہدویت کا دعویٰ دار ہونے والا محمد مہدی ازمکی بڑا عابد، پرہیزگار، کثیر الاجتہاد، حلال و طیب رزق کمانے اور کھانے والا، حرام اور مشتبہ چیزوں سے متنفر اور خلوت نشینی کا عادی تھا اس کے دعویٰ مہدویت کی آواز سنتے ہی ہزاروں کمزور ایمان لوگ اس کے ارد گرد جمع ہو گئے اور شیطان کے بھٹکائے ہوئے چند لوگ اس مرد درویش کے پیچھے چل کر گم گشتہ راہِ حق میں اپنا نام لکھوا بیٹھے امیر احمد خان کرد کو اس جھوٹے مدعی مہدویت کا علم ہوا تو وہ فوج لے کر اس کی طرف روانہ ہوا فوج کی خبر پاتے ہی ازمکی بھاگ کھڑا ہوا اور اس کا بھائی گرفتار کر لیا گیا ازمک شہر کو تاراج کر کے اس کے پیروکاروں کو دریائے موت میں غرق کر دیا۔
چونکہ اس کا کلام اور خود ساختہ شریعت الحاد و زندقہ کا مرقع تھا اس لیے علماءِ اسلام اس کے کفر پر متفق ہو چکے تھے جس کی وجہ سے اسے گرفتار کیا گیا اور اس کے سامنے اسلام پیش کیا گیا جسے از سر نو قبول کر کے اس نے اپنی بیوی اور جان بچانے میں کامیابی حاصل کر لی لیکن رہائی کے کچھ ہی عرصہ بعد اس نے اپنے پیروکاروں سے کہا میں اپنے سابقہ دعویٰ پر قائم ہوں میں نے دل سے رجوع نہیں کیا تھا اس کیفیت کو دیکھ کر اس کا بھائی اور بہت سے اس کے ہمنوا جو اس کے معتقدین کی صف اول میں تھے، نہ صرف اس کے منکر ہو گئے بلکہ وہ اس دعوائے مہدویت اور الحاد پسندی پر سخت ملامت کرنے لگے۔
اشاعۃ الاشراط للساعہ للبرزنجی۔
(بحوالہ ائمہ تلبیس: جلد 2 صفحہ148)