سوال 4:اس شخص کے شائع کردہ کتابچہ میں اس کی جانب سے ایسے سوالات قائم کیے گئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ حضورﷺ نے سیدنا علیؓ کو خلیفہ بنانے کا عندیہ دیا تھا، نیز آپﷺ نے قلم کاغذ منگوا کر کچھ وصیت کرنی چاہی تھی لیکن بعض صحابہؓ نے منع کر دیا تھا بلکہ وہاں جھگڑا کھڑا کر دیا گیا تھا۔ اس طرح لشکر اسامہ میں اکابرِ صحابہؓ (ابوبکر وعمر وعثمان رضی اللہ عنہم) کو حضورﷺ نے تاکید سے جانے کے لیے کہا تھا وغیرہ بے شمار سوالات ہیں، ان سوالات کے کرنے کا کیا مطلب سمجھا جائے اور ایسے شخص کے بارے میں میں کیا نظریہ قائم کیا جائے؟
جواب 4:اس سوال کا بہت عمدہ، مسکت اور مدلل جواب حضرت مولانا محمد سراج الحق مچھلی شہریؒ نے اپنی کتاب وفات سرور کائنات میں بیان فرمایا ہے۔ اس کو پڑھ کر معاندین کا سارا الزام ہباء منثورا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ آپؒ تحریر فرماتے ہیں کہ جب حضورﷺ کی وفات قریب ہوئی (وفات سے پانچ روز قبل) تو حجرہ عائشہؓ میں بہت سے صحابہؓ حضورﷺ کی عیادت کو آئے، حضورﷺ کو بار بار غشی طاری ہو جاتی تھی، ایک بار غشی سے افاقہ پر حضورﷺ نے صحابہؓ سے فرمایا: آؤ میں تم کو ایک بات ایسی لکھ دوں جس کے بعد تم بہک نہ سکو گے، کاغذ قلم دوات لاؤ، ایک روایت میں ہے کہ حضورﷺ نے کاغذ لانے اور لکھنے کا حکم سیدنا علیؓ ہی کو دیا تھا، دیکھیے (فتح الباری باب کتابۃ العلم)
لوگ کاغذ لائے اور املاء کے منتظر ہوئے اتنے میں حضورﷺ کو پھر غش آ گیا۔ یہ حال دیکھ کر سیدنا عمر فاروقؓ نے فرمایا: حضورﷺ کو تکلیف سخت ہے بار بار غشی ہو رہی ہے، ہم ایسی حالت میں آپﷺ کو کچھ سوچنے اور لکھنے کی تکلیف کیوں دیں) ہمارے پاس قرآن اللہ کی کتاب تو موجود ہی ہے (جو صورت پیش آئے گی اس کے لیے ہم قرآن سے ہدایت نکال کر عمل کریں گے) تو اہلِ بیت(حجرہ میں موجود صحابہؓ) اختلاف کرنے لگے بعضوں نے کہا کاغذ لے کر تیار رہو تاکہ حضورﷺ ایسی بات لکھ (لکھوا) دیں جس سے تم لوگ بہک نہ سکو، دوسرے بعضوں نے وہی کہا جو حضرت عمرؓ نے کہا تھا، جب حضورﷺ کے پاس یہ اختلاف بڑھنے کا شور سا ہونے لگا تو حضورﷺ نے ناخوش ہو کر فرمایا: تم سب میرے پاس سے اٹھ جاؤ (عبید اللہ راوی کہتے ہیں کہ) ابنِ عباس یہ روایت بیان کر کے جب (ہمارے یہاں سے) نکلے تو یہ کہتے تھے کہ اجی بڑی مصیبت تو یہی ہوئی کہ ان کے شور اور اختلاف کے باعث اس تحریر میں رکاوٹ پڑ گئی۔
(بخاری عن علی بن عبد اللہ باب مرض النبی: جلد 2 صفحہ 638)
تشریح:
1: چونکہ ولایت عہد اور وصیت استخلاف ایک ضروری اور اہم معاملہ تھا نیز سیاسی حالات کا تقاضا تھا کہ اس کے متعلق صریح حکم دے دیا جائے اس سے آپ نے اپنے پہلے فیصلہ (التواء تحریر) کو پھر منسوخ فرمایا اور دوسرا فیصلہ یہی کیا کہ مضمون وصیت لکھا ہی دیں۔
2: یہ تو سچ ہے کہ صراحتاً اور حتماً نہیں معلوم ہو سکا کہ آپﷺ اس روز تحریر میں کیا لکھانے والے تھے، مگر اس سے قبل کے اور بعد کے قوی قرائن دیکھ کر ایک منصف اور خالی الذہن شخص تو یقیناً کہہ دے گا کہ وہ تحریر لکھی جاتی تو سیدنا ابوبکرؓ ہی کو وصی اور خلیفہ بلا فصل بنانے کے لیے ہوتی مورخین نے اس واقعہ کو پچھلے واقعات سے الگ کر کے دیکھا ہے اس وجہ سے وہ نہ ان قرائن کا ذکر کرتے ہیں اور نہ ان کے نتیجہ کا، ان کا ذہن ذیل کے قرائن کی طرف غالباً گیا ہی نہیں۔
الف: دو دن پہلے آپﷺ نے زنانخانہ میں سیدہ عائشہؓ سے بھی تحریر ہی لکھانے کا ارادہ ظاہر کیا اور اس وقت یہ فرما کر کہ ابوبکرؓ کے سوا کسی پر خدا راضی نہ ہوگا۔ اس تحریر کو ملتوی کر دیا تھا۔ یعنی وہ تحریر اگر لکھی جاتی تو اس میں ابوبکرؓ کو خلیفہ بنانے کی ہی وصیت ہوتی۔
ب: اور اس وقت (جمعرات) کو بھی آپﷺ نے تحریر ہی لکھنے کا ارادہ ظاہر کیا اور جب اہلِ بیتؓ نے شور مچایا تب بھی آپﷺ نے تحریر ملتوی فرما دی۔
ج: دو ہی دن بعد آپﷺ نے صریح حکم دے دیا کہ ابوبکرؓ میری جگہ پر نماز پڑھایا کریں۔
ان قبل اور بعد کے قرائن سے حضورﷺ کا منشاء تحریر اتنا واضح ہے کہ اسے دشمن بھی خوب سمجھ گئے پھر بھی وہ سیدنا علیؓ کے بارہ میں ایک بلا وجہ دو راز کار احتمال اٹھا کر دھول کی رسی برابر بٹے جا رہے ہیں۔ آج تک جب بھی سنیے تو وہی واقعہ قرطاس کا چرخہ چلایا جا رہا ہے۔ بات یہ ہے کہ ان کا تو مقصد ہی اسلام میں تفریق اور دلوں میں وسوسہ ڈالنا ہے۔
3: بہرحال اپنے مستقبل کے امکانات اور سیاسی حالات کا جائزہ لینے کے بعد جو تحریر لکھانے کا فیصلہ کیا (جو لکھی نہیں جا سکی) تو اس کا راز یہی سمجھ میں آتا ہے کہ چونکہ انصار میں سے سیدنا سعد انصاریؓ اور مہاجرین میں سے سیدنا عباسؓ اور سیدنا علیؓ سے دعوائے خلافت ظاہر ہونے والا تھا۔ اسی کا انعکاس قلب مبارک پر ہو رہا تھا اس لیے آپﷺ نے چاہا کہ ابوبکرؓ کے بارہ میں صریح حکم لکھوا دوں تاکہ میرے گھرانہ والے بھی اور انصار بھی میرا حکم سن کر اختلاف نہ کریں۔
4: لیکن باوجود خواہش نبویﷺ کے یہ تحریر جو نہیں لکھی گئی اس کا بھی راز یہ ہے کہ حق تعالیٰ کو منظور تو یہ تھا کہ امت ہی آپس کے مشورہ کے بعد خلیفہ کا انتخاب کرے اور امت میں جمہوری طرزِ حکومت کی بنیاد پڑے، اس لیے حضورﷺ نے اس دوسری بار بھی سیدنا ابوبکرؓ کو یا کسی کو خلافت کے لیے نامزد نہیں کیا۔ الغرض حضورﷺ کا منشاء اس تحریر میں سیدنا علیؓ ہی کے بارہ میں وصیت کرنے کا رہا ہوتا جیسا دشمن احتمال نکالتے ہیں۔ تب بھی حق تعالیٰ کو منظور ہی نہیں تھا کہ وہ تحریر عالم وجود میں آئے۔
5: یہ واقعہ قرطاس کہلاتا ہے، ظاہر میں لوگ اس کو پنج شنبہ کا واقعہ سمجھتے ہیں اور نتیجہ نکالنے میں غلطی کرتے ہیں حالانکہ اس کا تعلق واقعہ اول ہی کی تحریر سے ہے اس کو اسی کی روشنی میں دیکھنے سے صحیح مطلب سمجھا جا سکتا ہے دشمنوں نے جو وساوس مسلمانوں کے دلوں میں ڈالنے چاہے ہیں اس کا جواب بعض مشہور اہلِ قلم نے یہ دیکھ کر کہ اس واقعہ سے تو سیدنا عمرؓ پر الزام الگ لگتا ہے اور نعوذ باللہ خود حضورﷺ کی ذات اقدس کے متعلق بھی شائبہ تنقیص الگ ہوتا ہے، سرے سے سیدنا ابنِ عباسؓ کی اس روایت ہی کا انکار کرنا چاہا ہے اور کہا ہے کہ اس انکار میں ہم اس وجہ سے اور بھی حق بجانب ہیں کہ اتنے اہم واقعہ کے راوی صرف ابن عباسؓ ہی ہیں جو وفات رسول اللہﷺ کے وقت اول تو خود موجود نہیں تھے دوسرے اس وقت ان کی عمر کل تیرہ (13) سال کی تھی اس لیے اس 13 سالہ نو عمر شخص جو واقعہ کے عینی شاہد بھی نہیں اگر حضورﷺ کی تنقیص اور سیدنا عمرؓ پر الزام کی روایت کریں اور تنہا روایت کریں تم ہم اس کو رد کر دینا آسان سمجھتے ہیں۔ (الفاروق علامہ شبلی: صفحہ 38)
مگر میرے نزدیک یہ بات معقول نہیں، اول تو اس وجہ سے کہ ابنِ عباسؓ حَبر امت ہیں، حضورﷺ کے نظر کردہ اور دعا یافتہ ہیں، ان کی عمر چودہ، تیرہ برس ہی ہو خواہ اس سے بھی کم رہی ہو، وہ قابلِ اعتماد ہیں اور یقیناً ہیں، پھر خواہ واقعہ کے وقت وہ حضورﷺ کے پاس موجود نہ رہے ہوں وہ یقیناً ثقہ اور عادل ہیں، اور ان کی روایت یقیناً معتبر ہے۔
دوسرے ثقہ راویوں کی روایت صحیحہ کو محض اس بے وزن قیاس سے اصولاً رد نہیں کیا جا سکتا۔
تیسرے اگر ابن عباسؓ سے الزام اور تنقیص کی صرف یہی ایک روایت منقول ہوتی تب تو خیر اس حدیث کے انکار میں کچھ معقولیت بھی ہوتی لیکن ہم کو تو ابنِ عباسؓ ہی کی بعض روایات ایسی بھی ملتی ہیں جن میں اس الزام اور تنقیص کا مضمون سرے سے نہیں تو اس روایت کا انکار کیوں کیا جائے؟ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ بخاری میں اس روایت کا ذکرمجھے پانچ جگہ چھ طرق سے ملا ہے۔
ان طرق میں سے صرف دو طریق ایسے ہیں جن میں یہ الزام و تنقیص کا مضمون ہے وہ طرق وہ ہیں جن میں بخاری کے استاذ قریب قبیصہ اور قتیبہ ہیں اور استاذ بعید سعید بن جبیر ہیں ورنہ بقیہ چار طرق جن میں حضرت ابنِ عباسؓ کے شاگرد عبید اللہ ہیں ان میں یہ لغو مضمون سرے سے نہیں، تو ہم بخاری کے چار استادوں (ابن وہب، علی بن عبد اللہ، ابراہیم بن موسیٰ اور عبد اللہ بن محمد) کی روایتوں کو آخر کس جرم میں رد کر دیں؟ کیا صرف اس جرم میں کہ اسی قصہ قرطاس کے دو طرق میں ”الزام و تنقیص“ کا لغو مضمون موجود ہے؟ ابن عباسؓ کی روایت کے مطلقاً انکار کر دینے کا مطلب تو یہ ہے کہ اس کے ہر طریق میں ”الزام تنقیص“ کا قابل اعتراض اور لائق احتراز مضمون موجود ہے حالانکہ ایسا نہیں بلکہ اس کے اکثر طرق کا مضمون بے غبار بھی ہے پس واقعہ قرطاس اور روایت ابن عباس کے مطلقاً انکار کے مقابلہ میں ہم یہ کیوں نہ کریں کہ اس کے چار بے غبار طرق کو تو صحیح مانیں اور صرف انہی دو طرق کا انکار کریں جن میں بخاری کے استاد قریب قبیصہ اور قتیبہ اور استاد بعید سعید بن جبیر ہیں، اگر خود حضرت ابن عباسؓ سے یہ واقعہ اس ”الزام و تنقیص“ کے لغو مضمون کے ساتھ مروی ہوتا تو اسے ان کے ہر شاگرد کی روایت میں ہونا چاہیے تھا مگر یہ کیا راز ہے کہ چار طرق میں تو کہیں اس مضمون کا پتہ نہیں صرف دو ہی طرق میں ہے؟ اور اس میں بھی اگر کوئی ماہر جرح و تعدیل اور فن رجال کا واقف عالم دین ذرا نظر تحقیق سے کام لے تو ہو سکتا ہے کہ یہ انکشاف (فتح الباری: جلد 6 باب جوائز الوفد میں مل گیا قتیبہ دراصل سفیان ثوریؒ کے شاگرد ہیں، انہی سے روایت بھی کرتے ہیں سفیان ابن عبیدؒ سے بجز بخاری کی اس روایت کے کوئی اور روایت ہی نہیں اور فربری کے شاگرد ابن السکن کی روایت میں قبیصہ کی بجائے قتیبہ ہی کا نام ہے۔ الحمد للہ)ہو کہ وہ دراصل ایک ہی طریق ہے اور کسی راوی کی کسی مخفی غرض نے اسے دو بنا دیا ہے خیر یہ کام تو فن رجال کے کسی عالم کا ہے لیکن مجھے اس طریق کے خود مضمون میں بھی کچھ نکارت معلوم ہوتی ہے۔ آپ بھی سن لیجیے:
”ابن عباسؓ نے فرمایا: ہائے جمعرات! ارے کیسی کچھ تھی وہ جمعرات: حضورﷺ کا مرض شدت اختیار کر گیا تو آپﷺ نے فرمایا میرے پاس آؤ میں تم کو ایک ایسی تحریر لکھ (لکھوا) دوں کہ تم اس کے بعد پھر کبھی بہک نہ سکو گے تو اہلِ بیتؓ آپس میں جھگڑنے لگے حالانکہ نبی کے پاس جھگڑا مناسب نہ تھا تو کچھ لوگوں نے یہ کہہ دیا۔ ”یہ حضورﷺ کی کیا حالت ہے؟ کیا آپ نے ہذیان کہا ہے؟ ذرا آپ سے پھر تو پوچھ لو تو لوگ آپ کے پاس آپ کی بات دوبارہ پوچھنے گئے، تو آپ نے فرمایا: تم سب مجھے چھوڑ دو، میں اس حالت میں اس سے اچھا ہوں جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو، پھر آپ نے ان کو تین وصیتیں فرمائیں، ایک یہ فرمایا کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو، ایک یہ کہ وفود کو اسی طرح انعام اور تحائف دینا جیسے میں دیتا تھا، تیسری بات پر وہ چپ ہو گئے یا یہ کہ میں ہی بھول گیا
(باب مرض النبی: جلد 2 صفحہ 638،
باب جوائز الوفد: جلد 1 صفحہ 429)
میں بھی تقریباً یہی مضمون ہے صرف اتنا فرق ہے کہ ”کیسی کچھ تھی وہ جمعرات‘‘ کے بعد اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ”پھر ابنِ عباسؓ اتنا روئے کہ ان کے آنسوؤں سے کنکریاں تر ہو گئیں اور کیا آپ نے ہذیان کہا ہے؟ کے بعد ”پھر تو پوچھ لو“ کا لفظ نہیں ہے۔ اچھا اب اس نکارت کا حال سنیے:
1: امت میں بعد کے اختلافات دیکھ کر صرف ابن عباسؓ کا رونا اور اتنا رونا کہ چہرہ ریش مبارک دامن وغیرہ سے گزر کر زمین کے کنکر پتھروں کا بھیگ جانا کچھ جی کو نہیں لگتا، بے غبار روایت میں ”ان الرزیۃ کل الرزیۃ“ کا لفظ آیا ہے یعنی انہوں نے فرمایا کہ اجی ساری مصیبت تو یہی ہوئی کہ لوگ اختلافات کرنے لگ گئے اور تحریر نہ لکھی جا سکی، تحریر آج ہوتی تو یہ اختلافات نہ ہوتے، معلوم ہوتا ہے کہ اسی مضمون کو غیر ضروری مبالغہ کے ساتھ کسی راوی نے بیان فرما دیا ہے۔
2: جب حضورﷺ کے کسی ارشاد میں خواہ وہ حالت مرض کی ہو یا حالت صحت کی، کسی ایک بات پر بھی کبھی اس کا احتمال نہ ہو سکا اور ہو سکتا بھی نہ تھا کہ آپﷺ نے معاذ اللہ بے عقلی، کم عقلی، بدحواسی کی بات فرمائی ہو تو حضورﷺ کے اس ارشاد پر کہ ”کاغذ قلم دوات لاؤ میں کچھ لکھوا دوں“ آخر کون سی غرابت تھی کہ معاذ اللہ بدحواسی (ہذیان) کا احتمال ہو؟ پھر تعجب ہے کہ ابنِ عباسؓ رسولﷺ کے اہلِ بیتؓ حدیثی ہو کر حضورﷺ کے لیے ہجر (ہذیان، بدحواسی) کا لفظ استعمال کریں۔
3: جب صحابہؓ کاغذ قلم دوات لے کر حضورﷺ سے دوبارہ پوچھنے گئے اور قرینہ یہی ہے کہ یہ پوچھا ہوگا کہ ”حضورﷺ ہم لوگ حسب الحکم کاغذ قلم لے آئے ہیں آپﷺ جو لکھوانا چاہتے تھے ارشاد فرمائیں، ہم لکھ لیں“ اس کے جواب میں حضورﷺ کا یہ ارشاد کہ ”میں جس حالت میں ہوں وہ اس سے اچھی ہے جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو“ اللہ مجھے معاف فرمائے اور مجھ پر رحم کرے، میری سمجھ میں نہیں آیا، میں صحابہؓ کی گزارش اور حضورﷺ کے جواب میں کوئی جوڑ نہیں سمجھ سکا۔ بخاری کی روایت دیکھ کر اگرچہ علماء نے کوشش کی ہے کہ ان میں جوڑ اور ربط پیدا کریں مگر میں دو راز کار تاویل کا قائل نہیں، مجھے صاف یہ نظر آرہا ہے کہ یہ بے جوڑ بات حضورﷺ کے متعلق کہہ کر کسی راوی نے اس اپنے سابق لغو لفظ ہجر (ہذیان) کا ایک جواز و ثبوت بہم پہنچانا چاہا ہے، لیکن الحمد للہ کہ یہ نکارت ان چار بے غبار طرق میں نہیں ہے۔
اگر میری معروضات بالا علمی طور پر صحیح ہوں تو ہمیں کیا ضرورت ہے کہ دشمنانِ دین کے اس وسوسہ کی طرف کچھ بھی التفات کریں جو وہ ان ایک یا دو طریق کو لے کر ہمارے دلوں میں ڈالنا چاہتے ہیں جن میں سیدنا ابنِ عباسؓ کے شاگرد سعید ابنِ جبیرؒ ہیں، اس روایت کے مطلقاً (چاروں طرق کے) انکار کے مقابلہ میں ہم اس کا جواب یہ کیوں نہ دیں کہ چونکہ واقعہ قرطاس بخاری ہی کے چار طرق میں ایسے الفاظ سے بھی ہے جن میں حضورﷺ کی تنقیص نہیں ہے اس لیے ہم انہیں چار کو صحیح سمجھتے ہیں اور اس ایک (یا دو) طریق کو کچھ روایۃً مشتبہ اور کچھ معنیٰ سوء ادب جان کر رد کرتے ہیں، تمہیں اگر اعتراض کرنا ہو تو بخاری کے ان چار طرق کو لے کر کوئی اعتراض کرو۔
طریق مشتبہ کا جواب:
لیکن اتمام حجت کے لیے ہم ذیل میں اس مشتبہ طریق (سعید بن جبیرؒ عن ابنِ عباسؓ) کا بھی مسکت جواب دیے دیتے ہیں، دشمنانِ دین کہتے ہیں کہ سیدنا عمرؓ پر دو الزام ہیں:
1: حضورﷺ سیدنا علیؓ کو خلیفہ بنانے والے تھے اسے سیدنا عمرؓ نے روک دیا۔
2: سیدنا عمرؓ نے ایسی تحریر کے لکھے جانے میں روڑا اٹکایا جس سے امت پھر نہ بھٹکنے پاتی۔
اس کا جواب یہ ہے:
1: سیدنا عمرؓ نے حضورﷺ کی غایت درجہ رعایت فرمائی اور آپﷺ کو راحت پہنچانے کو یہ مشورہ دیا تھا۔
2: سیدنا عمرؓ چونکہ مزاجِ رسالت کو ابن عباسؓ، علیؓ، عباسؓ وغيرہم سے کچھ زیادہ ہی سمجھتے تھے چنانچہ سیدنا عمرؓ کے بعض مشوروں کے مطابق وحی الٰہی بھی نازل ہوئی جو موافقاتِ عمرؓ کے نام سے مشہور ہے، اس لیے انہیں یقین تھا کہ اگر وہ مضمون جسے حضورﷺ لکھانا چاہتے تھے، کسی واقعی دینی ضرورت کے متعلق ہوتا تو ناممکن ہے کہ حق تعالیٰ حضورﷺ کی حیات ہی میں اس کی تکمیل نہ فرما دی ہو۔
3: حضورﷺ نے سیدہ عائشہؓ سے بھی تحریر لکھنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا پھر اسے خود ہی ملتوی فرما دیا اس سے سیدنا عمرؓ سمجھ گئے کہ اس تحریر کا نہ لکھا جانا ہی منشاء نبویﷺ بلکہ منشاء الٰہی ہے، سیدنا ابن عباسؓ چونکہ اس سر الٰہی کو نہیں سمجھ سکے اس لیے انہوں نے رو رو کر کنکریاں تر کر دیں۔
4: سیدنا عمرؓ نے جو حسبنا کتاب اللہ فرمایا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن کے ہادی کامل ہونے پر ان کا کس درجہ قوی ایمان تھا کہ اس نازک موقع پر بھی ان کے ایمان میں کمی نہیں ہونے پائی۔
5: حسبنا کتاب اللّٰہ فرماکر سیدنا عمرؓ نے اپنی صلاحیت قرآن فہمی اور اپنی ہمت کا بھی اظہار فرما دیا۔
6: سیدنا عمرؓ نے اس وقت ایک مشورہ ہی تو دیا تھا، اگر انہوں نے غلطی کی تھی تو حضرت عباسؓ اور حضرت ابن عباسؓ نے اور خاص کر سیدنا علیؓ نے کہ ایک روایت میں کاغذ لانے اور لکھنے کا حکم انہیں کو تو حضورﷺ نے دیا تھا اس وقت یا بعد میں حضورﷺ سے اس معاملہ کو صاف کیوں نہیں کر لیا؟
7: اگر سیدنا عمرؓ کا یہ مشورہ غلط تھا تو اہلِ بیتؓ نے سیدنا عمرؓ کی موافقت ہی کیوں کی؟
8: پھر جب کچھ اہلِ بیتؓ نے بھی سیدنا عمرؓ کی موافقت کی تو لوگوں کی یہ کتنی بددیانتی ہے کہ اس مشورہ کا سارا الزام اور طعن صرف سیدنا عمرؓ کو دیا جائے حالانکہ اس میں الزام کی بات سرے سے نہیں تھی۔
9: اس وقت بھی حضورﷺ نے یہ فرما کر کہ ”اچھا میرے پاس سے ہٹ جاؤ“ یہ ظاہر فرما دیا کہ وہ تحریر ضروری نہیں تھی، نہ بھی لکھی جائے تو کچھ حرج نہ ہوگا
انتباہ ضروری:
واقعہ قرطاس میں ترک تحریر کے مشورہ میں اہلِ بیتؓ کا لفظ بھی آیا ہے، میں جانتا ہوں کہ اس کے معنیٰ یہاں ذوات اربع کے نہیں بلکہ اس جگہ ”حجرہ میں موجود کل صحابہؓ“ کے ہیں۔ لیکن چونکہ علماء کی عام روش یہ ہے کہ اہلِ بیتؓ چاہے جہاں بھی آئے اس سے حضورﷺ کے داماد اور نواسے اور صاحبزادی ہی کو مراد لیتے ہیں، حتیٰ کہ قرآن کے لفظ اہلِ بیت سے بھی مراد اور مصداق انہیں ذوات اربع کو لیتے ہیں حالانکہ وہاں سو فیصدی ازواجِ رسول اُمہات المومنینؓ مراد ہیں اس لیے میں نے تشریح میں مجمل اہلِ بیت ہی کہا ہے۔ اس حدیث میں لفظ اہلِ بیت جس وسیع معنیٰ میں استعمال ہوا ہے اسے دیکھ کر تو سیدنا ابوبکرؓ، عمرؓ کو بھی بے تکلف اہلِ بیت رسولﷺ کہا جا سکتا ہے کیونکہ وہ چودہ سو برس سے آج تک بیت رسولﷺ میں مقیم ہیں۔(وفات سرور کائنات: صفحہ 30)