سیدنا علیؓ کو خلیفہ بلافصل ماننے کا حکم - ردِ رافضیت | دفاع…

سیدنا علیؓ کو خلیفہ بلافصل ماننے کا حکم

  مفتی عطاالرحمٰن قاسمی

صفحہ 1 از 3

سوال 4:اس شخص کے شائع کردہ کتابچہ میں اس کی جانب سے ایسے سوالات قائم کیے گئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ حضورﷺ نے سیدنا علیؓ کو خلیفہ بنانے کا عندیہ دیا تھا، نیز آپﷺ نے قلم کاغذ منگوا کر کچھ وصیت کرنی چاہی تھی لیکن بعض صحابہؓ نے منع کر دیا تھا بلکہ وہاں جھگڑا کھڑا کر دیا گیا تھا۔ اس طرح لشکر اسامہ میں اکابرِ صحابہؓ (ابوبکر وعمر وعثمان رضی اللہ عنہم) کو حضورﷺ نے تاکید سے جانے کے لیے کہا تھا وغیرہ بے شمار سوالات ہیں، ان سوالات کے کرنے کا کیا مطلب سمجھا جائے اور ایسے شخص کے بارے میں میں کیا نظریہ قائم کیا جائے؟

جواب 4:اس سوال کا بہت عمدہ، مسکت اور مدلل جواب حضرت مولانا محمد سراج الحق مچھلی شہریؒ نے اپنی کتاب وفات سرور کائنات میں بیان فرمایا ہے۔ اس کو پڑھ کر معاندین کا سارا الزام ہباء منثورا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ آپؒ تحریر فرماتے ہیں کہ جب حضورﷺ کی وفات قریب ہوئی (وفات سے پانچ روز قبل) تو حجرہ عائشہؓ میں بہت سے صحابہؓ حضورﷺ کی عیادت کو آئے، حضورﷺ کو بار بار غشی طاری ہو جاتی تھی، ایک بار غشی سے افاقہ پر حضورﷺ نے صحابہؓ سے فرمایا: آؤ میں تم کو ایک بات ایسی لکھ دوں جس کے بعد تم بہک نہ سکو گے، کاغذ قلم دوات لاؤ، ایک روایت میں ہے کہ حضورﷺ نے کاغذ لانے اور لکھنے کا حکم سیدنا علیؓ ہی کو دیا تھا، دیکھیے (فتح الباری باب کتابۃ العلم) 

لوگ کاغذ لائے اور املاء کے منتظر ہوئے اتنے میں حضورﷺ کو پھر غش آ گیا۔ یہ حال دیکھ کر سیدنا عمر فاروقؓ نے فرمایا: حضورﷺ کو تکلیف سخت ہے بار بار غشی ہو رہی ہے، ہم ایسی حالت میں آپﷺ‎ کو کچھ سوچنے اور لکھنے کی تکلیف کیوں دیں) ہمارے پاس قرآن اللہ کی کتاب تو موجود ہی ہے (جو صورت پیش آئے گی اس کے لیے ہم قرآن سے ہدایت نکال کر عمل کریں گے) تو اہلِ بیت(حجرہ میں موجود صحابہؓ) اختلاف کرنے لگے بعضوں نے کہا کاغذ لے کر تیار رہو تاکہ حضورﷺ ایسی بات لکھ (لکھوا) دیں جس سے تم لوگ بہک نہ سکو، دوسرے بعضوں نے وہی کہا جو حضرت عمرؓ نے کہا تھا، جب حضورﷺ کے پاس یہ اختلاف بڑھنے کا شور سا ہونے لگا تو حضورﷺ نے ناخوش ہو کر فرمایا: تم سب میرے پاس سے اٹھ جاؤ (عبید اللہ راوی کہتے ہیں کہ) ابنِ عباس یہ روایت بیان کر کے جب (ہمارے یہاں سے) نکلے تو یہ کہتے تھے کہ اجی بڑی مصیبت تو یہی ہوئی کہ ان کے شور اور اختلاف کے باعث اس تحریر میں رکاوٹ پڑ گئی۔ 

(بخاری عن علی بن عبد اللہ باب مرض النبی: جلد 2 صفحہ 638)

تشریح:

1: چونکہ ولایت عہد اور وصیت استخلاف ایک ضروری اور اہم معاملہ تھا نیز سیاسی حالات کا تقاضا تھا کہ اس کے متعلق صریح حکم دے دیا جائے اس سے آپ نے اپنے پہلے فیصلہ (التواء تحریر) کو پھر منسوخ فرمایا اور دوسرا فیصلہ یہی کیا کہ مضمون وصیت لکھا ہی دیں۔

2: یہ تو سچ ہے کہ صراحتاً اور حتماً نہیں معلوم ہو سکا کہ آپﷺ اس روز تحریر میں کیا لکھانے والے تھے، مگر اس سے قبل کے اور بعد کے قوی قرائن دیکھ کر ایک منصف اور خالی الذہن شخص تو یقیناً کہہ دے گا کہ وہ تحریر لکھی جاتی تو سیدنا ابوبکرؓ ہی کو وصی اور خلیفہ بلا فصل بنانے کے لیے ہوتی مورخین نے اس واقعہ کو پچھلے واقعات سے الگ کر کے دیکھا ہے اس وجہ سے وہ نہ ان قرائن کا ذکر کرتے ہیں اور نہ ان کے نتیجہ کا، ان کا ذہن ذیل کے قرائن کی طرف غالباً گیا ہی نہیں۔

الف: دو دن پہلے آپﷺ‎ نے زنانخانہ میں سیدہ عائشہؓ سے بھی تحریر ہی لکھانے کا ارادہ ظاہر کیا اور اس وقت یہ فرما کر کہ ابوبکرؓ کے سوا کسی پر خدا راضی نہ ہوگا۔ اس تحریر کو ملتوی کر دیا تھا۔ یعنی وہ تحریر اگر لکھی جاتی تو اس میں ابوبکرؓ کو خلیفہ بنانے کی ہی وصیت ہوتی۔

ب: اور اس وقت (جمعرات) کو بھی آپﷺ‎ نے تحریر ہی لکھنے کا ارادہ ظاہر کیا اور جب اہلِ بیتؓ نے شور مچایا تب بھی آپﷺ‎ نے تحریر ملتوی فرما دی۔

ج: دو ہی دن بعد آپﷺ‎ نے صریح حکم دے دیا کہ ابوبکرؓ میری جگہ پر نماز پڑھایا کریں۔

ان قبل اور بعد کے قرائن سے حضورﷺ کا منشاء تحریر اتنا واضح ہے کہ اسے دشمن بھی خوب سمجھ گئے پھر بھی وہ  سیدنا علیؓ کے بارہ میں ایک بلا وجہ دو راز کار احتمال اٹھا کر دھول کی رسی برابر بٹے جا رہے ہیں۔ آج تک جب بھی سنیے تو وہی واقعہ قرطاس کا چرخہ چلایا جا رہا ہے۔ بات یہ ہے کہ ان کا تو مقصد ہی اسلام میں تفریق اور دلوں میں وسوسہ ڈالنا ہے۔

3: بہرحال اپنے مستقبل کے امکانات اور سیاسی حالات کا جائزہ لینے کے بعد جو تحریر لکھانے کا فیصلہ کیا (جو لکھی نہیں جا سکی) تو اس کا راز یہی سمجھ میں آتا ہے کہ چونکہ انصار میں سے سیدنا سعد انصاریؓ اور مہاجرین میں سے سیدنا عباسؓ اور سیدنا علیؓ سے دعوائے خلافت ظاہر ہونے والا تھا۔ اسی کا انعکاس قلب مبارک پر ہو رہا تھا اس لیے آپﷺ‎ نے چاہا کہ ابوبکرؓ کے بارہ میں صریح حکم لکھوا دوں تاکہ میرے گھرانہ والے بھی اور انصار بھی میرا حکم سن کر اختلاف نہ کریں۔

4: لیکن باوجود خواہش نبویﷺ‎ کے یہ تحریر جو نہیں لکھی گئی اس کا بھی راز یہ ہے کہ حق تعالیٰ کو منظور تو یہ تھا کہ امت ہی آپس کے مشورہ کے بعد خلیفہ کا انتخاب کرے اور امت میں جمہوری طرزِ حکومت کی بنیاد پڑے، اس لیے حضورﷺ نے اس دوسری بار بھی سیدنا ابوبکرؓ کو یا کسی کو خلافت کے لیے نامزد نہیں کیا۔ الغرض حضورﷺ کا منشاء اس تحریر میں سیدنا علیؓ ہی کے بارہ میں وصیت کرنے کا رہا ہوتا جیسا دشمن احتمال نکالتے ہیں۔ تب بھی حق تعالیٰ کو منظور ہی نہیں تھا کہ وہ تحریر عالم وجود میں آئے۔

صفحہ 1 از 3