گزشتہ روایات کا خلاصہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

گزشتہ روایات کا خلاصہ

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

امام مہدی (امام غائب) جب کہ اس دنیا میں حکومت کر رہے ہیں اور لوگوں نے ان کے ممالک دیکھے اور ان کا سکہ بھی خریدا ایک سال بھر کی مسافت کے برابر لمبی چوڑی حکومت والا جزیرہ مغربی جزائر میں کہاں ہے؟ دنیا کا جغرافیہ اتنے بڑے ملک سے ناآشنا ہے صرف انہی کتابوں میں ان کا نام اور حدود و رقبہ پتہ چلتا ہے اگر یہ امر واقعی ہے تو پھر امام مہدی امام غائب کیونکر کہلائے ان کی حکومت برسوں سے چل رہی ہے ان کے نام کا سکہ جاری ہے ہزاروں لاکھوں مربع میل پر ان کی اور ان کے فرزندوں کی حکومت ہے اس کے باوجود یہ غائب ہیں اور اپنے قتل کے خوف سے چھپے ہوئے ہیں اتنی بڑی حکومت کا حاکم اور پھر قتل کا خوف؟ دیکھیے موجودہ دور میں ایک شیعہ رہنما خمینی اور ایران کا مذہبی ڈھانچہ اس نے پوری دنیا کو للکارا تھا کیا اہلِ تشیع کا امام غائب موجودہ رہنما خمینی سے بھی گیا گزرا ہے؟ پھر اس کے لیے فرضی واقعات کا سہارا لیا جاتا ہے ابنِ بطوطہ کے بقول دریائے فرات کے کنارے ایک مسجد میں وہاں کے باشندے روزانہ امام غائب کی آمد کے منتظر رہتے ہیں اسی طرح جزیرہ میں ایک سال بھر کرنے والے انتظار کر کے تھک گئے لیکن امام غائب نہ آئے۔

ایک طرف ان کی حکومت کے چرچے اور افسانے گھڑے جا رہے ہیں اور دوسری طرف ان کی آمد کے لیے فریادیں کی جاری ہیں انتظار ہو رہا ہے لیکن بے سود گھوڑا سجا کر ڈھول تھام کر اسلحہ سے مسلح ہو کر ان کی حمایت کرنے والے بصد گریہ و زاری بجاتے ہیں لیکن سیدنا مہدی پر قتل کا خوف ایسا طاری ہے کہ وہ کسی کی سنتے ہی نہیں خود اہلِ تشیع کہتے ہیں کہ جب سیدنا مہدی کے چاہنے والے مخلصین کی تعداد 313 ہو گئی تو ان کے ظہور کا اعلان ہوگا اور جب ایک ہزار ہو جائیں گے تو وہ تشریف لے آئیں گے چونکہ ابھی تک وہ نہ تشریف لائے نہ ان کی تشریف آوری کا کوئی اعلان ہوا تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ ابھی تک پوری زمین پر ان کے نام لیواؤں میں 313 بھی مخلص نہیں ملتے جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس وقت لاکھوں کی تعداد میں شیعہ جو امام غائب کو اپنا بارہواں امام تسلیم کرتے ہیں وہ ان کے بارے میں مخلص نہیں ہیں اور ممکن ہے کہ سیدنا مہدی اب سے ہی خوف نہ کھاتے ہوں کہ اگر اس وقت وہ تشریف لے آئیں تو یہی غیر مخلص اور نام نہاد محبت کے دعویدار انہیں قتل کر دیں گے تو بات کسی حد تک درست ہو سکتی ہے۔ کیونکہ ائمہ کا قتل ان کا پرانا شیوہ ہے اور اسی لیے سیدنا جعفر صادقؒ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ منافقوں کی تمام علامتیں ہمارے شیعوں میں موجود ہیں۔ 

(رجال کشی: صفحہ254 ذکر ابو الخطاب) 

اور سیدنا رضاؒ کا ارشاد ہے کہ ایک ہزار شیعوں میں سے ایک بھی مخلص نظر نہیں آتا کہ تحقیق کی جائے تو تمام مرتد نکلیں۔

(بحوالہ مجمع العارف: حاشیہ بر حلیتہ المتقین: صفحہ، 7 طبع قدیم) 

اور اگر یہ تمام موجود شیعہ مخلص ہیں تو سیدنا مہدی کے خروج کی مقررہ تعداد کب کی پوری ہو گئی اب تو انہیں تشریف لے آنا چاہیے مختصر یہ کہ سیدنا مہدی کے بارے میں اسباب و وجوہ غیبت جو آپ نے کتبِ شیعہ سے ملاحظہ کیے وہ سراسر گپیں اور لغو باتیں ہیں اگر کوئی منصف شیعہ بھی ان عبارات کو حق کی تلاش کے سلسلہ میں پڑھے تو سمجھ جائے گا کہ ائمہ اہلِ بیتؓ کے کلام میں اس قسم کا تناقض اور جھوٹ نہیں ہو سکتا یہ سب کچھ اہلِ تشیع کی چالبازیاں اور مکاریاں ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے افسانے ہیں اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرمائے۔

(از تحفہ جعفریہ: جلد، دوم صفحہ، 248)

گزشتہ سطور میں شیعہ کے تصور امام مہدی کے تضادات اور افسانہ طرازی کو ہم نے انہی کی بنیادی کتابوں کی من و عن عبارتوں اور ان پر پاکستان کے ممتاز محقق اور عالم دین حضرت مولانا محمد علی صاحب کے تبصرہ کو نقل کیا ہے اس سے شیعہ کے ظہورِ سیدنا مہدی کے نظریہ کے واضح تضادات اور خود ساختہ افکار کی ایک جھلک نمایاں ہو گئی ہے ہم نے کوشش کی ہے کہ اپنی طرف سے اس عجیب و غریب نظریہ پر کوئی تبصرہ نہ کریں کیونکہ بعض مخالفین کی طرف سے صاحبِ تبصرہ و تذکرہ کو بھی خواہ مخواہ مخالفت کا نام دیا جاتا ہے۔

امید ہے کہ جملہ ناظرین اور منصف مزاج شیعہ بھی حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ہی مذہب اور عقیدہ کے اس عظیم ستون کی صداقت و عدم صداقت پر ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں گے۔

ہمارا نقطہ نظریہ ہے کہ اسلام کی طرف سے سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے ظہور کے جس عقیدہ کو احادیث میں بیان کیا گیا ہے جس کے باعث آغاز میں ہم آنحضرتﷺ کے 30 فرامین پیش کر چکے ہیں اس تصور اور نظریہ سے شیعہ کے تصور امام مہدی کا دور کا بھی کوئی تعلق نہیں خود شیعہ مذہب کے اساطین بھی ظہورِ سیدنا مہدی کے بارے میں یکساں نظریات کے حامل نہیں سیدنا مہدی کی پیدائش غیبوبت ظہور اور کارناموں کے بارے میں متضاد آراء سے ان کے سارے دفتر بھرے پڑے ہیں جس کی ہلکی سی جھلک بطورِ آئینہ ہم اس باب میں پیش کر چکے ہیں۔