اس سے پہلے شیعہ صاحبانِ متعہ کے جواز میں کئی کتابیں لکھ چکے ہیں چنانچہ مولوی حائری صاحب کے والد بزرگوار کی "برھان المتعہ" لاہور میں اور "تنبیہ المناظرین" دہلی وغیرہ میں شائع ہو چکی ہیں مگر چونکہ یہ کتابیں عام طور پر شیعوں تک ہی محدود ہیں، اس لیے ہمیں اس مسئلہ پر قلم اٹھانے کی چنداں ضرورت محسوس نہ ہوتی تھی مگر چونکہ شیعانِ لاہور نے سیدنا صادقؒ کے حکم کے خلاف تقیہ کو چھوڑ کر اپنے مذہب کو روشنی میں لانا شروع کر دیا ہے جس سے یقیناً وہ سیدنا جعفرؒ کے ارشاد مندرجہ "اصولِ کافی" کے مطابق کہ:
من اذاعہ اذلہُ اللہ۔
ترجمہ: ذلیل ہونگے۔
چنانچہ لاہوری امامیوں کے ایک شیعہ واعظ مولوی محسن علی شاہ صاحب سبزواری نے ایک رسالہ مسمیٰ بہ "عجالہ نافعہ" لکھا ہے جو چھاپ کر اہلِ سنت و الجماعت میں مفت تقسیم کیا گیا ہے اس میں حضرت صدیقِ اکبرؓ کے خلاف بہت کچھ زہر اگلا ہے ہمیں بتایا گیا ہے کہ مولوی سبزواری صاحب ایک غیر متعصب شیعہ ہیں اور وہ مولوی حائری کی طرح بزرگانِ دین پر جلے دل کے پھپھولے نہیں پھوڑا کرتے۔ مگر "عجالہ نافعہ" نے ثابت کر دیا کہ یہ ایرانی گروہ تمام کا تمام "علی ملتہ واحدہ" کا حکم رکھتا ہے۔ اس کا ہر چھوٹا بڑا، جاہل و عالم بزرگانِ دین کی بے ادبی کرنے میں یکساں سرگرم کار ہے سبزواری مولوی صاحب اپنے آپ کو غیر متعصب بیان کر کے اضلاع جھنگ وغیرہ کے بے بس اشخاص کو درپردہ شیعت کی تعلیم اور کتنے عرصہ تک دے سکتے تھے۔ آخر ایک دن شانِ سبزواری اپنے اصلی رنگ میں ظاہر ہونی تھی، چنانچہ وہ ہو کر رہی اور "عجالہ نافعہ" نے ان کی اصلی صورت کو نمایاں کر ہی دیا۔
ناظرین حیران ہوں گے کہ شانِ سبزواری کے کیا معنیٰ لہٰذا ہم ان کو زیادہ استعجاب میں رکھنا نہیں چاہتے اور بتا دیتے ہیں کہ سبزواری ایران میں ایک شہر ہے جس کے بسنے والے سخت متعصب رافضی ہیں اس کی تصدیق مولانا رومی کی "مثنوی معنوی" سے ہوتی ہے۔ چنانچہ مذکور ہے کہ محمد خوارزم شاہ نے صحابہؓ رسول اللہﷺ کو برا کہنے والوں کے شہر کا محاصرہ کر لیا رافضیوں نے اس وقت کیا کیا، مولانا ہی کی زبان سے سن لو۔
سجدہ آور دند پشیش کالہاں
حلقہ ماں در گوش کن دا بخش جاں
ترجمہ: یعنی لگے سجدے کرنے اور جان کی امان چاہنے۔ خوارزم شاہ نے کہا:
گفت زنانید ازہن جان خویش
تانیا ریدم ابو بکرے بہ پیش
یدورم تاں ہچو کشت اے قومِ دوں
نے خراج امتانم ونے ہم فسوں
ترجمہ: کہا تمہاری جان بخشی کی ایک ہی صورت ہو سکتی ہے کہ اپنے شہر سے ایک ابو بکرؓ پیدا کرو مجھے تمہارے خراج اور سجدوں کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے عرض کیا:
(کے بود بوبکر اندر سبزوار یا کلوخے خشک اندر جولبار)
ترجمہ: کہ جس طرح نہر میں ڈھیلا خشک نہیں رہ سکتا، اسی طرح سبزوار میں ابو بکرؓ کا ہونا نا ممکن ہے ہم سے جتنا مال و زر چاہیں لے لیں، لیکن ابوبکرؓ کا مطالبہ نہ کریں یہ سن کر شاہ نے:
رو بتابید از رو گفت اے مغاں
تا نیاریدم ابوبکرؓ ارمغاں
ہیچ سودے نیست زود کہ نیستم
تا بزَر و سیم از تاں خوش شوم
ترجمہ: سیم و زر کی طرف سے منہ پھیر لیا اور کہا کہ میں اس کا بھوکا نہیں ہوں اے آتش پرستو! جب تک ابو بکرؓ کا تحفہ مجھے لا کر نہیں دو گے نجات نہیں پاؤ گے۔
الغرض یہ جواب سن کر وہ ابو بکرؓ کی تلاش میں چار سو پھیل گئے اور تین چار دن کے سفر کے بعد ایک گوہرِ مقصود حاصل ہو گیا اس کو کندھے پر اٹھا کر خوارزم شاہ کے پاس لے آئے اور ایک ابو بکرؓ کے نام کی تصدیق میں سبزوار نے امان پائی اگر ہمارے سبزواری مخاطب احسان مندی اور بتی شناسی کا مادہ رکھتے ہوتے تو "عجالہ نافعہ" میں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے منہ آ کر اس طرح منہ کی نہ دکھاتے، مگر وہ مجبور ہیں "کل شیء یرجع الی اصله"
خیر یہ ایک جملہ معترضہ تھا لیکن ہمیں اس وقت کتاب کی وجہِ تالیف عرض ہے سو عرض ہے کہ اہلِ سنت میں مفت تقسیم کردہ "عجالہ نافعہ" میں سبزواری صاحب نے ایک باب باندھا ہے جس میں متعہ کو اسلامی مسئلہ ثابت کرنے کی ناپاک کوشش کی ہے اسی طرح شیعوں کے علامہ حائری نے 28 اکتوبر کو تقیہ سے باہر نکل کر متعہ کو قرآن سے ثابت شدہ مسئلہ بتایا اور اس کا حرام کرنے والا حضرت عمرؓ کو بتایا اس لیے ہم نے یہ رسالہ بڑی عرق ریزی سے لکھ کر اس مسئلہ کا تار و پود الگ الگ کر کے بتلا دیا ہے کہ متعہ کا اسلام سے کیا تعلق ہے اور ایک با غیرت انسان کی فطرت کہاں تک اس حیا سوز مسئلہ کو قبول کر سکتی ہے۔
فَاعۡتَبِـرُوۡا يٰۤاُولِى الۡاَبۡصَارِ ۞
مولف