باب اول دلائل عقلیہ نسبت حرمت متعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

باب اول دلائل عقلیہ نسبت حرمت متعہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

باب اول

فصل اول

دلائل عقلیہ نسبت حرمت متعہ:

دلیل نمبر 1: متعہ کی غرض محض قضائے شہوت ہے:

انسان تو خیر انسان ہی ہے طیور اور وحوش میں بھی وطی کرنے سے اصل مقصود توالد و تناسل ہے، نہ فقط قضائے شہوت چنانچہ پروردگارِ عالم نے قدرت کے اس فطری اصول کو جہاں تک کہ اس کا تعلق محض انسان کی ذات سے وابستہ ہے، بدیں الفاظ اپنے کلامِ پاک میں ارشاد فرمایا ہے: 

نِسَآؤُكُمۡ حَرۡثٌ لَّـكُمۡ الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت 223)   

ترجمہ: تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں۔ 

یعنی جس طرح تم اپنی کھیتیاں محض اس لیے کاشت کرتے ہو کہ ان سے غلہ پیدا کرو، اسی طرح اپنی عورتوں سے مقاربت کرو محض اس غرض سے کہ ان سے اولاد پیدا کرو جب احمق سے احمق انسان بھی اپنی کھیتی میں محض تفریحِ طبع یا ورزشِ جسمانی کی خاطر ہل نہیں چلاتا، تو کس طرح ممکن ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو محض تفننِ طبع یا مشقِ شہوت رانی کے لیے عورتوں سے مجامعت کی اجازتِ عام دے رکھی ہو پس ثابت ہوا کہ جو شخص عورتوں سے وطی محض قضائے شہوت کے لیے کرتا ہے اور متعہ کی غرض و غایت بھی یہی ہے۔  

(ملاحظہ ہو: تنبیہ المنکرین: صفحہ 6)

چنانچہ مرد کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ بوقتِ انزال منی عورت کے رحم سے باہر گرا دے۔  

(ملاحظہ ہو: جامع عباسی: صفحہ 55)  

کیونکہ جس غرض کے لیے اس نے متعہ کیا تھا وہ تو اسے انزال سے حاصل ہو جاتی ہے لہٰذا اس کے لیے دونوں باتیں برابر ہیں، خواہ منی عورت کے رحم کے اندر گرا دے یا باہر وہ مقصود بالعرض کو مقصود بالذات بنا دیتا ہے، جو عبث محض ہے چنانچہ اس بنا پر دخول فی الدبر تمام فرقہائے اسلامی میں قطعاً حرام ہے کہ اس میں قضائے شہوت کے سوا توالد و تناسل کسی طرح حاصل نہیں ہوتا مگر مجوزینِ متعہ اس خلافِ فطرت فعل کو بھی جائز سمجھتے ہیں۔

(جامعِ جعفری میں اس الٹے دخول کا جواز ثابت کرنے کے لیے امام مالکؒ کو بھی اس کا قائل قرار دیا ہے جو صریح بہتان ہے چنانچہ تفسیر فتح البیان میں اس روایت کے متعلق صاف مذکور ہے: "فی اسانیدہ ضعف: صفحہ320 فتح المبین بلکہ خود امام مالکؒ موطا میں باب "حد اللواط میں ابنِ شہاب سے مرقوم ہے کہ لوطی کے واسطے رجم یعنی سنگسار کرنا چاہیے، محصن ہو یا غیر محصن اس کی شرح عربی میں شاہ ولی اللہ نے لکھا ہے کہ مذہبِ امام مالکؒ کا یہی ہے کہ لواطت کے لیے رجم ہے، بیاہا ہوا ہو یا کنوارا۔ اور میزانِ شعرانی و طیبی شرح مشکوٰۃ وغیرہما میں یہی لکھا ہے اور نیز "موطا امام مالکؒ" کی کتاب النکاح میں ہے: باب یحرم الایتان فی الدبر ویحل فی قبلھا من دبرھا قال اللّٰہ تعالیٰ نِسَآؤُكُمۡ حَرۡثٌ لَّـكُمۡ فَاۡتُوۡا حَرۡثَكُمۡ اَنّٰى شِئۡتُمۡ‌ الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت 223)  

اور اس کی شرح عربی کی بابت ہے کہ یہ اتفاق اہلِ علم عورت سے لواطت حرام ہے یہیں شیعوں کا اپنے فعلِ خلافِ فطرت کو جائز ثابت کرنے کے لیے امام مالکؒ کو مہتم کرنا بہت بڑی جہالت ہے۔

نصرت الابرار، مولوی غلام دستگیر صاحب تصوری: صفحہ 35)

سمجھتے ہیں۔  

ملاحظہ ہو: استبصار: جلد2 باب اتیان النساء فیما دون الفرج: صفحہ 130 مطبع جعفری لکھنؤ نیز ایک روایت ہمچو قسم فروع کافی: جلد2 صفحہ244 مطبع نولکشور پر یدین الفاظ درج ہے:  

قلت الرجل ياتی امراتہ فی دبرها قال ذلک لہ قلت فانت تفعل قال انا لا نفعل ذلک۔  

ترجمہ: میں نے کہا کہ ایک آدمی اپنی عورت کی دبر میں آتا ہے؟ تو آپ نے کہا کہ اس کے لیے جائز ہے میں نے کہا کیا آپ بھی کرتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: نہیں میں نہیں کرتا۔

(امام کا یہ قول اس ہرچہ بخود پسندی کی بریگراں پسند کے بالکل مخالف ہے غالباً آپ نے اپنے متعلق تقیہ سے کام لیا)