شیعہ صاحبان کو ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہیے کہ انہوں نے 12ویں امام کے جس تصور کو فروغ دیا ہے، اس کے مطابق وہ اپنے ظہور کے بعد اصولِ کافی حق الیقین اور عین الحیوۃ کے مطابق اہلِ سنت کے قتلِ عام، روضہِ رسولِ اکرم کے انہدام، حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے اجساد کو روضہِ رسول سے نکالنے اور ان کے جسموں پر کوڑے برسانے اور سیدہ عائشہؓ کی قبر پر حد جاری کرنے کے جن کارناموں کو سر انجام دے گا کیا آنحضرتﷺ کی بیان کردہ ظہورِ امام مہدی علیہ الرضوان کی 60 علامات میں ان کا بھی ذکر ہے؟ خود سیدنا علیؓ کے خطبات نہج البلاغہ میں بھی ان کا اشارہ تک موجود ہے؟ سیدنا عباسؓ، سیدنا حسینؓ، سیدنا حسنؓ، سیدہ فاطمہؓ کے کسی قول سے بقول آپ کے اس اہم ترین وظیفے کی ادائیگی کا اشارہ بھی کیا گیا ہے؟ جملہ مسلمانوں کے عقائد کے مطابق حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کے ظہور کے بارے میں جن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے آنحضرتﷺ کے ارشادات منقول ہیں، ان میں خلیفہ راشد سیدنا عثمانؓ، خلیفہ راشد سیدنا علی المرتضیٰؓ، سیدنا طلحہؓ، سیدنا عبد الرحمٰن بن عوفؓ، سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ، سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ، سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ جیسے جلیل القدر فقہاء اور علماء صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شامل ہیں کیا ان احادیث کی روایت کے موقع پر سیدنا علیؓ اور ان کے چچا زاد بھائی سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ کو شیعہ کے مزعومہ امام کی کسی بھی نشانی کی خبر نہ تھی، جب کہ شیعہ عقیدہ کے مطابق سیدنا علیؓ امام معصوم اور عالم الغیب کی صفات بھی رکھتے تھے؟ سیدنا علیؓ نے چلو امام مہدی کے ظہور کی روایات نقل کرتے وقت ہی ان الفاظ کی تشریح کی ہوتی مخصوص شیعی نظریہ کے ادنیٰ الفاظ کی تائید ہی ان کے کلام کے کسی حصے میں ہو جاتی تو ہم سمجھتے کہ یہ تصور کسی نہ کسی درجے میں شریعتِ اسلامیہ کا ایک حصہ ہے صرف جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی نہیں بلکہ آنحضرتﷺ کی ازواجِ مطہرات ام المؤمنین سیدہ امِ سلمہؓ، ام المؤمنین سیدہ امِ حبیبہؓ بھی ان روایات کی ناقل ہیں ان کے دوسرے راویوں میں سیدنا ابو ہریرہؓ، سیدنا ابو سعید خدریؓ، سیدنا جابر بن عبد اللہؓ، سیدنا انس بن مالکؓ، سیدنا حذیفہ الیمانؓ، سیدنا عمار بن یاسرؓ، سیدنا ثوبانؓ مولیٰ رسول اللہﷺ، سیدنا عمران بن حصینؓ اور سیدنا عوف بن مالکؓ کا نام شامل ہے تاریخ اور اسلامی افکار کے گہرے مطالعے کے بعد بھی ہمیں امام مہدی کے شیعی تصور کی کوئی تائیدی عبارت سیدنا زین العابدینؒ، حضرت امام باقرؒ، حضرت امام جعفر صادقؒ، حضرت موسیٰ کاظمؒ، حضرت محمد تقیؒ، حضرت علی نقیؒ اور حضرت حسن عسکریؒ کے کسی مستند قول، ان کے کسی واقعہ، ان کی کسی تصریح سے نظر نہیں آتی شیعہ مذہب کے عقائد کی تدوین یعنی 301ھ میں جب سے بقول ڈاکٹر موسیٰ موسوی شیعہ مذہب کا عہدِ انحراف شروع ہوا، اس سے پہلے 12ویں امام کا وہ شیعی تصور جو اصولِ کافی اور بعد کے شیعہ مجتہدین کی کتب میں اگلی نسلوں تک پہنچا، اس کا دور دور تک کوئی ذکر نہیں ملتا۔