جون 1994ء میں سپاہ صحابہؓ کے نائب سرپرستِ اعلیٰ اور قومی اسمبلی کے رکن مولانا محمد اعظم طارقؒ نے ایوان پارلیمنٹ میں لاہور سے شائع ہونے والی شیعہ اثناءِ عشریہ کے نامور مجتہد ملا باقر مجلسی کی ایک کتاب حق الیقین کے اردو ایڈیشن کی اشاعت پر سخت احتجاج کیا مولانا محمد اعظم طارقؒ نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا: اس کتاب میں درج کیا گیا ہے کہ شیعہ کے بارہویں امام مہدی جسے ان کی زبان میں قائم آلِ محمد اور صاحب الزمان کا مقام حاصل ہے، جب ظاہر ہوں گے تو سب سے پہلے آنحضرتﷺ ان کے ہاتھ پر بیعت کریں گے اور اس کے بعد وہ آنحضرتﷺ کا روضہ اقدس توڑ کر حضراتِ شیخینؓ کو نکال کر انہیں مدینہ منورہ کے ایک درخت پر لٹکائیں گے اور ان کے جسم پر کوڑے برسائیں گے یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہے گا حتیٰ کہ قیامت آجائے گی۔
مولانا محمد اعظم طارقؒ نے آنحضرتﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمرؓ کی گستاخی پر سخت احتجاج کرتے ہوئے یہ بھی کہا:
اگر ایسا شخص ہمارے زمانے میں آیا تو ہم اس کو سخت سزا دیں گے اس کا مقابلہ کریں گے ایسے امام مہدی کا اسلام میں کوئی تصور نہیں یہ جعلی اور من گھڑت مہدی ہوگا وغیرہ۔
سپاہ صحابہؓ کے رکن اسمبلی کے اس شدید احتجاج پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا ارکانِ اسمبلی کی اکثریت نے اس کتاب کے مندرجات پر احتجاج کیا اور ایسے تصور امام پر سخت حیرت اور تعجب کا اظہار کیا۔ ادھر شیعہ ارکان اسمبلی اشتعال میں آگئے۔
مولانا محمد اعظم طارقؒ نے اسی عنوان پر پنجاب بھر میں کئی جگہ تقریریں کرکے اس تصور امام مہدی اور اس کتاب کی اشاعت پر سخت احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سلمان رشدی کی کتاب پر پابندی لگ سکتی ہے تو یہ کتاب بھی آنحضرتﷺ اور حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کی گستاخی پر مشتمل ہے اس لیے اسے فی الفور خلافِ قانون قرار دیا جائے۔
شیعہ نے مولانا محمد اعظم طارقؒ کی تقاریر کے خلاف آسمان سر پر اٹھالیا ان پر 22 اگست 1994ء کو راکٹ لانچروں سے حملہ کیا ان کے دو گن مین شہید ہوگئے خدا نے ان کو محفوظ رکھا دلائل سے تقریر کا جواب دینے کی بجائے اشتعال کا مظاہرہ وہی کرتا ہے جو دلائل سے محروم ہو۔
مولانا محمد اعظم طارقؒ نے شیعہ کے تصور امام مہدی پر بعض مقامات پر سخت لہجہ اختیار کیا تو سنی اہلِ علم حضرات نے بھی تقریر کے اصل عنوان پر غور کرنے کی بجائے ان کے ریمارکس کو اسلام کے اصل امام مہدی کی آمد اور ظہور کے خلاف قرار دیتے ہوئے تنقیدی نشتر چلائے راقم الحروف نے کئی علماء اور اہلِ سنت اکابرین کے سامنے وضاحت کی کہ امام مہدی کے ظہور کے بارے میں سپاہ صحابہؓ کا عقیدہ اہلِ سنت احناف کے عقائد کے عین مطابق ہے۔ دنیا کے تمام مسلمان حضرت امام مہدی کے جس تصور کے قائل ہیں، سپاہ صحابہؓ انہی عقائد پر ایمان رکھتی ہے بعض نافہم حضرات کو چونکہ شیعہ کے تصور امام مہدی سے سرے سے واقفیت ہی نہ تھی، انہوں نے مولانا اعظم طارقؒ کی تقریر پر غور کیے بغیر اسے اسلام کے تصور امام مہدی پر نکتہ چینی قرار دیا ہم نے اس سلسلہ میں ماہنامہ خلافتِ راشدہ میں بھی تفصیلی مضامین شائع کیے اسلام اور شیعہ کے تصور امام مہدی کا علیحدہ علیحدہ نقشہ سامنے رکھا اس موضوع پر غور کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ عنوان عام مسلمانوں کے ہاں بھی مکمل وضاحت کا متقاضی ہے۔
چنانچہ بے نظیر حکومت کی طرف سے نومبر 1995ء میں جیل یاترا کے بعد اسلام کے تصور امام مہدی علیہ الرضوان اور شیعہ کے تصور امام زمانہ کا جائزہ لیا تو دونوں میں زمین و آسمان کا فرق پایا ہر جگہ یہ حقیقت عیاں ہوئی کہ آنحضرتﷺ نے جس امام مہدی کی خبر دی تھی، شیعہ کے تصور امام مہدی سے اس کا دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔
اندریں صورت کیا مسلمانوں اور شیعہ کا تصور امام مہدی یکساں ہے؟ کتب کو کھنگالا، بحمداللہ ایک جامع اور مستند گنجینہ مرتب ہو گیا۔
زیرِ نظر کتاب کی تالیف میں شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی، استاذِ محترم حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ اور نامور بریلوی عالم حضرت مولانا محمد علی بلال گنج لاہور کی کتابوں سے کافی مدد ملی۔
اس طرح قدیم اور جدید مفکرین اور اساطینِ اسلام کے کئی ذخائر کا نچوڑ آپ کے سامنے ہے ہمیں امید ہے اس تحریر سے جہاں مسلمانوں کو تصور امام مہدی کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوں گی، وہاں شیعہ کو بھی ان کے تصور امام مہدی کے بارے میں دعوتِ فکر دیں گے اور اہلِ تشیع از سرِ نو اس تصور پر غور و فکر کرنے پر آمادہ ہوں گے خدا سے امید ہے کہ یہ کتاب حقیقت کی تفہیم میں مدد دے گی۔
ابو ریحان ضیاء الرحمٰن فاروقی
سینٹرل جیل کوٹ لکھپت، لاہور