عرض احوال - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

عرض احوال

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

حضرت امام مہدی کی سیرت و کردار اور حقیقی افکار کے موضوع پر شہید ملت اسلامیہ قائد سپاہ صحابہؓ علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ کی زیر نظر کتاب ان کے ایام اسارت کی یادگار ہے اس کتاب کی غرضِ تحریر سے خود شہید مصنف نے اپنے تحریر کردہ پیش لفظ میں قارئین کو اجمالاً آگاہ فرما دیا ہے بلاشبہ یہ رب ذوالجلال کا احسانِ عظیم ہے کہ اس نے شہید مصنف کے قلم سے اس موضوع پر یہ ضخیم اور عظیم شاہکار معرضِ وجود میں لاکر ان تمام احباب و اغیار پر حجت تمام کر دی ہے جنہوں نے 1994ء میں جرنیل سپاہ صحابہؓ آیت من آیات اللہ مولانا محمد اعظم طارقؒ کی اس موضوع پر کفر شکن تقاریر کو سنے اور سمجھے بغیر جرنیل موصوف پر بالخصوص اور سپاہ صحابہؓ پر بالعموم چاند ماری شروع کر دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا موصوف وجود امام مہدی کے منکر اور معاذ اللہ گستاخ ہیں۔ یہ حضرات اگر حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تقاریر کی وہ کیسٹس ہی سن لیتے تو یقیناً انہیں ذہنی خلجان اور روحانی صدمے سے دوچار نہ ہونا پڑتا اور حقیقت الم نشرح ہوکر ان کے سامنے آجاتی۔

جرنیل سپاہ صحابہؓ کی اس موضوع پر تقاریر تقریباً پورے پنجاب میں ہوئی تھیں۔ ان ہی تقاریر کے ردعمل کے طور پر شیعوں کے ایک متشدد اور متعصب ترین گروہ کے قائد نے اپنے چند نوجوانوں کی معیت میں برقع میں ملبوس ہوکر 22 اگست 1994ء کو شاہ پور ضلع سرگودھا میں راکٹ لانچروں اور بموں سے مولانا محمد اعظم طارقؒ پر حملہ کیا، جس کے نتیجہ میں جرنیل موصوف کے دو محافظ جامِ شہادت نوش کر گئے اور موصوف کو رب ذوالجلال نے محفوظ رکھا۔

بعد ازاں جیسا کہ شہید مصنف نے تحریر فرمایا ہے، شیعوں کے ایک ایم این اے نے قومی اسمبلی میں مولانا محمد اعظم طارقؒ پر نکتہ اعتراض اٹھاتے ہوئے یہ واویلا کیا کہ انہوں نے ہمارے امام مہدی کی توہین کی ہے۔ جس پر مولانا موصوف نے اسمبلی کے فلور پر پوری وضاحت بیان دیتے ہوئے اس بات کو آگاہ کیا کہ امام مہدی کی شخصیت تمام اہلِ اسلام کے نزدیک قابلِ احترام ہے بلاشبہ وہ قربِ قیامت میں تشریف لائیں گے اور خدا کی زمین پر خدا کا نظام عملی طور پر نافذ کرکے دنیا کو امن و سکون کا گہوارہ بنا دیں گے ان کا اسم گرامی محمد ان کے والد کا اسم گرامی عبداللہ اور والدہ کا اسم مبارک آمنہ ہوگا ابھی وہ پیدا نہیں ہوئے ہیں میں اسی امام مہدی کا احترام اپنا جزوِ ایمان سمجھتا ہوں میرے خلاف امام مہدی نام کے جس شخص کی توہین کا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، وہ صدیوں پہلے پیدا ہوا چھ سال کی عمر میں بہ اعتقاد تشیع اصلی قرآنِ مجید، صحفِ فاطمہؓ اور دیگر اہم اشیاء اٹھا کر عراق کی ایک غار سر من رای میں بھاگ گیا وہ جب ظاہر ہوگا تو تمام اہلِ سنت کو قتل کر ڈالے گا پوری دنیا میں اہلِ تشیع کی حکومت قائم کرے گا حرمین شریفین پر قبضہ کرکے روضہ رسولﷺ کو کھولے گا سیدنا صدیقِ اکبرؓ اور سیدنا فاروقِ اعظمؓ کو زندہ کر کے درختوں پر سولی چڑھائے گا اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی بے حرمتی کرے گا وغیر ذالک من الخرافات۔

مولانا محمد اعظم طارقؒ نے پورے ہاؤس کو متوجہ کرتے ہوئے ببانگ دہل فرمایا کہ میں اس بدبخت اور فرضی مہدی کو تسلیم نہیں کرتا نیز یہ کہ اگر یہ مہدی بالفرض میری زندگی میں آگیا تو میں اسے عبرت ناک انجام سے دوچار کروں گا جس وقت مولانا محمد اعظم طارقؒ یہ گفتگو کر رہے تھے پورے ایوان میں سناٹا چھایا ہوا تھا چنانچہ معترض رکنِ اسمبلی کو پھر سر اٹھانے کی جرات نہ ہوئی۔

نومبر 1995ء میں قائد سپاہ صحابہؓ علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقیؒ اور جرنیل سپاہ صحابہؓ مولانا محمد اعظم طارقؒ کو بے نظیر حکومت نے گرفتار کیا اور جھوٹے مقدمات کی آڑ میں بہاولپور، ملتان، لاہور اور راولپنڈی کی جیلوں میں قید رکھا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی کا شاہکار قلم جو 1990ء میں آپ کے سپاہ صحابہؓ کی قیادت سنبھالنے کے بعد تقریباً مہرلب تھا، ناگہانی اسارت کے آغاز میں ہی حرکت میں آیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں صفحات مختلف دینی حقائق کی روشنی سے روشن ہوگئے اور چوبیس علمی و ادبی شہ پارے وجود میں آگئے زیرِ نظر کتاب بھی اسی اسارت کا حاصل ہے شہید مصنف کو 18 جنوری 1997ء بمطابق 8 رمضان المبارک بروز ہفتہ سیشن کورٹ لاہور میں ایرانی طاغوت کی طرف سے ریموٹ کنٹرول بم کا نشانہ بنا کر شہید کردیا گیا۔ 

اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّـآ اِلَيۡهِ رٰجِعُوۡنَ ۞

آپ کی شہادت کے سانحہ فاجعہ کے بعد جرنیل سپاہ صحابہؓ مولانا محمد اعظم طارقؒ کے فرمان پر قائم کردہ فاروقی شہید اکیڈمی کے خادم کی حیثیت سے اس کتاب کی تصحیح و طباعت کی سعادت بندہ ناچیز کو حاصل ہو رہی ہے۔ اس کام میں بندہ کو جرنیل سپاہ صحابہؓ کی سرپرستی اور خصوصی دعاؤں کے علاوہ جناب انجینئر طاہر محمود صاحب (چیف ایڈیٹر ماہنامہ خلافت راشدہ) برادرم جناب قاری عبد الغفار سلیم صاحب و برادرم قاری شبیر احمد صدیقی صاحب کا خصوصی تعاون حاصل ہے یہ حضرات بندہ کی طرف سے یقیناً شکریہ کے مستحق ہیں پروردگار انہیں اجر عظیم سے نوازے۔

بندہ قارئین کے مفید مشوروں کا منتظر ہے۔  

راقم: ثناء اللہ فاروقی شجاع آبادی  

ناظم فاروقی شہید اکیڈمی سمندری

  9-10-1997