Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تیسرا مسئلہ پاؤں کا مسح

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

ہر مذہب کے مسلمان وضو میں پاؤں دھونا فرض سمجھتے ہیں لیکن شیعہ عقل و نقل (قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا قُمۡتُمۡ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغۡسِلُوۡا وُجُوۡهَكُمۡ وَاَيۡدِيَكُمۡ اِلَى الۡمَرَافِقِ وَامۡسَحُوۡا بِرُءُوۡسِكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ اِلَى الۡـكَعۡبَيۡنِ‌ الخ۔

(سورۃ المائدہ: آیت 6)

یہاں وَاَرۡجُلَكُمۡ منصوب واقع ہوا ہے جو فَاغۡسِلُوۡا کا معمول ہے اور یہی قرآت مشہور و متواتر ہے اور اِلَى الۡـكَعۡبَيۡنِ‌ میں اِلَى تحدید کے لیے ہے اور یہ بھی پاؤں دھونے کے حکم پر دلالت کرتا ہے کیونکہ حد بیان کرنا مغسولات کے لیے ہی فائدہ دیتا ہے نہ کہ ممسوحات کے لیے کیونکہ سچ میں خفت مقصود ہوتی ہے نہ استیعاب اور غسل میں چونکہ استیعاب مقصود ہوتا ہے اس لیے اِلَى الۡـكَعۡبَيۡنِ‌ سے اس کی حد بیان فرمائی سے (احقر مظہر حسین غفرلہ) 

کے خلاف پاؤں دھونے کی بجائے مسح کی فرضیت کے قائل ہیں یہ عجیب بات ہے کہ منہ ہاتھ جن پر نجاست پڑنے کا بہت کم احتمال ہوتا ہے وہ تو دھوئے جائیں لیکن پاؤں جن سے زمین پر چلتے ہیں اور جن کے پلید ہونے کا احتمال ہے ان پر صرف مسح کر لینا کافی سمجھا جائے جو اعضاء کھلے رہتے ہیں مثلاً منہ، ہاتھ، پاؤں، چونکہ گرد و غبار پاک و پلید اڑ کر ان پر پڑا کرتا ہے اور میل کچیل جم جاتی ہے (وضو کی فرضیت اس لیے ہے کہ اعضاءِ وضو دھو لینے سے دماغ کو فرحت ہوتی ہے تکاسل دور ہو جاتا ہے اور انسان خوش و خرم کھڑا ہو کر بارگاہِ ایزدی میں اپنا عرض احوال کرنے کے قابل ہو جاتا ہے یہ بھی قاعدہ ہے کہ اطراف (ہاتھ پاؤں) دھونا باعثِ تفریح طبع اور رفع تکاسل ہوتا ہے جب کسی کو بخار ہو تو طبعی علاج یہ بھی ہے کہ پاشویہ کرایا جاتا ہے جس سے بخار دور ہو کر صحت عود کرتی ہے۔ پھر یہ غرض تب ہی حاصل ہو سکتی ہے کہ منہ ہاتھ کے ساتھ پاؤں بھی دھوئے جائیں پاؤں پر صرف مسح کرنے سے یہ فائدہ ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے شارع علیہ السلام نے صفائی بدن کے لیے ان کا دھونا فرض قرار دیا ہے لیکن سر چونکہ ہر وقت ڈھکا رہتا ہے اور جملہ اعضاء سے بلند تر ہے، اس کی نجاست کا احتمال تک نہیں ہو سکتا اس لیے تبرید دماغ کے لیے اس کا صرف مسح کر لینا کافی سمجھا گیا ہے لیکن شیعہ چونکہ عقل کے دشمن ہیں اور دیگر مسلمانوں سے خلاف کرنا ان کا شیوہ ہے پاؤں کو دھونے کی بجائے اُن پر مسح کر لیا کرتے ہیں اور پھر اس پر بھی اطمینان نہیں ہو سکتا، پہلے دھولیا کرتے ہیں، پھر بعد وضو مسح بھی کر لیا کرتے ہیں (یا للعجب) خدا نے قرآن میں سب سے اول منہ دھونے کا حکم دیا ہے لیکن شیعہ کا طرز خلافِ قرآن یہ ہے کہ منہ دھونے سے اول پاؤں دھویا کرتے ہیں۔