شیعہ عقیدہ کے مطابق جس کا تفصیلی ذکر تقابلی جائزہ کے عنوان میں آ رہا ہے سیدنا مہدی کے ہاتھ پر آنحضرتﷺ بیعت کریں حضراتِ شیخینؓ کی لاشوں کو برہنہ کر کے ان پر کوڑے برسائے جائیں، دنیا بھر کی مسلم مساجد کو گرا دیا جائے، کعبہ اور مسجدِ نبوی کو منہدم کر دیا جائے اہلِ سنت علماء کو قتل کر دیا جائے، سیدہ عائشہؓ کی قبر پر کوڑے برسائے جائیں ہم اسے کفر و زندقہ سے تعبیر کریں گے ان عقائد کے حاملین کو کافر، مرتد اور دائرہِ اسلام سے خارج کہیں گے۔
اگر ہمارے دور میں سیدنا مہدی کے نام سے کوئی ایسا شخص ظاہر ہوا اور اس نے ان کارناموں کا آغاز کیا تو دنیا بھر کا مسلمان اس کی شدید مزاحمت کرے گا۔ کوئی کمزور سے کمزور مسلمان سیدنا مہدی کے اس تصور کو اسلام کے سیدنا محمد المہدی کے تصور کے ہم المثل قرار نہیں دے سکتا میں منصف مزاج شیعہ سے کہوں گا وہ اپنی بنیادی کتابوں میں شامل سیدنا مہدی کے تصور اور ان کے کارناموں کی اس فہرست کی وضاحت کریں اصولِ کافی، حق الیقین، رجالِ کشی، عین الحیوۃ، بحار الانوار، منتہی الامال کسی عام شیعہ اور غیر ثقہ اثناء عشریہ کی کتب نہیں ہیں ان کے مصنفین کو تمہارے ہاں مجتہد اور امام کا درجہ حاصل ہے۔